جمعیۃ علماء اڈیشہ کے صدر امیر شریعت مولانا محمد جابر قاسمی کا انتقال

صدرجمعیۃ علماء ہند و ناظم عمومی کا تعزیتی پیغام
نئی دہلی: جمعیۃ علماء اڈیشہ کے صدرو امیر شریعت حضرت علامہ مولانا محمد جابر قاسمی کا آج ان کے وطن مالوف بھنِجار پور ضلع جاجپور (اڈیشہ) میں انتقال ہوگیا۔ وہ 77/سال کے تھے اورگزشتہ ایک سال سے بیمار تھے۔پسماندگان میں ایک بیوہ،سات لڑکے اورتین لڑکیاں ہیں۔
ان کی وفات حسرت آیات پر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری اور جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے قلبی رنج والم کا اظہارکرتے ہوئے اسے جمعیۃ علماء ہند کے لیے بالخصو ص اور دینی وملی حلقے کے لیے بالعموم نقصانِ عظیم قرار دیا ہے۔مولانا مرحوم، دارالعلوم دیوبند سے 1964ء میں فارغ ہوئے،آپ مدرسہ مشکوۃ العلوم بھنجار پور کے مہتمم اور خطہ میں بہت ہی مقبول و معروف عالم، مرشداور مرجع خلائق تھے، بیعت وارشاد کی نسبت سے حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی ؒ کے مجاز تھے،عرفاں کے اسی فیض سے انھوں نے مسلمانوں کی قلیل آبادی والی ریاست کو ہمیشہ معمور رکھا اور حق و صداقت کے چشمہ سے تشنگان کو فیضیاب کیا۔مولانا مرحوم ساتھ ہی جمعیۃ علماء ہند کے بے لوث خادم اور ہر محاذ پر ڈٹے رہنے والے سپاہی تھے۔2008ء سے مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند کے لگاتار مدعو خصوصی تھے۔2007ء میں آپ باضابطہ جمعیۃ علماء اڈیشہ کے صدر منتخب ہوئے جس پر تادم واپسیں فائز رہے۔آپ ریاست اڈیشہ کے امیر شریعت بھی تھے، نیز رابطہ مدارس ا سلامیہ دارالعلوم دیوبند کی شاخ اڈیشہ کے صدر تھے۔ آپ نہایت سادہ لوح، منکسرالمزاج نیک طبیعت اور انتظامی صلاحیتیوں کے حامل تھے۔ جمعیۃ علماء ہند سے ان کو اتنا گہرا تعلق تھا کہ شدید بیماری اور ضعف کے باوجود بھی 2/جنوری 2020ء کو منعقد اجلاس مجلس عاملہ میں شریک ہونے کے لیے دہلی تشریف لائے۔ 22/اکتوبر 2020ء کو منعقد جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس مجلس عاملہ میں بھی بذریعہ زوم شریک ہوئے۔
مولانا مرحوم کے جملہ پسماندگان کی خدمت میں دلی ہمدردی و تعزیت مسنونہ پیش ہے اوردعاہے کہ اللہ تعالی مولانا مرحوم کو جنات عدن میں مقام اعلی عطا فرمائے او رپسماندگان کو اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس موقع پر جماعتی احباب و متعلقین و ائمہ مساجد سے پرخلوص اپیل کی جاتی ہے کہ مولانا مرحوم کے لیے دعائے مغفرت و ایصال ثواب کا اہتمام کریں۔