جمہوریت کو ہرا کر جیت جاتی ہے پولس اورانتظامیہ-صفدر امام قادری

وِکاس دوٗبے اور اُ س کے چند ساتھیوں کو اس ہفتے جس انداز سے موت کے گھاٹ اُتارا گیا، ہر خاص و عام کی زبان پر کچھ سوالات قایم ہیں۔ ہندستانی فلموں میں بھی جرائم پیشہ افراد کو اُن کی جان لے کر فوری طور پر نام نہاد انصاف دلانے کی ایک مہم نظر آتی ہے مگر اُتّر پردیش کے پولس محکمے نے اتنا سادہ قصہ تیار کیا کہ ہر آدمی زیرِ لب مسکرا رہا ہے۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ فطری انداز سے انصاف دلانے کی کہانی سنیما میں نظر آتی ہے۔ لوگ یہ بھی کہنے لگے ہیںکہ یو پی پولس کو قصّہ گوئی کے نئے آداب سیکھنے چاہیئں اور ہر واقعے کے پیچھے ایک ہی انداز کی کہانی پیش کرنے سے اپنا مذاق اُڑانے سے بچانا چاہیے۔
عوامی یادداشت اکثر دیر پا نہیں ہوتی۔ لاک ڈائون نے تو ایسے بھی ہر شخص کو اپنے ذاتی گھروندے میں قید کر دیا ہے مگر جنوری سے مارچ مہینے کے دوران شہریت قانون کے سلسلے سے احتجاج کرنے والوں کے خلاف اسی یوپی پولس نے جس انداز سے پُرامن احتجاج کرنے والے افراد پر لاٹھیاں اور گولیاں برسائیں، انھیں جھوٹے مقدّمات میں پھنسا کر جیل پہنچایا اور مالی طو رپر نقصان پہنچانے کی ہزاروں کوششیں کیں ، اب بھی سیکڑوں افراد ضمانت سے محروم ہیں اور ہزاروں لوگ قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں، انتظامیہ اور پولس نے مل کر سب کی تصاویر کے اشتہار چوک چوراہوں پر لگائے ۔ ایسے اشتہارات وِکاس دوٗبے اور ان کے ساتھیوں کے نہیں لگائے گئے۔
میرٹھ فسادات میں اپنی انصاف پسندی اور فرض شناسی کے سلسلے سے شہرت حاصل کرنے والے آئی۔پی۔ایس افسر اور ممتاز مصنف وبھوتی نرائن راے نے انڈین پولس اکادمی ، حیدرآباد میں ایک تحقیقی منصوبے پر کام کیا تھا جس میںیہ بات پیشِ نظر تھی کہ فرقہ وارانہ فسادات میں پولیس کا رول کس طرح کا ہونا چاہیے۔ انھوں نے اُتّر پردیش پولس اور خاص طور سے پی۔ اے۔ سی۔ کے افراد کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کیے تھے۔ ہر چند انھوں نے علمی تحقیق کے اصول وضوابط پیشِ نظر رکھے تھے مگر انڈین پولس اکادمی نے اس رپورٹ کو شایع کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔ بعد میں ایک پرائیویٹ پبلشر نے "Combating Communal Conflicts” کے عنوان سے کتابی شکل میں اسے شایع کیا۔ ’شہر میں کرفیو‘ ناول لکھنے والے اس پولس افسر نے اُتّر پردیش پولیس کو فرقہ وارانہ ذہنیت کا حامل تسلیم کیا تھا اور اس کے غیر انسانی رویّے کی مذمّت کی تھی۔ انھوں نے اس بات کی واضح سفارش کی تھی کہ یوپی پولس اور پی۔اے۔سی۔ میں اقلیتی طبقے کے افراد کی بڑے پیمانے پر شمولیت پر اور پولس کی تربیت کے نصاب میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں۔
کون سُنتا ہے فغانِ درویش____ ہندستانی پولس کا چہرہ ہمیشہ عوام مخالف نظر آرہا ہے۔ عام آدمی کی جان مال کی حفاظت اور سماج میں امن اور قانون کے ماحول کو قایم کرنے کے لیے آئین کے معماروں نے ایک پولس انتظامیہ کا تصوّر پیش کیا تھا۔ طرح طرح کی نابرابری اور بے انصافی میں مِٹتی ہوئی زندگی کو سہارا دینے کے لیے پولس کا نظام کھڑا ہوا تھا مگر دلّی سے لے کر دوٗر دراز کے گانْو تک آپ چلے جائیے، ہندستانی پولس نے خوف اور دہشت کی بنیاد پر مُلک میں اپنی ایک حکومت قایم کر رکھی ہے۔ پولس جبر اور قوّت کے ساتھ ہماری حاکم بنی، محافظ کبھی نہیں بن سکی۔ کوئی غریب ، کمزور، کوئی دُکھیاری اور معصوم؛ پولس تک آسانی سے اس لیے نہیں جاتے کیوں کہ انھیں پولس کی بے انصافیوں پر زیادہ یقین ہے اور اس بات کی تو ہرگز توقّع نہیں کہ پولس ان کے لیے کبھی مدد گار بھی ہوگی۔
سوال یہ ہے کہ کن وجوہات سے پولس پر عوامی اعتبار گھٹتا چلا گیا۔ غور کرنے سے یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آئے گی کہ پولس میں دو طرف سے گِراوٹ کا سلسلہ قایم ہوا۔ سیاست دانوں نے اپنے سیاسی مفاد میں پولس حُکّام کا استعمال کیا اور ان سے ترغیب پاکر جرائم پیشہ لوگوں نے بھی متوازی طور پر پولس کا بھر پور استعمال کیا۔ دیکھتے دیکھتے پولس محکمے پر بدعنوانیوں کا ایک تنظیمی ڈھانچہ قایم کرنے کا بھی الزام عائد ہوا۔ ایک کانسٹیبل یا ٹریفک پولسسے لے کرتھانا تک اور وہاں سے ڈی۔جی۔پی تک کس صوٗبے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ وہاں پوسٹنگ اور ٹرانسفر سے لے کر ہفتہ وار اور ماہانہ لین دین کا کاروبار نہیں ہے۔ ہر گانْو محلّے میںکسی دبنگ یا جرائم پیشہ کو کوئی مکان یا زمین پر ناجائز طور سے قبضہ کرنا ہے تو مقامی پولس سے حسبِ ضرورت مدد لی جاتی ہے۔ یہ کام پولس قانون کے راج کی بحالی کے لیے نہیں بلکہ اکثر و بیش تر مالی فائدے کے حصول کے لیے کرتی ہے۔ اس کے برعکس ایک فی صد بھی ایسی مثالیں ملنی مشکل ہیں کہ ہماری پولس کسی حق دار کے لیے سینہ سِپر ہو گئی اور اُن کو اُن کا حق مل گیا۔
پولس سیاست دانوں کے سیاسی مقاصد کے راستے میں بھی ہمیشہ دست معاونت بڑھاتی دیکھی گئی ہے۔ کہتے ہیں کہ سیاست دانوں کو اپنے بہت سارے مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لیے پولس کی مددکی ضرورت پڑے گی۔کسے ، کب جیل میں ڈال دیا جائے اور کسے کب چھوڑ دیا جائے۔ یہ سیاست دانوں کے اشارے سے پولس یہ کھیل کھیلتی ہے۔ اس کے عوض میں انھیں اچھی پوسٹنگ کے علاوہ منھ مانگی رقم بھی حاصل ہوتی رہی ہے۔ اسی طرح ہر علاقے کے جرائم پیشہ افراد کا حال ہے۔ ہر سیاسی پارٹی اور ان کے رہ نمائوں سے ان کا سیدھا رشتہ ہے۔ الیکشن کے وقت تو یہ لوگ بڑے کام کے ہوتے ہیں۔ سیاست داں جب اپنے مخالفین کو پولس کی طاقت سے سنبھال نہیں پاتے، اُس وقت یہ جرائم پیشہ افراد ان کے کام کے ثابت ہوتے ہیں۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کی اپنے اپنے زمانے میں حکومتیں بھی قایم ہوتی رہتی ہیں۔ یہ جرائم پیشہ افرادکب سفید پوش بن کرحکومت کے ایوان تک پہنچ جائیں، یہ کہنا مشکل ہے۔ پٹنہ ،لکھنؤ سے بمبئی اور دلّی تک ہر ایوان میں بھانت بھانت کے مقدّمات میں الجھے ہوئے افراد نظر آتے ہیں۔ سچّائی یہ ہے کہ سیاست دانوں کے زیرِ انتظام پولس اور جرائم پیشہ افراد کی ایک تثلیث پورے ملک میں کام کر رہی ہے۔ سب اپنے اپنے مفاد میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اس تثلیث کے تمام زاویے ہمیشہ برابر نہیں ہوتے۔ اسی لیے رہ رہ کر کچھ اُلٹ پھیر ہوتی ہے اور ایک بھونچال آ جاتا ہے۔ وکاس دوٗبے کے معاملے میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ اب ان کے جینے سے اس تِکون کا نقصان ہے، اس لیے اس کا مارا جانا ضروری تھااور پولس نے کہانی گڑھی۔ ہر چند ہدایت کار تو سیاست دان ہی ہوں گے۔
ہندستانی پولس کو عدالتوں پر فی الحقیقت اعتبار نہیں ہے۔ پتا نہیں پولس کو اس جمہوری ملک میں کس انداز کی تربیت دی جاتی ہے کہ اُسے اپنے نظامِ عدلیہ کے مقابلے اپنی گولیوں کا انصاف زیادہ عزیزہے۔ اکثر یہ بات کھُل کر سامنے آتی رہی ہے کہ پولس قانون کے راستے پر خود بھروسا نہیںکرتی۔ پولس کو اپنی گولیوں پر زیادہ اعتبار ہے۔ اُتّر پردیش کے موجودہ وزیرِ اعلا جب اقتدار میں آئے توانھوں نے جرائم پیشہ افراد کو ٹھوک دینے کا اعلان یا منتر دیاتھا۔ علی گڑھ کے ایک ایس۔ پی صاحب نے انکائونٹر سے پہلے صحافیوں کو بُلا لیا اور لائیو منظر دیکھنے کا انھیں موقع دیا۔ پولس میں بعض افسران انکائونٹر کے ماہرین تسلیم کیے جاتے ہیں۔ پولس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خرد بُرد ، بدعنوانی اور سیاست دانوں کے اشارے پر کام کرتے رہنے کی وجہ سے اپنا پروفیشنل ازم کھو چُکی ہے۔ اس لیے اُسے اس بات پر یقین نہیں کہ اُس کے بنائے گئے کیس عدالت میںٹھہر پائیں گے۔ دہلی فسادات میں جس انداز کی چارج شیٹ لگاتار داخل ہوتی جا رہی ہے، اس سے پولس کا نہ انصاف پسند چہرہ سامنے آ رہا ہے اور نہ ہی یہ بات واضح ہو ر ہی ہے کہ یہ لوگ اپنے کام کے ماہر ہیں۔ پولس جب حکومت کے خریدے ہوئے غلام کی طرح کام کرنے لگے گی ، اس وقت ایسے ہی نتائج سامنے آئیں گے۔
ہندستانی پولس اور یہاںتک کہ فوج غلام مُلک اور برطانوی حکومت کی بنائی ہوئی زنجیروں میں اب تک جکڑی ہوئی ہے۔ ذات برادری کے نام پر بٹالین کے نام رکھے جاتے ہیں اور کبھی اس بات کی کوشش ہی نہیں کی گئی کہ ان محکموں میں دلِت، اقلیت اور پسماندہ طبقات کے لوگوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بڑی تعداد میں اور کم از کم ان کی آبادی کے تناسب میںشمولیت ہو۔ جب تک پولس میں یہ عدم توازن قایم رہے گا،اس سے نہ جمہوری تقاضے پورے ہوں گے اور نہ ہی وہ انصاف کی عَلم بردار بنے گی۔ چہ جاے کہ ہم ا سے انسانی ہم دردی اور محبت و اخوّت کے پھیلانے کا ایک ادارہ سمجھیں۔
اُتّر پردیش اور بہار میں جرائم پیشہ افراد کی ذات برادری بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی طبقے کے سیاست داں ان سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور حسبِ ضرورت ان کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ کبھی کبھی تیل کی یہ دھار عدالتوں تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ کبھی خوف یا ناسمجھی میں عوام میں بھی ان طبقات میں ایسے جرائم پیشہ افراد کی طرف داری کا ایک ماحول تیّار ہوتا ہے۔ ہماری عدالتوں کے سر پر کام کا اتنا بوجھ ہے کہ انھیں ہر وقت سزا نہیں مل پاتی۔ عدالت سے حاصل شدہ مہلت میں یہ سانٹھ گانٹھ کرکے آگے بڑھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پورے ہندستان میں جرائم پیشہ افراد سیاست دانوں کا اچھا خاصہ کام سنبھالتے ہیں اور اس کے عِوَض میں حفاظت اور آزادی حاصل کرتے ہیں۔ کبھی چارج شیٹ کمزور کر دی جاتی ہے، کبھی ان کے خلاف کوئی گواہی دینے کے لیے آنے کی ہمّت ہی نہیں کرتا اور ایسے لوگ نئی نئی واردات انجام دینے میں سرگرداں ہوتے ہیں۔
پچھلے دنوں امریکہ کے ایک پولس کارندے کی غلطی سے پورے ملک کی پولس سَر جھُکا کر معافی مانگتی ہوئی نظر آئی۔ جب وہاں کے صدر نے سختی برتنے کی ہدایت دی تو وہاں کی پروفیشنل پولس نے وہاں اس سے منع کردیا اور اس بات کی تاکید کی کہ پولس کو آزادانہ طور پر کام کرنے میں حکمراں مداخلت نہ کریں۔ ہندستانی پولس اگر اپنی بے اعتباری کو اور اپنے نکمّے پن کے داغ کو دھونا چاہتی ہے تو اُسے امریکی پولس سے سیکھنا چاہیے۔ ہر کام اگر سیاست دانوں کے اشارے سے ہی ہونا چاہیے تو آخر انتظامیہ اور عدلیہ کا آزادانہ نظام آئین کے معماروں نے کیوں قایم کیاتھا۔ پولس کے اپنے اندر اصلاح کا بِگُل پھونکنا چاہیے ۔ وہ تھوڑے مفاد کے لیے کب تک جمہوری تقاضوں کی بَلی چڑھاتی رہے گی او راصحابِ حکومت کے اشاروں پر چل کر عوام دشمنی اور انصاف دشمنی کا مرتکب ہوتی رہے گی۔ ابھی کے حالات میں فرقہ پرست سیاست دانوں کی اصلاح تو مشکل ہے مگر کیا پولیس اور فوج کی انصاف پسندی، بشردوستی اور اعلا انسانی اقدار کی طرف داری کا خواب کیا شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ جمہوری ملک میں فصیلِ وقت پر لکھی ہوئی اس عبارت کو ہندستانی پولیس کو ضرور پڑھنا چاہیے اور اپنا نیا اور ین ٹیشن (Orientation)کرکے خود کو عام لوگوں کی محافظت کا سچّا عَلَم بردار بننا چاہیے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)