جنگ آزادی اور مسلمان ـ معصوم مرادآبادی

 

جنگ آزادی کے عظیم ہیروٹیپو سلطان شہید پر شہرۂ آفاق ناول لکھنے والے بھگوان گڈوانی کا بیان ہے کہ انہیں یہ ناول لکھنے کی ترغیب اس اجنبی فرانسیسی نوجوان نے دلائی تھی‘ جو لندن میں برٹش میوزیم سے نکلتے ہوئے چند لمحوں کے لئے ان کا ہم سفر ہوا تھا ۔اس نوجوان کو بارش سے بچنے کے لئے گڈوانی نے اپنی چھتری میں پناہ دی اور وہ اس کے ساتھ کافی ہاوس چلے گئے ۔باتوں باتوں میں اس نے بتایاکہ’’ وہ ان بادشاہوں پر ریسرچ کررہا ہے جنہوں نے میدان جنگ میں لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا ‘لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ پوری دنیا میں ٹیپو سلطان کے علاوہ ابھی تک کوئی ایسا بادشاہ نہیں ملا جس نے جنگ کے میدان میں لڑتے ہوئے شہادت پائی ہو۔بیشتر بادشاہ یا تو بھاگ گئے یا پکڑے گئے یا ہتھیار ڈالے اور مارے گئے ۔‘‘اس بات سے بھگوان گڈوانی اتنا متاثر ہوئے کہ انہوں نے ٹیپو سلطان پر ریسرچ کرنے کا فیصلہ کیا اور دنیا کی کئی بڑی لائبریریوں اور آرکائیوز کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک انتہائی لا جواب ناول ’’دی سورڈ آف ٹیپو سلطان ‘‘تخلیق کیا ۔
بھگوان گڈوانی نے یہ باتیں مجھے ایک انٹرویو کے دوران جنوری 1990میں اس وقت بتائی تھیں جب ان کے ناول پر سنجے خان نے ایک انتہائی متاثر کن ٹی وی سیریل بنایا تھا ۔کچھ فرقہ پرست عناصر اس سیریل کو دوردرشن پر ٹیلی کاسٹ کئے جانے کے خلاف تھے اور انہوں نے اس سیریل کے خلاف طوفان برپا کررکھا تھا ۔حالانکہ بھگوان گڈوانی کے ناول کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی تھی اور اس کی ڈھائی لاکھ کاپیاں فروخت ہوچکی تھیں ۔ٹیپو سلطان کی مخالفت آج بھی جاری ہے ۔
شیر میسور ٹیپو سلطان نے 4مئی 1799کو سرنگا پٹنم کے مقام پر انگریزوں سے لوہا لیتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا ۔انہوں نے انگریز سپا ہ کا مقابلہ اتنی بہادری اور جرأت کے ساتھ کیا کہ ان سے لوہا لینے والی فوج کے انگریز کمانڈر نے کہا تھا کہ ’’ٹیپو سلطان نے ایک شیر کی طرح جنگ کی ۔‘‘ جام شہادت نوش کرنے کے بعد بھی انگریز سپاہیوں پر ٹیپوسلطان کا رعب اتنا زبردست تھا کہ وہ ان کی لاش کے قریب جاتے ہوئے ڈرتے تھے ۔کسی طرح ہمت پیدا کرکے وہ وہاں پہنچے اور ان کے سینے پر پاوں رکھ کر کہا کہ ’’آج ہندوستان ہمارا ہے ۔‘‘ ٹیپو سلطان کا یہ قول آج بھی تاریخی کتابوں میں سنہرے لفظوں سے لکھا ہوا ہے کہ ’’گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہوتی ہے ۔‘‘
مادر وطن کی حفاظت کے لئے غیر معمولی جرأت اور بہادری کی مثال صرف ٹیپو سلطان نے ہی پیش نہیں کی بلکہ ایسے ہزاروں واقعات نقل کئے جاسکتے ہیں جن میں مسلمانوں نے ہندوستان کی آزادی کے لئے بے مثال قربانیاں دیں اور جذبہ ٔحریت کی مثالیں قائم کیں ۔1857کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے دہلی میں وحشیانہ قتل عام کیا اور ہر درخت پر حریت پسندوں کی لاشیں لٹکا دیں ۔اسی دوران آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو قید کر لیا گیا ۔انگریزوں نے ان کے بیٹوں اور پوتوں کے سر قلم کرکے ایک طشتری میں سجا کر انہیں پیش کئے ۔اپنے جگر پاروں کے کٹے ہوئے سر دیکھ کر بہادر شاہ ظفر نے اپنا سر فخر سے بلند کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’خاندان تیموریہ کے فرزند ایسے ہی سرخرو ہوکر پیش ہوتے ہیں ۔‘‘ دنیا میں جدوجہد آزادی کی کوئی تاریخ جذبہ حریت کی ایسی لازوال مثال پیش کرنے سے قاصر ہے ۔
تحریک خلافت کے رہنما اور عظیم مجاہد آزادی مولانا محمد علی جوہر کی قربانیوں سے کون واقف نہیں ۔انہوں نے ہندوستان کی آزادی کے لئے ہمہ وقت جدوجہد کی اور انگریزوں کی غلامی قبول کرنے سے انکار کردیا ۔لندن کی گول میز کانفرنس میں انگریز سامراج کو چیلنج کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ’’میں اپنے ملک کو اسی حالت میں واپس جا سکتا ہوں جبکہ میرے ہاتھوں میں آزادی کا پروانہ ہوگا ۔اگر آپ نے ہندوستان کو آزادی نہیں دی تو پھر آپ کو یہاں مجھے قبر کے لئے جگہ دینی پڑے گی ۔‘‘ اپنے اس انقلابی بیان کی لاج مولانا محمد علی جوہر نے ایسے رکھی کہ وہ ہندوستان واپس نہیں آئے اور انہوں نے 4جنوری 1931کو لندن میں اپنی جان جان ِآفریں کے سپرد کردی ۔مولانا محمد علی جوہر ہندوستان کی جنگ آزادی کے ایسے سپاہی تھے جن کی مثال مشکل سے ملے گی ۔آج بھی فلسطین میں مولانا محمد علی کی قبر پر جو کتبہ لگا ہوا ہے اس پر جلی حرفوں میں لکھا ہے ۔’محمد علی الہندی ‘۔مولانا محمد علی جوہر نے جنگ آزادی کے دوران پوری قوم کو جگانے کے لئے یہ پیغام دیا تھا:
خاک جینا ہے‘ اگر موت سے ڈرنا ہے یہی
ہوس ِزیست ہو اِس درجہ تو مرنا ہے یہی
نقد جاں نذ ر کروسوچتے کیا ہو جوہر ؔ
کام کرنے کا یہی ہے ‘تمہیں کرنا ہے یہی
پروفیسر خلیق احمد نظامی نے لکھا ہے کہ ” مولانا محمد علی نے ایک سوتی ہوئی قوم کو ابھار کر ایک قوت بنا دیا تھا ۔انہوں نے ٹوٹی ہوئی کشتی کے ملاح کی طرح طوفان کا مقابلہ کرتے ہوئے جان دی ۔مولانا سید سلیمان ندوی نے لکھا ہے کہ ’’وہ شکست خوردہ قوم کا آخری سپاہی تھا جو اعداء کے نرغے میں تنہا لڑرہا تھا۔آخر کار زخموں سے چور ہوکر ایسا گرا کہ پھر کھڑا نہ ہوسکا ۔‘‘
یوں تو ہندوستان کی جنگ آزادی میں ہزاروں متوالوں نے پھانسی کے پھندے کو چوما اور وطن پر اپنی جان نچھاور کردی لیکن ان میں ایک نام ایسا بھی ہے جسے اپنے وطن پر جان قربان کرنے والوں میں بڑی قدر و منزلت حاصل ہے ۔یہ تھے شہید وطن اشفاق اللہ خاں جنہوں نے 27برس کی عمر میں تختہ دار کو بوسہ دینے سے قبل اپنی ماں کو جو آخری خط لکھا تھا‘ وہ وطن کے لئے ان کی بے پناہ محبت کا آئینہ دار ہے ۔انہوں نے لکھا تھا کہ:
’’اگر مجھے ہزار بار پھانسی دی جائے اور میں ایک ہزار دفعہ مرمر کے دوبارہ پیدا ہوں تو بھی وطن کے لئے مر مٹنے کا میرا جذبہ اسی طرح تروتازہ رہے گا ۔‘‘
مشہور زمانہ کا کوری کیس میں 6 اپریل 1927کو سیشن جج ہملٹن نے اشفاق اللہ خاں کو پھانسی کی سزا سنائی ۔ان پر پانچ دفعات لگائی گئی تھیں جن میں دو دفعات کے تحت تاعمر کالا پانی کی سزا اور تین دفعات کے تحت سزائے موت دی گئی تھی ۔پھانسی کا فیصلہ سننے کے باوجود ان کے اطمینان اور سکون میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آیا ۔جیل کے ریکارڈ کے مطابق ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ کسی موت کے مہمان کا وزن بڑھ جائے ۔جس وقت اشفاق اللہ خاں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی‘ اس وقت ان کا وزن 178پونڈ تھا اور اس کے بعد جب پھانسی دی جانے والی تھی تو ان کا وزن 203پونڈ ہوچکا تھا ۔وزن میں یہ اضافہ وطن پر قربان ہونے کی خوشی میں ہوا تھا جس کا اظہار انہوں نے اپنی والدہ کے نام خط میں بھی کیا تھا ۔تختہ دار پر جب جلاّد نے ان سے آخری خواہش پوچھی تو اشفاق اللہ خاں نے اپنا ہی یہ شعر پڑھا تھا:
کوئی آرزو نہیں ہے‘ بس آرزو یہی ہے
رکھ دے کوئی ذراسی خاکِ وطن کفن