جمعیت علمائے ہند کے نظریے میں عدم تشدد کا مطلب- ابو درداء معوذ 

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ مالٹا کی قید کاٹ کر ہندوستان لوٹے تو ملک میں تحریکِ خلافت اور ترکِ موالات (نان کوآپریشن) کی سرگرمیوں کا دور دورہ تھا۔ حضرت کے شاگردِ رشید اور اسارتِ مالٹا کے رفیق شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

"حضرت شیخ الہند اس مدتِ مدید کی اسارت کی مشقتیں برداشت کر کے ہندوستان آئے تو ان کے جذبۂ حریت اور انگریز دشمنی میں کوئی کمزوری یا کمی نہ تھی بلکہ ہندوستانی مارشل لا رولٹ ایکٹ کے نفاذ، جلیانوالہ باغ وغیرہ کے واقعات اور ترکی مملکت کی تقسیم اور معاہدہ سیورے اور ترکوں کے ساتھ انتہائی بے انصافیوں نے اس آگ کو اور بھی بھڑکا دیا تھا۔ بمبئی میں اترتے ہی مولانا شوکت علی مرحوم اور خلافت کمیٹی کے ممبروں سے ملاقات ہوئی۔ مولانا عبدالباری صاحب فرنگی محلّی لکھنؤ سے اور مہاتما گاندھی احمدآباد سے حضرت شیخ الہند کے استقبال کے لیے تشریف لائے، نیز دوسرے لیڈروں سے خلوت اور جلوت میں باتیں ہوئیں تو آپ نے بھی عدم تشدد (نان وائلنس) کا پروگرام ہندوستان کے آزاد کرانے کے لیے ضروری قرار دیا اور پھر اسی طریقے پر خلافت کمیٹی اور کانگریس کی تجویز کردہ باتوں کی موافقت کی۔” (نقشِ حیات از شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ، جلد دوم)
عدم تشدد کا مفہوم
ترکِ موالات، یعنی برٹش اسٹیٹ کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون، اُس کی ملازمت اور اس کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے کا مکمل بائکاٹ، جو خود اپنے آپ میں غیر مسلح یا عدم تشدد پر مبنی مزاحمت کا عملی اطلاق تھا، کے متعلق حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
"آپ کو معلوم ہے کہ علمائے ہند کی ایک کثیر جماعت یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ چونکہ ہندوستان کے مسلمانوں کے پاس مدافعتِ اعداء کے مادّی اسباب نہیں ہیں، توپیں، ہوائی جہاز، بندوقیں ان کے ہاتھ میں نہیں اِس لیے مادّی جنگ نہیں کر سکتے ہیں، لیکن اُنہیں یقین رکھنا چاہے کہ جب تک برطانوی وزراء اسلامی مطالبات تسلیم نہ کریں اُس وقت تک ہندوستان کے مسلمانوں کی اُن کے ساتھ معاشرتی اور اخلاقی جنگ کی حالت ہے۔ یعنی مسلمانوں پر حرام ہے کہ وہ اسلام کے دشمنوں کے ساتھ ایسے تعلقات قائم رکھیں جن سے اُن کی مخالفانہ اور معاندانہ طاقت کو مدد پہنچے اور اُن کے نشہ غرور و تکبر کو تیز کرے۔”
"آج احتجاج اور مطالبۂ حقوق کے میدان صرف مظاہروں کے پلیٹ فارم ہیں، خلوتیں اور تنہائی کی راتیں اس کے لیے کافی نہیں۔ اگر موجودہ زمانے میں توپ، بندوق، ہوائی جہاز کا استعمال مدافعتِ اعداء کے لیے جائز ہو سکتا ہے (باوجودیکہ قرونِ اولیٰ میں یہ چیزیں نہ تھیں) تو مظاہروں اور اور قومی اتحادوں اور متفقہ مطالبوں کے جواز میں بھی تأمل نہ ہو گا۔ کیونکہ موجودہ زمانے میں ایسے لوگوں کے لیے جن کے ہاتھ میں توپ، بندوق، ہوائی جہاز نہیں، یہی چیزیں ہتھیار ہیں۔”(خطبۂ صدارت اجلاس دوم جمعیت علمائے ہند، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ)
جمعیت علمائے ہند کے صدرِ اوّل، مفتیِ اعظمِ ہند مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک فتوے میں عدم تشدد کی عملی صورت پر تفصیل سے روشنی پڑتی ہے، حضرت لکھتے ہیں:
"چونکہ ہمارے پاس مادّی طاقت نہیں ہے اس لیے ہم تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے معذور و مجبور ہیں مگر عدم تشدد کے ساتھ سوِل نافرمانی کی مظلومانہ جنگ یقیناً لڑ سکتے ہیں اور اگر ہمارے افراد اِس کے لیے تیار ہیں کہ لاٹھیاں کھائیں، سنگینیں، برچھیاں، چھرے اور گولیاں اپنے سینوں پر لیں تو یقیناً اپنے حقِ آزادی کے مطالبے کے لیے ان کو یہ طریقہ اختیار کرنا جائز ہے کیونکہ ان کا فعل فی حدّ ذاتہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنا حق طلب کرتے ہیں اور اس کے جواب میں اگر حکومت لاٹھیاں برسائے یا سنگینیں بھونکے یا چھرے اور گولیاں مارے تو یہ بربریت اور ظلم حکومت کا فعل ہے، اس کی ذمے داری حکومت پر ہے نہ کہ ان مظلوموں پر جو اپنا حق مانگتے ہیں۔”
"ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم اپنی طرف سے کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس کا نتیجہ حکومت کی جانب سے تشدد ہو، اور اگر بغیر اس کے کہ ہماری طرف سے کوئی تشدد آمیز حرکت ہو حکومت بلا وجہ تشدد پر اتر آئے اور ہمیں مار مار کر زخمی یا شہید کر دے تو اس کی ذمے دار حکومت ہو گی۔ مثلاً یہ قصد ہو کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کریں اور پانچ سو ایسے اشخاص مہیا کیے جائیں جو جمع ہو کر جلسہ کریں، اور حکام کے اِس حکم سے کہ-منتشر ہو جاؤ-منتشر نہ ہوں، اِس قصد سے جلسہ شروع کِیا گیا، اور فرض کرو کہ یہی پانچ سو اشخاص تھے اور یہ سب عدم تشدد کے پابند تھے، اب حکام آئے اور انہوں نے حکم دیا کہ منتشر ہو جاؤ، اِنہوں نے منتشر ہونے سے انکار کِیا مگر کوئی اور حرکت نہیں کی تو اس صورت میں حکومت کا فرض یہ ہے کہ ان سب کو آدمیت کے ساتھ گرفتار کرے اور قانونی کارروائی کرے مگر بسا اوقات حکومت آئین اور انسانیت کے ساتھ ان لوگوں کو گرفتار کرنے کے بجائے کبھی تو لاٹھیوں سے پٹوا کر منتشر کراتی ہے اور کبھی گولیاں چلوا کر بہیمیت اور بربریت کا انتہائی مظاہرہ کرتی ہے۔
اِس ظالمانہ کارروائی کی وجہ سے مظلوموں کا وہ فعل ناجائز نہ ہو جائے گا جو عقل و انصاف اور مذہب کے خلاف نہ تھا اور جو لوگ اِس بہیمیت اور بربریت کا شکار ہو کر شہید ہوں گے وہ یقیناً مظلومیت کی وجہ سے شہادت کا درجہ پائیں گے۔”(كفاية المفتي، جلد نہم، کتاب السیاسیات، جواب 523)

عدم تشدد کا شرعی حکم
جمعیت علمائے ہند کی مجلس متنظمہ نے فروری 1922 میں ایک معاہدہ نامہ کا مسودہ تیار کِیا تھا جو قومی جماعتوں شریک ہونے والوں کے لیے تیار کِیا گیا تھا۔ اُس میں رضاکاروں سے یہ معاہدہ لیا جا رہا تھا کہ وہ عدم تشدد کے پابند رہیں گے۔ اِس معاہدہ نامہ سے متعلق استفسارات پر جمعیت علماء کے اجلاسِ خاص نے مارچ 1922 میں حسبِ ذیل جواب دیا:
"دوسری قسم یعنی تشدد اختیاری: اِس کی پھر دو قسمیں ہیں، ایک یہ کہ ابتداءً تشدد اپنی طرف سے کِیا جائے، اس کے متعلق ہندوستان میں موجودہ حالت کے لحاظ سے پورے طور پر عدم تشدد کا معاہدہ کِیا جا سکتا ہے اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔ دوسرے یہ کہ کسی اشتعال انگیز اور توہین آمیز حرکت کے مقابلے میں تشدد کِیا جائے تو اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ جب تک کوئی حرکت پیش نہ آئے جس پر شرعی احکام کی رو سے تشدد لازم ہو جائے۔ مثلاً کوئی آدمی کسی مسلمان کے روبرو قرآن پاک کی بے حرمتی کرے اور کسی طرح باز نہ آئے اور اس شخص کو قدرت ہو کہ کسی قسم کے تشدد سے اسے اس حرکتِ شنیعہ سے روک کے اور اس کا تشدد مفادِ قومی کے خلاف نہ ہو تو ایسی حالت میں اُس کا شرعی فرض ہو جاتا ہے کہ جس طرح ممکن ہو قرآن پاک کو بے حرمتی سے بچائے۔ اِس قسم کی شرعی مجبوریوں کے علاوہ تمام حالات میں اختیاری تشدد سے اجتناب کرنے کا معاہدہ شرعاً جائز اور مصلحتِ عامّہ کے لحاظ سے مفید اور ضروری ہے۔” (جمعیت علماء کیا ہے جلد دوم از مولانا سید محمد میاں دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ، اجلاس خاص مارچ 1922 بمقام اجمیر شریف، تجویز نمبر 3)
مفتیِ اعظم مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے مہاتما گاندھی کے اس فلسفہ عدم تشدد سے متعلق استفتاء کِیا گیا جس میں عدم تشدد کو ایک مذہبی حکم یا عقیدے جیسی حیثیت حاصل ہے، حضرت نے لکھا:
"عدم تشدد بطور دینی حکم اور دینی عقیدے کے ایک سیکنڈ کے لیے بھی اہلِ اسلام کے لیے قابلِ پذیرائی نہیں اور نہ اِس طرح مسلمانوں نے اسے تسلیم کِیا، البتہ موجودہ بے بسی کے زمانے میں بطور وقتی پالیسی کے اس کو تسلیم کِیا گیا تھا اور اس میں کوئی محذورِ شرعی نہیں ہے۔”(كفاية المفتي، جلد نہم، کتاب السیاسیات، جواب 517)
اس کے علاوہ مؤرخِ ملت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں:
"عدم تشدد جمعیت علماء کی وقتی پالیسی ہے جو شرعی احکام کی روشنی میں ضرورتِ وقت کے بموجب اختیار کی گئی۔ مسٹر گاندھی کے نظریہ کے بموجب بطورِ عقیدہ نہ آج تک اِس پالیسی کو اختیار کِیا گیا نہ ایک مسلمان کے لیے جائز ہے کہ صرف عدم تشدد کو ہی اپنا عقیدہ بنا لے‘‘۔(جمعیت علماء کیا ہے جلد اول، از مولانا سید محمد میاں دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ)
ایک تاریخی تقریر
تقسیمِ ہند کے بعد فسادات کی لہر میں شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ صدر جمعیت علمائے ہند نے مظفر نگر اور سہارنپور کے دورے میں دیوبند کی جامع مسجد میں ایک تقریر میں فرمایا:
"صبر و استقلال کے ساتھ مصائب کا مقابلہ کرو، کبھی فساد کی ابتداء نہ کرو، اگر فسادی تم پر چڑھ آئیں تو اُن کو سمجھاؤ لیکن اگر وہ نہ مانیں اور کسی طرح باز نہ آئیں تو پھر تم معذور ہو، بہادری کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرو اور ایسا مقابلہ کرو کہ فسادیوں کو چھٹی کا دودھ یاد آ جائے۔ تمہاری تعداد خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو مگر قدم پیچھے نہ ہٹاؤ اور اپنی عزت و حرمت کی حفاظت کرتے ہوئے جان دے دو، یہ عزت اور شہادت کی موت ہو گی‘‘۔(شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی: ایک سیاسی مطالعہ، از ڈاکٹر ابوسلمان شاہجہانپوری مرحوم، باب نوادر علمیہ سیاسیہ)
اللہ رب العزت جمعیت علمائے ہند کے بصیرت مند اکابرین کی قبروں کو نور سے بھر دے جنہوں نے احکامِ دینیہ کو واضح کر دیا، اور ہم سب کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین ثم آمین۔

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*