جامعہ ملیہ ، رِیل اورپرانے کیمرے کی کہانی-محمد علم اللہ

 

یادوں کا تعاقب انسانی فطرت ہے۔ کچھ یادیں دلوں میں محفوظ رکھی جاتی ہیں تو کچھ کو تصویروں میں اُتار دیا جاتا ہے ۔ ہمارے دوست سید کاشف نے افغانستان کے ایک صدی پرانے بلیک اینڈ وائٹ فوٹو گرافی کیمرے کے بارے میں ایک چھوٹی سی دستاویزی فلم شیئر کی تو ذہن جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ماس کمیونی کیشن کی تعلیم کے دوران فوٹو گرافی کی اپنی مشق کی طرف چلاگیا ۔ جامعہ کے ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر کی خوبی یہ ہے کہ وہاں ابلاغ کے ہر ذریعے کا بنیاد سے تعارف کرایا جاتا ہے ۔
اس سلسلے میں فوٹو گرافی کی پڑھائی کا پہلا مرحلہ اوپٹیکل فلم پر جسے عرف عام میں رِیل کہا جاتا ہے ،بلیک اینڈ وائٹ فوٹو گرافی سے شروع ہوتا۔ تمام طلبا کو کیمرے دے کرفوٹو گرافی کے لیے بھیج دیا جاتا اور پھر انھیں نگیٹیو بنانے سے لے کرتصویر دھونے تک کا پورا کام خود ہی انجام دینا ہوتا ۔ یہ عمل کس قدر دلچسپ ہوتا تھا ،اس کا اندازہ کرنے کے لئے جامعہ سے ہی فارغ التحصیل میرے دوست مالک اشتر کا اس دور کی یادوں کے سلسلے میں ایک تبصرہ دیکھیے :
”وہ بڑے مزے کا دور تھا۔ اب وہ ڈارک روم شاید نہ رہا ہو لیکن اس میں کس قدر لطف آتا تھا۔ سب کو دو دو رول فلم ایشو ہوتی تھی اور دن بھر بلیک اینڈ وائٹ فوٹوگرافی کرنا پڑتی تھی۔ اس کے بعد ڈارک روم کے گھپ اندھیرے میں اس کو ڈیولپ کرنا،تصاویر کو دھونا، پھر ان کو کاٹنا۔ اس کے بعد ساتھیوں کو دکھانا اور ان کی تصاویر میں کیڑے نکالنا۔ غازی بھائی ڈارک روم میں بہت اپنائیت سے پیش آتے۔ انہیں غصے میں تو آج تک شاید ہی کسی نے دیکھا ہو۔ ان تصاویر کو اگلے دن ایف بی سر اور سہیل سر کی کلاس میں پیش کرنا ایسا تھا جیسے عاصی روزِ حشر اپنا نامہ اعمال سنبھالے ہوں۔‘‘
مالک اشتر نے خوب یا د دلایا ، فوٹو گرافی کے بعد اس پر ہونے والے تبصرے کبھی کبھی تو رُلا دینے والے ہوتے ۔ اساتذہ سخت تبصرے کیا کرتے لیکن کلاس میں محنت سے پڑھاتے بھی تھے اور ایک ایک چیز کو باریکی سے بتاتے ۔ہیڈ اسپیس، سایہ ، روشنی ، کمپوزیشن ، روشنی کو کیسے کاٹنا ہے ، شٹر کو کیسے کھول دینا ہے ۔ کتنی دیر میں کتنا شٹر کھولیں گے تو کیسی تصویر بنے گی وغیرہ وغیرہ ۔
کتنی ہی دیر تک فوٹو گرافی اور آرٹ پر بحثیں ہوتیں ، کلاس میں ایسے لگتا تھا جیسے ہر طالب علم ، تھامس بگس ، ولیم جانسن اور ولیم ہینڈرسن، سموئیل بورن، شیفرڈ ، ہفمین ، برک اور کیشے سے کم بڑا فوٹو گرافر نہیں ہے ۔ فوٹو کھینچنے کے بعد اس کو ڈیولپ کرنے کی ہم سب کو ہی جلدی رہتی اور تصویر کھینچنے کے بعد اس کو ڈیولپ کرنے تک کا لمحہ بڑا ہی دلچسپ ہوتا ۔
ڈاکٹر راجیولوچن سر کی کمپوزیشن کی کلاس ، ایک انچ بھی فریم سے اِدھر اُدھر ہوئی اور صلواتیں سننے کے لئے تیار رہئے ۔ سب سے زیادہ ان کا زور فریمنگ پر ہوتا۔ کئی مرتبہ ہاتھ سے تصویر بنا کے لے جانا ہوتا ، اپنی طرف سے پوری کوشش ہوتی کہ آج تو تعریف ہوگی ، لیکن کلاس میں جب کام کا پوسٹ مارٹم ہوتا تو اچھے اچھوں کے پسینے چھوٹ جاتے ۔
پروفیسر فرحت بصیر خان فوٹو گرافی کے شعبے کے سربراہ تھے، وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ڈیجیٹل فوٹو گرافی کرنے والے کو فوٹو گرافی کی اصل روح کو سمجھنے کے لیے ایک بار اوپٹیکل فلم پر تصویر بنانے اور اس کو دھونے کا تجربہ ضرور کرنا چاہیے ۔ میرے خیال میں پروفیسر خان یہ کہنا چاہتے تھے کہ ڈیجیٹل فوٹو گرافی ایسے ہی ہے جیسے فوڈ پانڈا یا سویگی پر آرڈر دے کر پلاؤ منگوا لینا ۔ ظاہر ہے اس میں وہ لطف تو آ نہیں سکتا جو یخنی بنانے ، کیوڑا ڈالنے اور دم دینے کے بعد قاب میں نکالی گئی بریانی میں ہوگا ۔
بلیک اینڈ وائٹ فوٹو کو ایک خاص ڈویلپر مشین کے ذریعے سٹوڈیو کے ڈارک روم میں بنایا جاتا ۔ اس مشین میں نگیٹو کو سیٹ کر کے لینز پر اسے فوکس کروا کر فوٹو پیپر میں پرنٹ کیا جاتا اور پھر فوٹو پیپر کو کیمیکل میں بھگو کر فوٹو ڈویلپ کیا جاتا ۔ ڈویلپڈ فوٹو کو گھنٹوں ڈارک روم میں سکھایا جاتاا اور سوکھنے کے بعد جو خوشی ملتی تھی وہ ڈیجیٹل فوٹو گرافی میں کہاں ممکن ہیں ۔
ڈویلپر اور فکسر کی ملاوٹ ، انلارجر کا معائنہ، کونے کھدرے جہاں کہیں سے روشنی آ رہی ہو سب کو بند کرنا ۔ سرخ اور سبز سیف لائٹس جلا کر بار بار تصویر کو چیک کرنا ، تصاویر ڈویلپ کر کے پانی سے دھونے کے بعد ہیٹر پر خشک کرنا ، ان کے بارڈر قینچی سے کاٹنا ، ان سب میں جو لطف آتا تھا وہ تو بس ایک کہانی ہے ۔
جامعہ میں فوٹو گرافی کی مشق کی یادیں کہاں کہاں تک نہیں چلی گئی ہیں ۔ اکثر ہماری کلاس کو بس میں بھر کر شہر کے مختلف حصوں میں لے جایاجاتا ، جہاں ہم تصویر کشی کی مشقیں کرتے ۔ کھلکھلاتے بچے ، کھلا آسمان ، چلتی گاڑی ، صبح کا سناٹا ، اڑتے پرندے، بجلی کا کھمبا، اس پر بیٹھی فاختہ ، کہیں کونے میں اُگا پھول، کھڑکی سے نکلا پیپل، آوارہ کتے ، سوکھے ہوئے پتے، مونگ پھلی کھاتی پھدکتی گلہریاں ، ٹوٹے برتن ،شام کی رونق جتنی تصویریں اتنی کہانیاں ۔
سب سے دلچسپ دورہ قطب صاحب کی لاٹ (قطب مینار) کا ہوتا جس کے آس پاس کئی فوٹو جینک جگہیں موجود ہیں ۔ پرانا قلعہ ، ہمایوں کا مقبرہ ، مہرولی میں بکھری تاریخی جھلکیاں ، جمالی کمالی کا مقبرہ، بڑی سی باولی اور اس کے بغل میں واقع صدیوں پرانی ویران مسجد کی تصویریں اتارنا بڑا خواب ناک تجربہ ہوتا ۔
ہمارے کم گو پروفیسر سہیل اکبر اپنا کیمرا سنبھالے مناظر کو قید کرنے میں طلبا سے زیادہ پر جوش نظر آتے ۔طلبا ان کے پیچھے پیچھے ہوتے اور وہ کمپوزیشن ، آرٹ ، فریم ، شٹر اسپیڈ اور لائٹ کی باریکیاں بتاتے جاتے ۔کئی مرتبہ اوبجیکٹ بتا کرہمیں اسے کھینچنے کے لئے کہتے ۔
کلاس کے کچھ جوڑے جنہیں کیمپس میں خلوت اور راز و نیاز کے مواقع میسر نہ آپاتے تھے وہ کسی پرانی قبر کے تعویذ سے ٹیک لگائے نہ جانے کیا سرگوشیاں کرتے ۔کچھ کسی دیوار یا کسی پرانی قبر کی آڑ میں بوس و کنار کرتے نظر آتے ، کچھ شرارتی دوست ایسے میں اکثر عمارت چھوڑ کر اس جوڑ ے کی تصویر کھیچنے کی کوشش کرتے ۔
وقت کافی بدل چکا ہے۔ اس کے ساتھ تکنیک بدلی اور تکنیک کے ساتھ چیزیں بھی بدل گئیں۔ بلیک اینڈ وائٹ سے آج ہم تھری ڈی تک آ چکے ہیں لیکن یادوں کی پٹاری سے جب بھی ایسا کچھ نکل کر آتا ہے تو دل جھومنے لگتا ہے اور صرف ایک ہی بات کہتا ہے:” وہ بھی کیا دن تھے یار!”

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*