جموں و کشمیر:کچھ علاقوں میں 4 جی انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے امکان تلاش کریں:سپریم کورٹ کی ہدایت

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے جمعہ کے روزجموں وکشمیرانتظامیہ سے کچھ علاقوں میں 4 جی انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کے امکان کوتلاش کرنے کوکہاہے۔ جموں وکشمیرانتظامیہ نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی سے متعلق ہدایات لینے کے لیے وقت طلب کرتے ہوئے کہاہے کہ ایک نیالیفٹیننٹ گورنرمقررکیاگیاہے۔لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے سے جی سی مرموکے مستعفی ہونے کے بعدمنوج سنہا کو نیا لیفٹیننٹ گورنر مقرر کیا گیا ہے۔ گذشتہ سال اگست میں مرکزنے جموں وکشمیرکے خصوصی درجہ کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا اور اسے دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کیا تھا۔ تب سے جموں وکشمیرمیں انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔عدالت نے انتظامیہ کوبتایاہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کی تبدیلی سے کچھ نہیں بدلا ، کیوں کہ اس معاملے کو دیکھنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی موجود ہے۔ جسٹس این وی رامان ، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس بی آر گائی کی بنچ نے ایک مختصر سماعت کے بعد 11 اگست کو این جی او فاؤنڈیشن برائے میڈیا پروفیشنلز کی توہین عدالت کی درخواست کو درج کیا۔اس تنظیم نے عدالت کے 11 مئی کے حکم کی تعمیل کرنے کے مبینہ طورپرجان بوجھ کرنظراندازکرنے کے الزام میں مرکزی سکریٹری داخلہ اور جموں وکشمیرکے چیف سکریٹری کے خلاف توہین عدالت شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔ جموں وکشمیرانتظامیہ کی جانب سے، سالیسیٹرجنرل تشارمہتانے بنچ کوبتایاہے کہ انہیں ہدایات لینے کی ضرورت ہے کیونکہ مرکز کے خطے کے لیفٹیننٹ گورنرتبدیل ہوگئے ہیں اورکل نئے لیفٹیننٹ نے چارج سنبھال لیاہے۔بنچ نے کہاہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کو تبدیل کرنے سے کچھ تبدیل نہیں ہوتاہے کیونکہ بااختیار کمیٹی اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ بنچ نے کہاہے کہ عدالت عظمیٰ زمینی سطح پرصورت حال کی وضاحت نہیں کرسکتی ہے ، لیکن بات یہ ہے کہ اس معاملے میں تاخیرنہیں ہونی چاہیے۔ بنچ نے مہتاکو ہدایت کی کہ وہ کچھ علاقوں میں 4 جی خدمات کو بحال کریں۔ مہتانے کہاہے کہ اس معاملے میں تاخیر کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو زبانی طور پر نافذکیاگیاہے اور وہ ہدایات لیں گے۔