Home قومی خبریں جامعہ کے بعد شاہین باغ میں فائرنگ،ملزم پولیس تحویل میں

جامعہ کے بعد شاہین باغ میں فائرنگ،ملزم پولیس تحویل میں

by قندیل

نئی دہلی: دہلی کے جامعہ کے علاقے میں فائرنگ کے دو دن بعد شاہین باغ میں پولیس بیریکیڈ کے قریب فائرنگ ہوئی ہے۔ ملزم نے جئے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے فائرنگ کی۔ پولیس بیریکیڈ کے قریب فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور اس سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔قابل ذکرہے کہ شاہین باغ میں تقریبا ڈیڑھ ماہ سے شہریت کے نئے قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ ملزم کا نام کپل گجر بتایا جارہا ہے اور وہ مشرقی دہلی کے دلوپورہ گاؤں کا رہائشی ہے۔ شاہین باغ پولیس اسٹیشن لے جاکر کپل گجر سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ دہلی پولیس کے ڈی سی پی چنمے بسوال نے بتایا کہ یہ شخص ہوا ئی فائرنگ کر رہا تھا ، جسے فوراگرفتار کرلیا گیاہے۔ایک عینی شاہد نے بتایا کہ پولیس کے قریب کھڑے شخص نے دو یا تین بار فائرنگ کی۔ اس نے بتایا’ ‘ہم نے اچانک گولی کی آواز سنی، اس وقت ، وہ ‘جئے شری رام کے نعرے بھی لگارہاتھا۔ اس کے پاس سیمی آٹومیٹک بندوق تھی اور اس نے دو راؤنڈ فائر کیے۔ پولیس اس کے پیچھے کھڑی تھی‘۔ اس نے مزید بتایا کہ جب اس کی بندوق جام ہوگئی تو وہ بھاگنے لگا۔ اس نے دوبارہ فائرنگ کی کوشش کی اور بندوق جھاڑیوں میں پھینک دی۔ اس کے بعد ہم نے اسے کچھ پولیس اہلکاروں کی مدد سے پکڑ لیا۔ جب اسے پولیس پکڑکرلے جارہی تھی تووہ سرعام یہ کہہ رہاتھاکہ ہمارے دیس میں صرف ہندووں کی چلے گی، اورکسی کی نہیں چلے گی ـ واضح رہے کہ اس سے قبل جمعرات کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا پر ایک شخص نے گولی چلائی تھی ، جس سے سے شاداب نامی طالب علم زخمی ہوگیاتھا۔

You may also like

Leave a Comment