جنگ آزادی میں بی اماں کا کردار-پروفیسر صالحہ رشید

صدر شعبہ عربی و فارسی ،الہ آباد یونیورسٹی

بھارت کی آزادی کی ۷۵ ویں سالگرہ کے موقع پر حکومت ہند کے ذریعہ ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ منایا جا رہا ہے۔۱۵/اگست ۲۰۲۲ء سے ۷۵/ہفتہ قبل اس پروگرام کی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ایسے موقع پر ان ہستیوں کو یاد کرنا ضروری ہو جاتا ہے جن کے خون کے قطروں سے لفظ آزادی لکھا جا سکا۔جنگ آزادی میں خواتین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور کارہای نمایاں انجام دئے۔انھیں خواتین میں ایک سر بر آوردہ شخصیت آبادی بانو بیگم کی ہے جنھیں ہم بی اماں کے نام سے جانتے ہیں۔
’ فروغ کہکشاں کو ناز ہے جن کی جبینوں پر‘جن دنوں اقبال ان روشن جبینوں کی بات کر رہے تھے جن پر فروغ کہکشاں ناز کر سکے اسی دوران یعنی بیسویں صدی کے اوائل میں بی اماں جیسی خاتون جنگ آزادی کی قیادت کرتی نظر آتی ہیں۔ جن کے لئے یہ کہنا مناسب ہوگا :
ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ
وہ دیکھو ایک عورت آ رہی ہے
در اصل ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلم خواتین نے بھی انتہائی اہم رول ادا کیا ۔کچھ نے اپنے شوہروں کا شانہ بہ شانہ ساتھ دیا تو کچھ بذات خود اس جنگ میں شامل رہیں ۔ان میں ایک نام آبادی بانو بیگم یعنی بی اماں کا ہے جسے سنہری حروف میں لکھا جانا چاہئے ۔آپ مولانا محمد علی جوہر کی والدہ ہیں اور بنفس نفیس اس جنگ میں شامل رہیں۔سیدالا حرار مولانامحمدعلی جوہر کی عہد ساز شخصیت کو پہچاننے کے لیے ان کی والدہ کی شخصیت سے متعارف ہونا لازمی ہے ۔ اولاً اس لیے کہ آپ ان کے بطن سے معرض وجود میں آئے۔ دوئم اس لئے کہ انھوں نے آپ کی پرورش و پرداخت کی۔ عموماً یہ دونو ں ہی ذمہ داریاں ایک ماں کی ہوتی ہیں ۔ بچے کی پیدائش پھرپرورش، تعلیم و تربیت کا عمل اکثر ماں کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ لیکن کچھ مائیں ایسی ہیں جنھوں نے بظاہر معمولی نظر آنے والی ذمہ داری کو اس طرح نبھایاکہ جس کی بدولت ان کا نام تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے درج ہو گیا۔ ایسی ہی تاریخ ساز ماؤں میں ایک ذات بی اماں کی ہے ۔ بی اماں یعنی محمد علی وشوکت علی کی ماں یعنی آبادی بانو بیگم جو اپنے اصل نام کی بجائے اپنی کنیت سے معروف ہویئں اورنہ فقط علی برادران بلکہ وہ تو مسلم غیر مسلم ، ہر کس و ناکس گویا پوری خلافت تحریک اور پورے ملک و قوم کی ماں ہو گیئں۔
آبادی بانو بیگم کی ولادت ۱۸۵۲ ءمیں رامپور اتر ّپردیش میں ایک ایسے خانوادے میں ہو ئی جس کے تار لال قلعہ سے ملتے تھے۔ ۱۸۵۷ء ؁میں جب انگریز حکومت کے خلاف ہندوستانی اٹھ کھٹرے ہوئے اس وقت آبادی بانو بیگم کی عمر محض۵ برس تھی ۔ انھوں نے ایسے پر آ شوب ماحول میں آنکھ کھولی کہ اسکولی تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہیں ۔ گھر پر ہی کلام پاک ختم کیا اور اسلامی تعلیم سے مزین ہوئیں ۔ جہاں ایک طرف انھیں اللہ اور اس کے رسول ٌ سے والہانہ محبت تھی وہیں دوسری طرف وہ انتہائی با شعور اور با سلیقہ خاتون بھی تھیں ۔ مذہب اسلام جو شعوری اور غیر شعوری طور پر ان کی رگ و پی میں سمایا ہوا تھااس کی روشنی میں انھوں نے اپنے حقوق و فرائض کی ادائیگی، اپنی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی اور معاشرہ کی ذمہ داری اٹھانی سیکھ لی۔ خلوص و بے غرضی، ایثار و قربانی ، پاکیزہ فکر و عمل، اخوت ، محبت، شرافت، خدمت خوش اخلا قی اور مروت جیسی شریفانہ قدروں کی بھی حامل ہویئں ۔ ان کے شوہر عبدالعلی خان بھی رام پور میں ہی ۱۸۴۸ء ؁میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کے افراد رام پور ریاست میں مختلف عہدوں پر فایز تھے وہ خود بھی رام پور اسٹیٹ میں ملازم تھے۔
آبادی بیگم اور عبدالعلی خان کے رشتئہ ازدواج سے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ بیٹوں میں بندہ علی، ذوالفقارعلی، شوکت علی، نوازش علی، اور سب سے چھوٹے محمد علی اور بیٹی محمدی بیگم ہوئیں۔ ان کے شوہر کا جلد ہی ہیضہ کے مرض میں مبتلاہو کر ۱۷ ِ رمضان المبارک ۱۲۹۷ ھ بمطابق ۲ اگست۱۸۸۰ءفقط ۳۲ برس کی عمر میں انتقال ہو گیا ۔ اس وقت آبادی بانو بیگم کی عمر ۲۷ برس سے زیادہ نہ تھی۔ اتنی کم عمر میں بیوگی دیکھ کر لوگوں کو ان سے بہت ہمدردی ہوئی۔کچھ نے تو از راہ ہمدردی انھیں دوسری شادی کا مشورہ دے ڈالا۔ اس پر آبادی بانو بیگم نے انتہائی صبر و استقلال کا مظاہرہ کرتے ہو ئے انھیں جواب دیا ’’ میرے شوہر نے میری کافی دیکھ بھال کی ہے اور اب میں اپنے پانچ شوہرو ں (لڑ کوں ) اور ایک بیوی (لڑکی )کی دیکھ بھال کرونگی ۔ اس وقت محمد علی جو سب سے چھو ٹے تھے ان کی عمر یہی کوئی پونے دو برس تھی۔ ان کے بٹرے بیٹے بندہ علی کی وفات کم عمر میں ہی ہو گئی اور نوازش علی تیرہ چودہ برس کی عمر میں گذر گئے۔ ان کی بیٹی محمدی بیگم کی شادی ان کے چچازاد بھائی یعنی عبدالعلی خان کے بھائی اصغر علی کے بیٹے یو سف علی سے ہوئی۔ جب ان کے بڑے بچے کی موت واقع ہوئی تو آبادی بانو نے یہ دکھ انتہا ئی صبر وتحمل سے برداشت کیا اور کہا ’’ ہمیں اللہ کی مرضی پر سر جھکا نا چاہیے۔ ہماری زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ ہے اس نے جو دیا وہ واپس بھی لے سکتا ہے۔‘‘
شوہر کے گذر جانے کے بعد بچو ں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی پوری ذمہ داری آبادی بانو پر آ گئی۔ وہ خود زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن نئی تعلیم کی زبردست حامی تھیں ۔ گھر میں کچھ خاص سرمایہ تھا نہیں اس پر طرہ یہ کہ شوہر کی وفات کے بعد ان پر تیس ہزار کے قرض کا بو جھ بھی آن پٹرا۔ بہ الفاظ دیگر انھیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پٹرا ۔ تنگ دستی کے با وجود وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے مز ین کرنے کا خواب مستقل دیکھتی رہیں۔ گو کہ خود انھوں نے فقط کلام پاک ناظرہ پٹرھا ہوا تھا لیکن پٹرھنے کا شوق بے انتہا تھا وہ غیر معمولی یادداشت رکھتی تھیں اور جب کبھی ان کے شوہر کوئی کتاب گھر میں چھوڑکر چلے جاتے تھے تو وہ کسی سے وہ کتاب پڑھوا کر سنتیں اور اسے ازبر کر لیتیں۔ وہ پردے کی بھی خاص پابندی کرتی تھیں۔ ان سب کے ہمراہ انھوں نے اپنے بچوں کو ہمت و استقلال کے ساتھ زندگی گذارنے کی تلقین کی ۔ وہ بے انتہا سخت کوش تھیں اور اپنے پاکیزہ ارادوں پر مضبوطی سے قائم رہتی تھیں ۔ اس بنا پر ان کے اپنے پرائے مخالف ہو گئے۔ انھوں نے ان کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ زندگی کے تجربات نے انھیں بیدار مغز بنا دیا تھا ۔ ان کا خواب تھا کہ ان کے بچے اعلی تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کی خدمت کریں۔ اس لئے انھوں نے اپنے زیور اور اپنی جاگیر کا بہت بٹرا حصہ فروخت کر ڈالا۔ وہ جاگیر جو ان کے خسر علی بخش خان کی کمائی ہوئی تھی۔ یہ سب علی بخش نے غدر کے زمانے میں روہیل کھنڈ اور کمایوں میں متعدد انگریزوں اور افسروں کی جان بچانے کے صلے میں حاصل کی تھی ۔ خاندان والوں کی مخالفت کے با وجود انہوں نے بیٹے شوکت علی کو بریلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا ۔ کچھ عرصہ بعد محمد علی بھی بریلی پہونچ گئے۔ مولانا محمد علی جوہر کا اپنا بیان اس معا ملے پر بھر پور روشنی ڈالتا ہے ۔
’’ ہمارے چچاؤں کی اولاد کے مقابلے سب سے پہلے ہمیں کو گھر سے باہر نکال کر بریلی اسکول میں داخلے کے لیے والدہ مرحومہ نے بھیجا ۔شوکت صاحب جس طرح ریاست رام پور کے باشندوں میں غالباً سب سے پہلے کسی ہندوستانی یونیورسٹی کے گریجویٹ ہوئے اسی طرح ان میں سب سے پہلے میں آکسفورڈ گریجویٹ ہوا۔ ہمارے سب سے بڑے چچا جو ہماری جایداد کا انتظام فرمایا کرتے تھے اور ریاست میں ایک بٹرے عہدے پر فایز تھے اس وقت زندہ تھے ۔ جب میں ان کا سب سے چھوٹے بھائی کا سب سے چھوٹا لڑ کا اور ایک بیوہ کا پرورش کردہ اس ریاست میںان سے بھی بڑے عہدے پر مقرر کیا گیا تو انھوں نے اس اعزاز پر مجھے گلے لگالیا اور پیار کیا ‘‘
ایسی ہی ماں کی عظمت کو علامہ اقبال نے اس شعر میں نظم کیا ہے:
تربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہوا گھر میرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوا
آبادی بانو نے بچپن سے ہی اپنے خاندان اور ارد گرد ایسے حادثات دیکھے کہ انگریزوں کے خلاف غصہ اور قوم کی خدمت کاجذبہ ان کے اندر ہر دم موجزن رہتا ۔ ان کے خاندان کا تعلق چونکہ لال قلعہ سے تھا اس لیے انگریز اس خاندان کے لوگوں سے بر ملا دشمنی برتتے تھے ۔ آبادی بانو کے چچا کو ۷۰ سال کی عمر میں مرادآباد میں پھانسی دی گئی ۔ ان کی شجاعت کا یہ عالم تھا کہ انھوںنے خود ہی پھانسی کا پھندہ گلے میں ڈال لیا ۔
آبادی بانو کے تینوں بیٹے آگے چل کر بہت مشہور ہوئے۔ چھوٹا بیٹا محمد علی انتہائی قابل اور بہادر بھی تھا لیکن اس کے ساتھ اسے غصہ بھی بہت آتا تھا ۔ اس کی فطرت میں شروع سے ہی رہنمائی کے آثار نمایاں تھے ۔ بریلی اسکول ہی میں وہ بچوں کا لیڈر بن گیا ۔ اپنے بچوں کی کردار سازی میں آبادی بانو کا گہرا دخل رہا ۔ وہ اللہ سے اپنے بچوں کے لیے مومنانہ سیرت عطا کرنے کی دعائیں مانگتی تھیں۔ حتیٰ کہ حج کو گئیں تو خانہ کعبہ کا غلاف پکٹر کر دعا مانگی کہ اے اللہ میرے بچے بٹرے ہو گئے ہیں انھیں اسلام کی راہ پر چلا۔ان کے دو بیٹے شوکت علی اور محمد علی ان کے خواب کی تعبیرتھے ۔ان دونوں کی شخصیت پر ان کی والدہ کا مکمل نقش ثبت تھا ۔ جیسی با ہمت ماں ویسے ہی شجاع بیٹے ۔ محمد علی جوہر پر ان کی والدہ کی تعلیم و تربیت کا ہی نتیجہ تھا کہ انھیں کسی ریاست کی ملازمت قطعی پسند نہ آتی۔ اس لیے وہ ملازمت چھوڑ کرتحریک آزادی میں پوری شدت سے سر گرم ہوئے۔ بس پھر کیا تھا قید و بند کی صعوبتوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا ۔ یہاں تک پہو نچتے پہونچتے محمد علی کافی مشہو ر ہو چکے تھے اور ان کی والدہ یعنی آبادی بانو بیگم عوام میں بی اماں جانی جانے لگی تھیں ۔ بی اماں کو ہندوستانیوں کا انگریزوں کے رنگ میں رنگنا قطعی پسند نہیں تھا ۔ وہ لوگوں کو انگریزوں کے طرز چھوڑ نے کے لئے سمجھاتیں۔ ان کے نزدیک فرنگیوں کی خدمت اور ان کے انعام و اکرام حاصل کرنا معیوب تھا ۔ وہ انگریزوں کی چالاکی و مکاری بھانپ چکی تھیں ۔ جب محمد علی جیل جاتے بی اماں بہت جذباتی ہو جاتیں۔ وہ جیل جا کر اپنے بچے کو سمجھاتیں کہ بیٹا ! اسلام پر قائم رہنا چاہے تمھاری جان چلی جائے۔ اسی مناسبت سے کسی نا معلوم شاعرکے یہ اشعار بہت مشہور ہوئے:
بولیں اماں محمد علی کی جان بیٹا خلافت پہ دیدو
ساتھ میں تیرے شوکت علی بھی جان بیٹا خلافت پہ دیدو
میرے ہو تے اگر سات بیٹے کرتی سب کو خلافت پہ صدقے
ایک مرتبہ بی اماں کی موجودگی میں کسی نے محمد علی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ’’ اماں یہ سب آپ کی انتھک کوششوں اور تربیت کا نتیجہ ہے جس نے جوہر کو اتنی شہرت اور مقبولیت دلائی۔ بی اماں نے فوراً جواب دیا ۔ تم غلط ہو یہ اللہ کا انعام ہے کیوںکہ وتعز من تشاء و تزل من تشاء۔
بی اماں کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ محمد علی تقریر کرتے ہوئے کہتے تھے کہ میں حضرت رابعہ بصریؓ کے قول کے مطابق یاد دلاتا ہوں کہ صلوٰۃ عشق کا وضو خون سے ہوتا ہے۔ بی اماںکے بچے جیل میں ہوتے تو وہ خود خلافت تحریک زندہ رکھنے کی کوشش کرتیں۔ وہ ایک ایسی با حوصلہ خاتون تھیں جو خود بٹرھ چٹرھ کر تحریک آزادی میں حصہ لیتیں۔ نوجوانوں کی قیادت کرتیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کرتیں۔ غرض کہ ان کی سادہ زندگی ہنگامہ خیزی سے پر تھی۔ فرائض مسلسل سے بھی کبھی انھوں نے چشم پوشی نہیں کی ۔ ۱۹۱۲ء میں ۶۰ برس کی عمر میں بھی چاق و چوبند تھیں ۔
ایک مرتبہ علی برادران گرفتار ہوئے تو کافی لوگ فکر مند ہو گئے اور ان کی رہائی کی تدبیر کرنے لگے۔ وہ انگریزوں کے ایک معاہدہ پر بنا شرط دستخط کر دیتے تو رہاہو جاتے لیکن بی اماں اس موقع پر انتہائی سخت تیور کے ساتھ باہر آئیں اور انھوں نے کہا کہ ہمارے لڑکے کبھی حکومت کے باغی نہ تھے ، لیکن اسلامی فریضہ اولیت رکھتا ہے اور اگروہ اس معاہدے پر بلا شرط دستخط کریں گے تو اللہ تعالیٰ میرے جھریوں بھرے ہاتھوں میں طاقت دے گاکہ میں ان دونوں کا گلا گھونٹ دوں۔
محمد علی کو اتنی با حوصلہ بی اماں کی تربیت حاصل تھی۔ ایک مرتبہ انھوں نے جامع مسجد کی سیٹرھیوں پر ایک مصور کو تصویر بناتے دیکھا۔ اس نے ایک بھکارن اور دو بچوں کو پھٹے کپڑوں میں بھیک مانگتے دکھایا ۔ مولانانے تصویر دیکھ کر مصور سے کہااس عورت کے نیچے یہ اور لکھ دو ۔Her father built it ۔کتنا بلیغ ہے یہ جملہ اور محمد علی پر ان کے ماں کی تربیت کا ترجمان ہے۔ اپنی ماں کی محبت ممتا اور تربیت سے متاثرمحمد علی بھی اپنی زوجہ اور بیٹیوں کا بے انتہا خیال رکھتے تھے ۔ ان کی چا ر بیٹیوں میں ایک بیٹی آمنہ کا انتقال بی اماں کی زندگی میں ہوا ۔
بی اماں نے نہ فقط اپنے بیٹوں کے دل میںخوف خدا اورخدمت ملک و قوم کے جذبے کو سرایت کیا بلکہ وہ خود بھی قومیت کے جذبے سے سرشار ایک بھٹرکتا شعلہ تھیں ، عوام کے دل میں قومیت کا جذبہ جگانے کی خاطر وہ دور دراز کا سفر کرتیں۔ جلسے کرتیںاور پر اثر تقریریں کرتیں۔ ان کی گفتگو اتنی دلآویز ہوتی کہ مجمع کو ذہنی اور فکری طور پر تیار کرکے خلافت کی حمایت میں کھٹرا کر دیتیں۔ ۱۹۱۵ء میں جب علی برادران کو نظر بند کیا گیا تو بی اماں پر اس کا بہت اثر ہوا۔ ان کی صحت کچھ خراب رہنے لگی۔ ۱۹۲۱ء میں جب ان کے بیٹوں کو دوبارہ گرفتار کیا گیا تو وہ خود کو روک نہ پائیںاور تحریک آزادی کی سپاہی بن کر میدان میں آگئیں۔ وہ زیادہ عمر کے باوجود لمبے سفر کرتیں۔ نہ صرف ٹرین کا سفر بلکہ بیل گاڑی اور پیدل سفر بھی ان کے جوش میںکمی نہ لاتے۔ دوران سفر ٹرین رکتی تو اسٹیشن پر ہجوم بی اماں کو دیکھنے اور ان کی تقریر سننے کی خاطر جمع ہو جاتا ۔ دیر رات تک جلسے کرتیں، تقریریں کرتیں لیکن دیگر مذہبی و خانگی امور کی ادائیگی میں ذرہ برابرفرق نہ پٹرتا۔
۱۸/اگست ۱۹۲۰ء کوبی اماں تحریک خلافت کے جلسے میں اپنے بیٹے مولانا شوکت علی کے ہمراہ کیرالہ تشریف لائیں۔یہ جلسہ کالیکٹ کے ساحل پر منعقد ہوا تھا۔انھوں نے یہاں کی عوام کو اردو میں مخاطب کیا تھا۔ ۱۹۲۲ ءمیں بی اماں نے اپنے بیٹے محمد علی کے ساتھ یوپی کے علاقوں کا دورہ کیا تو اسی سلسلے میں آپ سہارن پورتشریف لے گئیں۔ مجلس خلافت سہارن پورکی جانب سے آپ کا پر زور استقبال ہوا ۔ مختلف پروگرام ترتیب دیے گئے، ان کے علاوہ عورتوں کا بھی ایک بڑا جلسہ منعقد ہوا۔ اس جلسے میں بی اماں نے انتہائی پر اثر اور درد انگیزتقریر کی ۔ اس موقعہ پر عورتوں نے مجلس خلافت کوکثیر امداد کی اور یہاں تک کہ اپنے زیورات بی اماںکی پکار پر امداد کے لیے پیش کر دئے۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے ان کے اسی دورے کے سلسلے میں تحریرکیا ہے کہ ۱۹۲۳ء میں ان کے والد ماجد مولانا حکیم سید عبدالحئی صاحب کا انتقال ہوا اور بی اماں رائے بریلی آئیں تو ان کے گھر ان کی والدہ مرحومہ جو عدت میں تھیں ان کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لائیں۔ قوم کی خدمت کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے  ان کی ہمدردی اور خلوص بر قرار تھا ۔ ۱۹۲۳ ء کا ہی واقعہ ہے بی اماں کی صحت قدرے خراب رہنے لگی تھی لیکن پھر بھی انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تقسیم اسناد کے جلسے میں شرکت کی اور ایک مختصر تقریر بھی کی ان الفاظ میں۔’’ بیٹا میں نے برقع اتار دیا ۔ اب اس ملک میں کسی کی آبرو باقی نہیں رہی جو میں برقع پہنوں۔ میں نے اپنے جھنڈے کو لال قلعہ سے اترتے دیکھا ہے۔ میری آرزو ہے کہ اس بدیسی جھنڈے کو بھی لال قلعہ سے اترتے دیکھوں۔‘‘
کامریڈ اور ہمدرد اخبارمحمد علی کے دل کے بہت قریب تھے ۔ بی اماں کا دخل ان اخباروں کی اشاعت میںتھا ۔ ۱۹۲۴ء میں جب کامریڈدوبارہ چھپنا شروع ہوا تو بی اماں چلنے پھرنے میں دشواری کے باوجود خود پریس گئیں۔ پر وف دیکھا اور کارکنوںمیں شیرینی تقسیم کی۔اسی دوران خلافت تحریک کا خاتمہ ہو گیا ۔ بی اماں اس کی تاب نہ لا سکیں ۔ بالآخر ۱۹۲۴ء ؁میں ہی ۱۲۔۱۳نومبر بدھ وجمعرات کی درمیانی شب دو بج کر دس منٹ پر ہندوستان کی اس مایہ ناز ہستی نے ملک بقا کو لبیک کہا ۔ وہ جو پورے ملک اور قوم کی بی اماں تھیں جو ایک بے غرض مجاہدہ تھیں اپنوں سے جدا ہو گئیں۔ یہ وہ بی اماں تھیں جنہیں نہ صرف ساری سیاسی جماعتوں کے قائدین اور عوام بی اماں کہتے تھے۔بلکہ خود مہاتما گاندھی بھی ا نہیں بی اماں ہی کہتے تھے ان کی رحلت پر پورا ملک غم کے سمندر میں ڈوب گیا ۔تمام تعزیتی جلسے کئے گئے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔اناللہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس قوم کو پھر ایک بی اماں سے نواز دے، آمین۔