جامعہ:تیری تاسیس کو حاصل ہے مقامِ محمود – نثار احمد

جامعہ ملیہ اسلامیہ آج اپنا ١٠٠ واں یومِ تاسیس منا رہی ہے،آج سے تقریباً ایک صدی قبل29 اکتوبر 1920 میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے علاحدہ جامعہ اسلامیہ کا قیام عمل میں آیا، 1925 میں جامعہ کو دہلی کے قرول باغ میں منتقل کر دیا گیا، ایک مارچ 1935 میں جامعہ کو قرول باغ سے اوکھلا منتقل کر دیا گیا،دھیرے دھیرے یہ ادارہ ترقّی کرتا ہوا جامعہ ملیہ اسلامیہ کی صورت اختیار کر گیا، 1988 میں پارلیمنٹ ایکٹ کے تحت اسے مستقل یونیورسٹی کا درجہ مل گیا،آج اس یونیورسٹی کا شمار ہندوستان کی اہم یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے، جہاں تقریبا 24 ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں ، اس ادارے کی ترقی کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ہمیشہ ملک کے سرفہرست 10 اداروں میں رہتا ہے،ایک پرائیویٹ سروے میں رواں سال تو اس ادارے نے ملک بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ موجودہ وقت میں یہ یونیورسٹی وزارت برائے فروغ انسانی اور وسائل کی فہرست میں دسویں مقام پر فائز ہے،اور ہمہ روز ترقی کی اور گامزن ہے_
ہندوستانی تاریخ میں انیسویں اور بیسویں صدی بہت اتھل پتھل کی رہی ہے ،انیسویں صدی کے نصف آخر کے اوائل میں ہندوستانی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب آیا ،جسے ہندوستانی تاریخ میں قیامت صغریٰ کے نام سے جانا جاتا ہے،اٹھارہ سو ستاون کے اسی حادثے سے متاثر ہوکر بہت سی تحریکات وقوع پذیر ہوئیں،سرسید تحریک یا علی گڑھ تحریک اسی کا ردعمل ہے،تعلیمی حوالے سے سر سید تحریک محتاج تعارف نہیں ہے، خصوصاًہندوستانی مسلمانوں کی تعمیروترقی میں علی گڑھ کا رول بے حد اہم ہے، اسی قیامت صغری سے متاثر ہوکر ہندو سماج میں بھی راجہ رام موہن رائے نے برہمو سماج قائم کیا، جس میں ہندوؤں کے لیے مثالی سماج بنانے کی بات کہی گئی، اور سر سید احمد خان نے مدرسہ علی گڑھ کی بنیاد رکھی جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے مشہور ہوئی۔1857 کے بعد گاہے بگاہے سماجی معاشی اور تعلیمی اصلاحات کی کوششیں ہوتی رہیں،جامعہ ملیہ اسلامیہ انہیں اصلاحی اور تعلیمی کوششوں کا نتیجہ ہے،جامعہ قومی تحریکات کے پیٹ سے جنمی وہ یونیورسٹی ہے جس نے تعلیمی فضا ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ آپسی سدبھاؤ اور بھائی چارے کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کیا ،عبدالغفار مدھولوی کی زبان میں کہیں تو:
”نوآبادیاتی تسلط سے آزادی، ایک نئی مشترک ہندوستانی قومیت کی نمود اور صدیوں کے سماجی اقتصادی جبر اور استحصال سے خلاصی ،ذہنی جمود اور تقلید کے مقابلے تخلیقی تحرک اور اجتہادی فکر کا فروغ جیسے مقاصد جس طرح تحریک آزادی کے فکری منشور کا لازمی حصہ تھے اسی طرح جامعہ کے تعلیمی منشور کے بنیادی عناصر بھی یہی تھے_
1920 میں عدم موالات کی تحریک عام ہوئی،اور اسی تحریک سے جامعہ کے قیام کی راہ ہموار ہوئی،اسی زمانے میں مولانا محمد علی جوہر نے گاندھی جی کے ساتھ علی گڑھ کا سفر کیا ،چونکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی آمدنی کا انحصار کچھ حد تک حکومت وقت پر تھا،اور مدرسۃ العلوم یعنی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی فکری طور پر سرسید کے نظریے پر قائم تھی،جس میں حکومت وقت سے موالات جائز تصور کی جاتی تھی،اسی بنیاد پر وہاں کی انتظامیہ اور طلبا میں ان بن رہتی تھی،ایسے موقع پر مولانا محمد علی جوہر اور گاندھی جی کی تقریر نے ایک ایسے ادارے کی راہ ہموار کردی جو عدم موالات کا ترجمان ہو،29 اکتوبر 1920 جمعہ کے دن ٹھیک مسلم یونیورسٹی کے سامنے میدان میں خیمے کی شکل میں جامعہ اسلامیہ کی بنیاد رکھ دی گئی،اس موقع پر شیخ الہند مولانا محمود حسن، مولانا محمد علی جوہر نے تاریخی خطاب کیا وہ خطاب سنہری الفاظ میں تاریخ کے صفحات میں درج ہیں ،صدر جلسہ مولانا محمودحسن نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:
اے نونہالان وطن, جب میں نے دیکھا کہ میرے درد کے غمخوار ( جس میری ہڈیاں پگھلی جارہی ہیں) مدرسوں اور خانقاہوں میں کم اور اسکول اور کالجوں میں زیادہ ہیں تو میں اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علیگڑھ کی طرف بڑھایا،اور اس طرح ہم نے ہندوستان کے دو تاریخی مقاموں( دیوبند اور علی گڑھ) کا رشتہ جوڑا – اے میرے عزیزو،مسلمانوں کی تعلیم مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو اور اغیار کے اثر سے مطلقاً آزاد،اور ہماری عظیم الشان قومیت کا یہ فیصلہ نہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے کالجوں سے سستے غلام پیدا کرتے رہیں،بلکہ ہمارے کالج نمونہ ہونا چاہیے بغداد اور قرطبہ کی یونیورسٹیوں کے، اور ان عظیم الشان مدارس کے جنہوں نےیورپ کو اپنا شاگرد بنا یا،اس سے پیشتر کہ ہم اس کو اپنا استاد بناتے”۔
ادارے کے بانیوں نے اپنے تفصیلی خطاب میں اس ادارے کے قیام کی اہمیت افادیت کو واضح کیا،مولانا محمد علی جوہر کی تقریر نے لوگوں میں جوش بھردیا،اسی کا اثر تھا کہ ذاکر حسین اور چند دوسرے طلباء جنہوں نے بانیان جامعہ اور گاندھی جی کی آواز پر لبیک کہا تھا ،فاقہ کشی کرنے پر مجبور تھے ، کھلے آسمان میں رات گزارتے تھے،ٹینٹوں میں چٹائی پر سوتے تھے، لیکن ان کا عزم متزلزل نہیں ہوا،۔انہیں اکابرین کی نیک نیتی کا ثمرہ ہے کہ نہایت بے سروسامانی کی حالت میں ایک ٹینٹ سے اپنا سفر شروع کر کے جامعہ آج عظیم ادارے کی شکل میں ملک اور بیرون ملک میں ایک مستحکم ادارے کی شکل میں اپنا لوہا منوا رہی ہے_
یہ ملت جب کبھی اپنی زیاں کاری کو جانے گی
وجود اس جامعہ کا معجزےسے کم نہ مانے گی
انیس سو بیس سے سفر کرتی ہوئی یہ یونیورسٹی 2020 تک آ پہنچی ہے،ان سو سالوں میں اس ادارے نے بہت سی تحریکوں میں حصہ لیا، ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم رول ادا کیا، کامیاب ترین افراد تیار کیے،آزادی کی لڑائی میں اس کا رول کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے،آزادی کے متوالوں اور جیالوں سے کندھے سے کندھا ملایا،ایک مثالی سماج بنانے میں اس ادارے نے بہت ہی اہم رول ادا کیا ہے، گاندھی جی نے ایک موقع پر جامعہ کے طلباء اور منتظمین سے خطاب کرتے ہوئےکہا تھا :
”اس جامعہ ملیہ کی تعمیر میں میرا بھی ہاتھ رہا ہے ،اس لئے تمہارے سامنے دل کی بات کہنے میں خوشی کا احساس ہوتا ہے ،میں نے یہی باتیں ہندوؤں سے بھی کہی ہیں، خدا کرے تمہاری روشن مثال ہندوستان اور دنیا کے لیے تابناک ثابت ہو ”۔
گاندھی جی کا جامعہ سے والہانہ لگاؤ یونہی نہیں تھا بلکہ اس ادارے کا قیام ہی ان بنیادوں پر ہوا تھا جو مثالی ہندوستان کی علامت تھی ،اور یہ سب اس کے بانیوں کے مرہون منت تھا ،جس میں شیخ الہند مولانا محمود حسن ،حکیم ، مولانا محمد علی جوہر ،ڈاکٹر مختار احمد انصاری، عبدالمجید خواجہ،حکیم اجمل خان، ڈاکٹر سید عابد حسین،ڈاکٹر ذاکر حسین،شفیق الرحمن قدوائی اور پروفیسر محمد مجیب جیسے دور رس اور جہاندیدہ افراد شامل تھے۔ دیار شوق اور ہم سب کا شہر آرزو آج سو سال مکمل کر چکا ہے ، جامعہ کےاس سو ویں یوم تاسیس پر تمام اہل وطن اور جامعی برادران کو صمیم قلب سے مبارکباد پیش کرتے ہیں،،امید ہے کہ یہ ادارہ یوں ہی کامیابی کی منزلیں طے کرتا رہے گا اور نئی بلندی کی مثال قائم کرے گا۔
جامعہ آج ملک بھر کی سرفہرست یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے، آج ہزاروں طلباء اس یونیورسٹی سے فیضیاب ہو رہے ہیں، امید ہے کہ جامعہ ایسے ہی ترقی کرتی رہے گی اور ملک ملت کا نام روشن کرتی رہے گی، تمام جامعہ برادری کو دیار شوق کی ایک صدی مکمل کرنے پر دلی مبارکباد:
تجھ کو باوصف سن و سال جواں ہونا ہے
جوئے خاموش تجھے بحر ادا ہونا ہے
تیری تاسیس کو حاصل ہے مقام محمود
علم و حکمت کی ہے معراج عمل تیرا وجود
ذاکر و اجمل و مختار کے گہوارہ ناز
ہر زباں پر یہ دعا ہے کہ تری عمر دراز
جس کو جوہر نے تراشا ہے وہ جوہر تو ہے
جس کی قیمت نہیں ہونے کی وہ گوہر تو ہے
جامعہ رقص کناں ہوکے تری عید ہے آج

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*