کیا ہندوستان میں مذہبی بنیاد پر سیاسی جماعت بنانا مفیدہے؟جمعیۃ علما کے اجلاسِ لکھنؤ(1948)پر ایک نظر-مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علماے ہند انگریز کے تسلط کے زمانے میں ملک کی آزادی کے لئے کسی بھی دوسری جماعت سے آگے بڑھ کرکام کررہی تھی؛ ملک کی آزادی کے بعد تقسیم وطن کے باعث اپنے آپ کو ملکی سیاست سے علیحدہ کرلیا اورملک وقوم کی خدمت کے لئے اس کو مذہبی جماعت قرار دے دیا،جس کا مقصد اپنی تمام سرگرمیاں تعلیمی اداروں ، فلاحی سرگرمیوں اور مسلمانوں کی راحت رسانی اور بازآبادکاری پر مرکوز کرنا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج جمعیۃ علماے ہند ملک کی سب سے بڑی فلاحی ، راحت رسانی ، بازآبادکاری اور مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بنیاد پررفاہی کاموں میں حصہ لینے والی سب سے بڑی تنظیم ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے اکابر رحمہم اللہ نے ملک کی آزادی اور تقسیم کے بعد کس وقت اور کس طرح جمعیۃ علماء ہند کو خالص مذہبی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا تھا آپ بھی اس کو پڑھ لیں اور واقف ہو جائیں۔
مدینہ اخبار28؍مارچ 1948 کے مطابق دہلی میں 21؍ مارچ 1948دن کے تین بجے جمعیۃ علماء ہند کا اجلاس منعقد ہوا جس میں جمعیۃ کے آئندہ پروگرام پر روشنی ڈالتے ہوئے اکابر جمعیۃ نے اعلان کیا کہ آئندہ سے جمعیۃ علماء ہند اپنے سیاسی پروگرام کو ختم کرتی ہے، اور اب مسلمانوں کی مذہبی سماجی اور تعلیمی وغیرہ رہنمائی اس کے پروگرام میں داخل ہوگی۔ کے مطابق اجلاس مذکورہ میں گاندھی جی اور مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کے انتقال پُر ملال پر تعزیتی تجاویز پیش ہوئیں۔
جمعیۃ علماء ہند کا اجلاس زیر صدارت حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی رحمہ اللہ منعقد ہوا شرکاء اجلاس میں مولانا نور الدین بہاری، مولانا احمد سعید، مولانا ابو الکلام آزاد، ڈاکٹر سیف الدین کچلو قابل ذکر ہیں مولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم جمعیۃ علماء نے گاندھی جی کے درد ناک قتل اور مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کے انتقال پُرملال پر تعزیتی تجویزیں پیش کیں جو مندرجہ ذیل ہیں:
تجویز: مرکزی جمعیۃ علماء ہند کا یہ اجلاس مہاتماگاندھی کے درد انگیز اور وحشت ناک حادثہ قتل پر اپنے انتہائی غم واندوہ کا اظہار کرتا ہے۔
آپ نے تحریک آزادی کے لئے صداقت، صبر وضبط وتحمل، پر امن سول نافرمانی اور عام تشدد کے بہترین اعمال کے ذریعہ ایثار وخلوص کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہو کر تحریک آزادی کو کامیابی کی منزل تک پہنچایا، آپ جمہوریت مساوات اور ہندو مسلم اتحاد کے ہمیشہ حامی رہے، آپ نے بارہا جان کی بازی لگائی۔
مرکزی جمعیۃ علماء کا یہ اجلاس آپ کی عظیم الشان تاریخی خدمات کا اعتراف کرتا ہے اور آپ کو پورے ہندوستان کا بہت بڑا محسن تصور کرتا ہے اور تمام جمہوریت پسند آزادی وطن کی حامی جماعتوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو ختم کر کے اس نازک ترین مرحلہ پر پوری سرگرمی اور اتحاد عمل کے ساتھ ہندوستان کو صحیح جمہوریت اور ترقی کی منزل مقصود تک پہنچائیں اور جان کی بازی لگاکر مہاتما گاندھی کے مقاصد کو کامیاب کریں۔
تجویز : مرکزی جمعیۃ علماء ہند کا یہ اجلاس حضرت مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری رحمہ اللہ کی وفات حسرت آیات پر دلی رنج وغم کا اظہار کرتا ہے۔
اس نازک دور میں حضرت مولانا کی ذات والا صفات ممتاز علم وفضل کی حامل تھی، مولانا موصوف نے ہندوستان میں اسلامی اشاعت وتبلیغ میں جس گرمجوشی کا ثبوت دیا وہ اپنا خاص مقام رکھتا ہے۔
یہ اجلاس حضرت مولانا کی اعزاء واقربا کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے درگاہ الہٰی میں مغفرت کی دعا کرتا ہے۔
مذکورہ بالا تجویزیں باتفاق رائے منظور ہوئیں، ان کے بعد ناظم اعلیٰ مولانا حفظ الرحمان صاحب نے جمعیۃ کے آئندہ پروگرام اور اس کے دستور اساسی میں بنیادی تبدیلی کے متعلق مندرجہ ذیل تجویز پیش کی۔
تجویز: جمعیۃ علماء ہند نے پچھلے تیس سالہ دور تاریخ میں ملک وطن کی آزادی کے لئے جو جد وجہد کی اور ملک کی مشترکہ مجلس انڈین نیشنل کانگریس کے تعاون اور اشتراک سے اس راہ میں جو کامیابی حاصل کی وہ تاریخ ماضی کا ایک روشن واقعہ ہے۔
گذشتہ دور میں جمعیۃ علماء ہند کو مذہبی وملی خدمات کے ساتھ ساتھ ملک ووطن کی آزادی کے لئے جو جد وجہد کرنی پڑی اس میں جداگانہ انتخاب کی وجہ سے الیکشن اور اس سے وابستہ سیاسیات میں بھی پیش پیش رہنا پڑا تاکہ غلط فرقہ وارانہ روش کا مقابلہ کیا جا سکے۔
لیکن اب جبکہ ہندوستان آزاد ہو چکا ہے اور ملک کی سیاسی زندگی کو فرقہ وارانہ حلقوں میں تقسیم کرنے کی جگہ ایک عام اور مشترک قومی حلقہ کو پیدا کرنا ضروری ہے اس لئے مرکزی جمعیۃ علماء ہند کا یہ اجلاس ضروری تصور کرتا ہے کہ جمعیۃ کے نظام عمل کا مستقبل بھی اسی لحاظ سے قرار دیا جائے اور اس بارے میں جو فیصلے لکھنؤ کانفرنس میں ہو چکے ہیں ان کی تائید کی جائے۔
چنانچہ مرکزی جمعیۃ علماء ہند کا یہ اجلاس اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ جمعیۃ کا دائرہ عمل آئندہ صرف مذہبی تمدنی اور تعلیمی حقوق وفرائض کے دائرے میں محدود رہے اور جہاں تک مسلمانوں کے سیاسی حقوق وفرائض کا تعلق ہے ، مسلمانوں کو غیر فرقہ وارانہ اور مشترک طریقۂ عمل کی دعوت دینی چاہئے۔
تجویز مذکورہ کا ذکر کرتے ہوئے مولانا حفظ الرحمان نے گذشتہ لیگی سیاست اور حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ملک کی آزادی کے بعد اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ کسی ایک مخصوص فرقہ کی جماعت اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھے، اس لئے یہ طے پایا کہ آئندہ سے جمعیۃ علماء ہند کی سیاسی سرگرمیوں کو ختم کر دیا جائے اور اس کے پروگرام میں صرف مسلمانوں کی مذہبی سماجی وغیرہ اصلاح رکھی جائے۔
تجویز مذکورہ کی تائید مولانا احمد سعید رحمہ اللہ نے بھی فرمائی آپ نے فرمایا کہ سیاسی بنیاد پر فرقہ وارانہ تنظیم جس طرح خطرناک ثابت ہوئی اسی طرح آئندہ بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے مسلمان اس وقت تک انڈین یونین میں باعزت زندگی بسر نہیں کر سکتے جب تک کہ دوسری قوموں کا اعتماد حاصل نہ ہو جمعیۃ علماء آج تک ایک سیاسی جماعت بھی تھی اور مذہبی بھی یہ صحیح ہے کہ مذہب اور سیاست دو علیحدہ علیحدہ چیزیں نہیں ہیں پھر بھی آپ کو اختیار ہے کہ آپ دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کر لیں چونکہ فرقہ پرست سیاست مسلمانوں کے لئے خطرناک ہے اس لئے ان کو چاہئے کہ وہ کسی غیر فرقہ پرست جماعت میں شریک ہو جائیں خواہ وہ سوشلٹ جماعت ہو یا کمیونسٹ پارٹی آپ نے فرمایا کہ کانگریسی ہونے کی حیثیت سے میرا مشورہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو کانگریس میں شامل ہو جانا چاہئے۔
مولانا ابو الکلام آزاد:
مولانا آزاد نے تجویز کی تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ اس اجلاس کی غرض وغایت تو آپ کے علم میں آچکی ہے گذشتہ چند سال میں ملک کے سیاسی حالات بڑی تیزی سے چل رہے تھے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک تقسیم ہوگیا، اب موجودہ حالات میں وہ آپ کے سامنے ہیں اس وقت سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انڈین یونین میں جو مسلمان رہ گئے ہیں وہ کیا کریں؟ ان کا مستقبل کیا ہوگا؟ اب تک الگ الگ گروہ بندیاں رہیں مسلم لیگ نے جس نفرت وحقارت کی تلقین کی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دوسرے فرقہ کے لوگوں میں بھی فرقہ پرستی پیدا ہوگئی، لیکن اب جبکہ حالات بدل گئے ہیں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس گروہ بندی کو ختم کر دیا جائے اس وقت بھی جب کہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ سیاست زوروں پر تھی لیگی لیڈروں سے یہ اپیل کی گئی تھی کہ سیاسی معاملات میں فرقہ بندی کو ختم کر دیا جائے، البتہ دوسرے معاملات میں فرقہ وارانہ گروہ بندی قائم رہ سکتی ہے لیکن اس آواز پر کوئی اعتبار نہیں کیا گیا، سیاسی معاملات میں بہت سی چیزیں داخل ہیں، مثلاً مشترکہ انتخاب وغیرہ مشترکہ انتخاب سے باہمی اعتماد پیدا ہوگا اسی طرح دوسری چیزیں ہیں جو سیاست کے دائرہ میں داخل ہیں، اس کے بعد اس کی ضرورت نہیں رہتی کہ سیاسی معاملات میں فرقہ وارانہ جماعتیں بنائی جائیں۔
یہ فیصلہ لکھنؤ کانفرنس میں کیا گیا تھا آج تمام ملک اسی رہنمائی میں چل رہا ہے، کانگریس چل رہی ہے، مرکزی حکومت چل رہی ہے اس کے بعد بھی کیا اس کی ضرورت رہتی ہے کہ آپ سیاسی حقوق کے تحفظ کے لئے اپنی علیحدہ جماعتیں بنائیں سیاست سے ہٹ کر بھی بہت سے میدان ہیں تعلیمی میدان ہے سماجی میدان ہے، معاشی میدان ہے، اور انھیں میدانوں کے لئے اس کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کی طاقتور جماعت بنائی جائے ظاہر ہے کہ اسی مقصد کے لئے جمعیۃ علماء سے بڑھ کر کون سی جماعت ہو سکتی ہے۔
جمعیۃ کو اب سیاست کی ضرورت نہیں، اسی لئے جمعیۃ کی مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کی سیاسی سرگرمیوں کو ختم کر دیا جائے، اب اس کی منظوری جلسۂ عام سے لینا ہے اسی مقصد کے لئے یہ اجلاس منعقد کیا گیا ہے لیکن ہمیں یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ سیاست سے ہٹ جانے سے ہمارا بوجھ ہلکا ہو گیا واقعہ یہ ہے کہ اب ہمارا بوجھ دُگنا ہوگیا ہے اور ہماری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، اب جمعیۃ کا میدان سیاسی نہیں بلکہ تعلیمی ہے، سماجی ہے، معاشی ہے، حکومت ان معاملات میں جمعیۃ کے ساتھ تعاون کرے گی اور حکومت جمعیۃ کے ساتھ، اب حالات بدل گئے ہیں اور ضرورت ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس نئے سانچے میں ڈھال لیں، موجودہ حکومت قومی ہے وہ چاہتی ہے کہ مسلمان اپنی بہتری کے کام خود انجام دیں، ان الفاظ کے بعد میں اس تجویز کی تائید کرتا ہوں۔
مولانا آزادرحمہ اللہ کے بعد مولانا نور الدین بہاری اور مولانا بشیر احمد نے تجویز کی تائید کی اور آخر میں ڈاکٹر سیف الدین کچلو نے تجویز کی تائید میں تقریر فرمائی۔
ڈاکٹر کچلو: ڈاکٹر کچلو نے تقریر کرتے ہوئے کہا مجھے اس تجویز سے مسرت حاصل ہوئی، جمعیۃ نے ہندوستان کی آزادی کے لئے جو جد وجہد کی وہ ایک طویل داستان ہے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کسی ایک جماعت نے آزادی حاصل کی، واقعہ یہ ہے کہ سب نے مشترکہ متحدہ طور پر آزادی کی جد وجہد کی اور کامیابی حاصل کی جمعیۃ نے کانگریس کے ساتھ تعلق رکھا، اگر کانگریس میں جمعیۃ شامل نہ ہوتی تو سخت مشکل پیش آتی لیگی لیڈروں نے مجھے لیگ میں شامل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن میرا ان سے ایک ہی سوال تھا کہ پاکستان بننے کے بعد ان مسلمانوں کا کیا حشر ہوگا جو انڈین یونین میں رہ جائیں گے، اب پاکستان بن چکا ملک تقسیم ہو چکا مسلمان تقسیم ہو چکے لیگی لیڈر انڈین یونین کے مسلمانوں کو بے یارو مددگار چھوڑ کر فرار ہوگئے ہم یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان والے پاکستان میں خوش رہیں ہمیں تو اب ہندوستان کے مسلمانوں کے متعلق غور کرنا ہے، ہندوستان کی آزادی کو قائم رکھنے کے لئے ہمیں کانگریس اور کانگریسی حکومت کو مضبوط بنانا ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کانگریس اکثریت کے بل پر اقلیت کو نقصان تو نہیں پہنچائے گی، کانگریس ایک جمہوری اور دنیوی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے اور یہی اس کا نصب العین ہے، ایسی حالت میں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کانگریس اقلیت کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے، جہاں تک میں امید کر سکتا ہوں وہ یہی ہے کہ انشاء اللہ حالت بہتر سے بہتر ہوتی چلی جائے گی، ڈاکٹر صاحب کی تقریر کے بعد اجلاس ملتوی ہوگیا۔

(مضمون نگار جمعیۃ علماے ہندکے صدر ہیں۔ مضمون میں ظاہر کردہ آرا سے ’’قندیل‘‘ کا اتفاق ضروری نہیں ہے)