جموں و کشمیر کے سابق گورنر این این ووہرا نے ’صدی سال سرسید یادگاری خطبہ‘ پیش کیا

علی گڑھ:سابق گورنر جموں وکشمیرمسٹر این این ووہرا نے آج کہاکہ حکمرانی (گوورننس)میں کامیابی کے لیے پوری طرح وقف اورایماندار سیاسی قیادت اور اہل و مستعد عوامی اہلکار دونوں درکار ہوتے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کی سرسید اکیڈمی کے زیر اہتمام ’حکمرانی- سیاست اور عوامی اہلکاروں کی ذمہ داری‘ موضوع پر ’صدی سال سرسید یادگاری خطبہ-2020‘ آن لائن پیش کرتے ہوئے مسٹر ووہرا نے کہا ’’ہم خوش قسمت ہیں کہ ملک میں اے ایم یو کے بانی سرسید احمد خاں جیسے دوراندیش رہنما موجود تھے جو ایک عظیم اسکالر اور ایسے وقت میں ہندوستان میں ہندو-مسلم اتحاد کے علمبردار تھے جب انگریز ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ سرسید کا اس بات پر سختی سے یقین تھا کہ ترقی کا حصول عوام کے تعلیم یافتہ ہونے سے ہی ممکن ہے‘‘۔ انھوں نے کہاکہ سرسید نے علی گڑھ تحریک کا آغاز کرتے ہوئے مروّجہ توہمات پر سختی سے تنقید کی اور علی گڑھ کی سائنٹفک سوسائٹی کا قیام کیا جو ہندوسان میں اپنی نوعیت کی اولین سائنسی تنظیم تھی ۔مسٹر ووہرا نے زور دیتے ہوئے کہا’’ سرسید نے مذہبی کتابوں کی عقلی تشریح کی اور ہندوستان پر انمٹ نقوش مرتب کئے ۔ انھوں نے تعلیمی و سماجی اصلاح کے اقدامات کئے اور وہ جمہوری اصولوں اور اظہار رائے کی آزادی کے نقیب تھے‘‘۔سول سروسیز کی حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر ووہرا نے کہا کہ جوابدہی برقرار رکھنے کے لئے آئین کی سختی سے پاسداری اور قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔ انھوں نے کہا ’’مؤثر سیاسی اور عوامی خدمات کے لئے لازمی ہے کہ شفافیت اور مشاورت کے ساتھ کام کیا جائے اور حکمرانی میں ایکسیلنس کی ثقافت کو فروغ دیا جائے جس میں ایمانداری اور خدمات کی انجام دہی میں اعلیٰ معیار کا خیال رکھا گیا ہو‘‘۔کووِڈ19 کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے مسٹر ووہرا نے کہا کہ اس وبائی بحران کے وقت قومی حکمرانی (نیشنل گوورننس) کی ضرورت ہے اور حکومت کو ایک زیاد وسیع نظام کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا ’’یہ ایک تکلیف دہ صورت حال ہے کیونکہ وبا کی وجہ سے معاشی نظام ٹھہر گیا اور کثیر تعداد میں لوگ خط افلاس سے نیچے چلے گئے ۔ غریب متاثرین کی مشکلات کا جلد از جلد ازالہ ضروری ہے‘‘۔ مسٹر ووہرا نے کہا کہ آج کا ہندوستان اس وقت کے ہندوستان سے بہت آگے بڑھ چکا ہے جب انگریز یہاں سے نکلے تھے۔ ہمارا ملک اب ایک زندہ آئینی جمہوریت ہے اور مختلف شعبوں میں اس نے خاطر خواہ ترقی کی ہے۔ انھوں نے کہا ’’ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں جو 122سے زائد زبانیں اور دو ہزار سے زائد بولیاں بولتے ہیں اور تقسیم ہند کے بعد یہاں تک آنے میں 1947 میں مہاجروں کے بحران، جموں و کشمیر اور لداخ میں پاکستان اور چین کی جارحیت سمیت ملک نے متعدد چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ آزاد ملک کے طور پر ہندوستان نے ابتدا سے ہی اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا ہے اور آزادی کے بعدشروع کی دو دہائیوں میں ہی ہمارے ممتاز تعلیمی اور صحت ادارے تعمیر ہوگئے تھے‘‘۔ اے ایم یووائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ 1959 بیچ کے آئی اے ایس افسر مسٹر ووہرا جموں و کشمیر کے بارہویں گورنر تھے ۔ انھوں نے سابق ریاست میں دس برسوں تک کام کیا جو ایک بڑی حصولیابی ہے۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پبلک سروس میں ذہین افراد کوکسی خاص جگہ پر ایک متعینہ مدت کے لئے مقررکیے جانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے زندہ جمہوریتوں کے لئے حکمراں اور اپوزیشن دونوں کے مضبوط ہونے پر بھی زور دیاہے۔ پروفیسر منصور نے کہاکہ ہندوستان کی متعدد چھوٹی ریاستوں سے بہت کچھ سیکھنے اور دوسری ریاستوں میں ان کی مستعد حکمرانی اور فعال منتظمہ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سرسید اکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر علی محمد نقوی نے انیسویں صدی کے عظیم مصلح، مؤرخ، فلسفی اور سول سروینٹ کے طور پر بانیٔ درسگاہ سرسید احمد خاں کی زندگی پر روشنی ڈالی۔ اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شاہد نے اظہار تشکر کیا جب کہ ڈاکٹر سید حسین حیدر نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔