جمعیۃ علماے بہار کی تعزیتی نشست میں میری شرکت کے تعلق سے غلط فہمی کا ازالہ -محمد شبلی القاسمی 

 

امارت شرعیہ ایک دستوری اور قوم وملت کا سوسالہ ادارہ ہے ،جس کا ماضی روشن ،حال تابناک اور مستقبل پرامید ہے ،امارت شرعیہ کے تمام کام خلوص وللہیت اور جذبۂ خدمت سے انجام پاتے ہیں،لاک ڈاؤن کے بعد الحمد للہ ادارہ کھل گیاہے ،اور نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد صاحب رحمانی قاسمی مد ظلہ کی قیادت میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔

مگر افسوس کہ میں دیکھ رہاہوں کچھ لوگ امارت شرعیہ ،آٹھویں امیر شریعت اور ان کے انتخاب کو لیکر سوشل میڈیا ،پرنٹ میڈیاپر ہنگامہ پر پا کر رہے ہیں،جو کسی طرح مناسب نہیں ،ہر ادارہ اور تنظیم کا اپنا اپنا دستور ہوتا ہے ،امارت شرعیہ میں بھی انتخاب امیر کے لئے ارباب حل و عقد کی باوقار اور ذمہ دار مجلس موجود ہے جو ان شاء اللہ حسب ضابطہ ودستور امارت شرعیہ امیر منتخب کرے گی،اور ان شاء اللہ امارت شرعیہ کو ماضی کی طرح لائق و فائق امیر شریعت ملیں گے ،میں تمام لوگوں سے گذارش کرتا ہوں کہ اپنے اپنے کام اور اپنی ذمہ داریوں پر توجہ رکھیں ،امارت شرعیہ الحمدللہ خود اہل ہے کہ اپنے ارباب حل وعقد کے ذریعہ انتخاب امیر کا مرحلہ طے کرے ،کل محترم جناب حسن احمد قادری ؒ ناظم جمعیۃ علمابہار کی کی تعزیتی نشست میں شرکت کی دعوت ان کے صاحبزادہ جناب ڈاکٹر فیض صاحب نے بذریعہ فون مجھے دی،میں تعزیتی نشست میں شریک ہوا ،ان کی خدمات اور ناقابل فراموش کارنامے اس لائق تھے کہ اس میں میری حاضری ہو اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ راحت وسکون عطافرمائے ۔میرے آنے کے بعد دوسرے ایجنڈاکے ساتھ امارت شرعیہ کے انتخاب امیر اور بعض لوگوں کی طرف سے دستخطی مہم کی بھی بات آئی ،اور اخبارات میں وہ خبر شائع ہوئی ،اخبارات کی ہیڈنگ اور ا س کے نیچے دوسروں کے ساتھ میری تصویر سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ میں تعزیتی نشست کے بعد بھی دوسرے ایجنڈوں میں شریک تھا جو درست نہیں ہے،اس طرح کچھ دنوں سے دوسرے بعض لوگوں کی طرف سے بھی طرح طرح کی باتیں آرہی ہیں ،حد تو یہ ہے کہ شخصیات اور ذاتیات پر حملہ سے بھی لوگ گریز نہیں کررہے ہیں ،جو انتہائی تکلیف دہ بات ہے ۔

میں تمام لوگوں سے گذارش کرتا ہوںکہ اللہ کے واسطے اس طرح کی حرکتوں سے ادارہ کو نقصان نہ پہنچائیں ،ان شاء اللہ امارت شرعیہ دستور کی پابندی کے ساتھ اس عمل کو انجام دے گی ،کسی دوسرے شخص کے لیے اس موضوع پر غیر یقینی ماحول بنانے کا کوئی شرعی اور اخلاقی جواز نہیں،اس طرح امارت شرعیہ کا ذمے دار ہونے کی حیثیت سے کچھ لوگوں کی طرف سے کی جانے والی مسلسل غیر اخلاقی اورغیر دستوری عمل اور تحریر سے مکمل براء ت کا اظہار کرتا ہوں ،اس سے ادارہ کا کچھ بھی لینا دینا نہیں ،اخیر میں تمام لوگوں سے ایک بات عرض کرنی ہے کہ کچھ لوگ بڑی شدت سے امارت شرعیہ کی خدمات اور اکابرین پر انگشت نمائی کررہے ہیں جو ہر اعتبار سے غلط ہے ،اس سے پرہیز کرنے کی ضرورت ہے ؛،تاکہ بزرگوں کی شخصیت اور ادارہ کا وقار باقی رہے ،ہم سب کی ایمانی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم ہر حال میں امارت کی عظمت کوبرقرار رکھیں ،اللہ تعالیٰ امارت شرعیہ کی حفاظت فرمائے اور امیر شریعت کے انتخابی مرحلوں کو بحسن وخوبی انجام تک پہنچائے ۔