جمہوریت کا تحفظ ضروری ہے

 

جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا ارشدمدنی سے بات چیت

شکیل رشید
جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا سید ارشد مدنی ا ن دنوں عروس البلاد ممبئی میں ہیں ۔ آج جب یہ تحریر پڑھی جارہی ہوگی تب وہ ’ تحفظِ جمہوریت کانفرنس‘ سے یا تو خطاب کرنے کی تیاری کررہے ہوں گے یا خطاب کررہے ہوں گے ۔ ملک میں جمہوری قدروں کی پامالی پر انہیں ازحد تشویش ہے اور یہی وہ تشویش ہے جس نے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت سے ان کی ملاقات کرائی۔ حالانکہ اس ملاقات پر مثبت اور منفی ہر طرح کی نکتہ چینی ہوئی اورہورہی ہے مگر مولانا موصوف بھاگوت سے ملاقات پر مطمئن ہیں کیونکہ ان کے بقول ’’آر ایس ایس یہ چاہتا ہے کہ ملک کا ہر باشندہ اپنے نظریات پر قائم رہتے اور اپنی زبان بولتے ہوئے اتحادواتفاق کے ساتھ رہے ۔‘‘ کانفرنس کے اس موقع پر حضرت مولانا سے ممبئی سینٹرل کی عالیشان عمارت ’آرچڈ ٹاور‘ میں ملاقات اور کانفرنس کے تعلق سے باتیں ہوئیں، اقتباسات قارئین کی نذر ہیں ۔
س:تحفظِ جمہوریت پر اس قدر زور کیوں ہے ؟ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی جڑا ہوا ہے کہ یہ کانفرنس ممبئی میں کیوں ملک کے کسی اور شہر میں کیوں نہیں منعقد کی گئی ؟
ج: ممبئی میں تحفظِ جمہوریت کانفرنس کے انعقاد کی اہم وجہ ہے لیکن اس سے پہلے میں یہ بتاتا چلوں کہ اِن دنوں ملک بھر میں سی اے اے کو لے کر شور مچاہوا ہے ۔آئین کی دفعات ۱۴،۱۵، اور ۲۱ میں یہ وضاحت ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی بھی شہری کی حق تلفی نہیں کی جائے گی ۔ یہ شک تھا کہ یہ ملک کو سیکولر کردار سے ہٹاکر دوسری طرف لے جانا چاہتے ہیں ۔ سی اے اے کو عجلت سے پاس کرایا لہٰذا خطرے کو مضبوطی مل گئی۔ حالیہ احتجاجی مظاہروں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندوؤں میں سمجھ دار لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو سی اے اے کو ملک کے سیکولر ڈھانچے کے لئے خطرہ محسوس کرتی ہے ۔ ہم سب کا ماننا یہ ہے کہ ملک میں بے شمار اقلیتیں ہیں اس لئے ملک کے تانے بانے کو جوڑ کر رکھنا تب ہی ممکن ہے جب دستوری اعتبار سے ملک کا سیکولر کردار ہر سطح پر حاوی رہے ۔ اگرچہ سرکار کے لوگ گھر گھر اور گاؤں گاؤں جاکر ہمارے خطرات کی نفی کررہے ہیں لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں اور یقین کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ ملک کا سیکولرزم خطرے میں ہے ، اس لئے ہم ہر طبقے کے عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لئے اس طرح کے پروگرام کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے تاکہ رائے عامہ ہماری تائید سے مستحکم سے مستحکم تر ہوکر سامنے آئے ۔
س: پر ممبئی میں یہ کانفرنس کیوں؟
ج: ہم نے یوپی میں بھی اجازت چاہی ، دیوبند ، اعظم گڑھ ، مئو میں بھی اجلاس کرنا چاہا، دہلی میں بھی ہم نے اجلاس کی کوشش کی لیکن جمعیۃ علماء ہند جیسی جماعت کو بھی ، جس کا ملک کی آزادی میں بڑا اہم کردار ہے اور جس کی سیاست کی بنیاد ہندو ، مسلم اور ملک کے تمام طبقات کے درمیان پیار ومحبت پر ہے ، اجلاس کی اجازت نہیں ملی ۔ بعض جگہوں پر اجازت دے کر رد کردی گئی ۔ ہم نے یہ سمجھا کہ ہمیں کسی ایسی ریاست میں جانا چاہیئے جہاں بی جے پی کی حکومت نہ ہو ، اور ہماری جنرل باڈی کے ممبران کو پورے ملک سے وہاں پہنچنے کی سہولت ہو ، اس لئے ممبئی کو طے کیا ۔
س: جمعیۃ علماء ہند جیسی ملک سے محبت کرنے والی تنظیم کو بھی کئی ریاستوں میں اجلاس کی اجازت نہیں دی گئی ، بالخصوص یوپی میں ، جہاں آدتیہ ناتھ یوگی وزیراعلیٰ ہیں ، اس کی وجہ کیا ہے ؟
ج: موجودہ دورِ اقتدار میں ، اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ملک کے دستور اور عوام کے احتجاجات کو اہمیت نہیں دی جارہی ہے ۔ خود یہ ریاستی حکومتیں لگتا ہے کہ انتشار چاہتی ہیں حالانکہ امن وامان اور شانتی کے ساتھ حکومتیں اس طرح کا کھلواڑ نہیں کرتیں ۔ ہندوستان جیسے ملک میں خاص طور پر جنتا (عوام) کو مطمئن کرکے قدم کو آگے بڑھانا حکومت کے لئے زیادہ ضروری ہے ، بدقسمتی سے آج کل یہ اصول پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے ۔۔۔ یوپی میں یوگی سرکار دستور اور عوامی احتجاجات کو زیادہ نظر انداز کررہی ہے ، لوگ یوگی سے شدید ناراض ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ آئندہ وزیراعلیٰ منتخب ہوسکیں گے ۔
س:آپ نے کہا دستور کو نظر انداز کررہے ہیں، اس کا مطلب وہ ملک کے آئین کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا انہیں اس میں کامیابی ملے گی ؟
ج: یہ آئین کو تبدیل کرسکیں گے یا نہیں ، پتہ نہیں مگر ،عملی طور پر جس نظریے پر آزادی کے بعد سیاست کی بنیاد رکھی گئی تھی اور ملک نے ترقی کی اور بڑی حد تک خود کفیل ہوا تھا ، یہ سب جو آج ہورہا ہے ، اس نظریے کے خلاف ہے ۔ اب اس کا مستقبل کیا ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔
س: جمعیۃ علماء ہند کی کوشش تو یہی ہے کہ جمہوریت ، سیکولرزم اور آئین محفوظ رہے ۔ ممبئی سے بھی آپ یہی پیغام دیں گے ۔ کیا یہ کوشش کامیاب رہے گی ۔ ؟
ج: ہم کوشش میں کتنے کامیاب ہوں گے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے ۔ ہماری کوشش ہر افتراق کی پالیسی کی مخالفت اور ہر پیار ومحبت اور اتفاق کی پالیسی کی تائید ہے ۔ جمعیۃ علماء ہند سوسال سے اسی نظریے پر کام کررہی ہے آج ہم اس دور میں کتنے کامیاب ہوسکیں گے اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ ہمیشہ کی طرح ہمارے اس ملک میں مختلف طبقات میں اتحاد ، پیارومحبت پیدا فرمائے ۔ سب ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوں ۔ جمعیۃ علماء ہند نے آزادی کے لئے قربانی دے کر ہندوستان کو آزاد کرایا ، اور اس کی جمہوری ، سیکولر اور آئین پر چلنے والی تصویر بنائی ، اللہ کرے اس کی یہ تصویر قائم رہ سکے ۔ ہمارا پیغام اتحا داو راتفاق ہی ہے ۔
س:یہ جو تحریکیں چل رہی ہیں ، سی اے اے مخالف ، بالخصوص خواتین کی ، آخر جمعیۃ علماء ہند ان سے کیوں دور ہے ؟
ج: سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر کے خلاف تحریکیں چل سکتی ہیں اور چل رہی ہیں لیکن ان تحریکوں کی کامیابی کی صورت صرف اور صرف اس میں مضمر ہے کہ صرف اقلیت نہیں بلکہ احتجاج ملک کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر کیا جائے ۔ اس لئے کہ یہ مسائل تنہا مسلمانوں کے نہیں ہیں ، سرکار ہندو ، مسلم بناکر ان تحریکوں کو بے جان کرنا چاہتی ہے ، اس لئے ان میں طاقت اسی وقت پیدا ہوگی جب ملک کے ہر طبقے کا سمجھدار انسان یہ سوچ کر حصہ لے کہ ملک کو جس سمت پر لے جارہا ہے وہ ملک کے لئے خطرناک ہے ۔ وہ احتجاجی تحریکوں کا حصہ بنے ۔ اور احتجاجی مظاہرے بھی پرامن ہوں ۔ جمعیۃ علماء ہند ان ہی دوشرطوں کے ساتھ احتجاج کے حق میں ہے ورنہ فائدہ کی جگہ نقصان زیادہ ہوگا ۔
س: پر خواتین کے جو احتجاجات ہیں ، جیسے کہ دہلی کا شاہین باغ ، سب پرامن ہی ہیں ؟
ج: یقیناً یہ احتجاجات پرامن ہیں لیکن بہت سی جگہوں پر احتجاجات مشترک نہیں ہیں ۔ ہم نے جہاں احتجاج کی تائید کی ا ن شرطوں کو بنیادی مانا ہے ۔ دہلی کے شاہین باغ کے احتجاج میں ہم اس بنیاد پر نہیں شریک ہوئے کہ ہماری شرکت سے ہندو ، مسلم اشتراک کا پہلو متاثر ہوسکتا ہے ۔ خود احتجاج کرنے والے بھی اس بات کو سمجھتے ہیں ۔۔۔ لیکن جب احتجاجیوں کے ساتھ جے این یو او رجامعہ ودہلی یونیورسٹی کے طلباء شریک ہوگئے اور یہ اقلیت اور اکثریت کا ملا جلا احتجاج بن گیا تو ہم نے اس کی تائید کردی اس تعلق سے میڈیا میں ہمارے بیانات آئے ہیں ۔ آج بھی ان ہی دوشرطوں کے ساتھ ملک کے سیکولر ڈھانچے کی حفاظت کے لئے ، این آرسی، این پی آر اور سی اے اے کی مخالفت میں ہم ہر احتجاج کی تائید کریں گے ۔
س: سیکولر ڈھانچے کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام آر ایس ایس کے سرلگتا رہا ہے ، آپ نے کچھ قبل آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت سے ملاقات کی تھی ، کیا آپ کو لگتا ہے کہ آر ایس ایس میں تبدیلی آئے گی ؟
ج: دیکھئے موہن بھاگوت کے اب جو بیانات آرہے ہیں ان میں ہندوں اور مسلمانوں میں قربت کی بات ہوتی ہے ۔ اتحاد کی بات ہوتی ہے ۔ یقیناً آر ایس ایس بدل سکتی ہے ، نظریات بدلتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ آر ایس ایس یہ چاہتی ہے کہ ملک کا ہر باشندہ اپنے نظریئے پر قائم رہے اور اپنی زبان بولتے ہوئے اتحادواتفاق کے ساتھ رہے ۔ میں مطمئن ہوں ، اللہ کی ذات سے امید ہے کہ سنگھ سے بات آگے بڑھے گی ۔ سنگھ کے پدادھیکاری بھیّا جی جوشی کی اس بات پر کہ بی جے پی کی مخالفت کا مطلب ہندو مخالفت نہیں ہے ، غور کرنا چاہیئے ۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ ملک کا کوئی بھی رہنے والا اگر بی جے پی کی مودی اور یوگی کی سیاست کی مخالفت کرتا ہے تو یہ اس کا حق ہے ۔ بی جے پی ایسے لوگوں کے وچاروں کو سمجھے اور اپنے سیاسی موقف کو تبدیل کرے ، مخالفت کرنے والوں کو دیش دروہی یا غدارِ وطن نہیں کہا جاسکتا ۔ آر ایس ایس کے نظریے میں تبدیلی بہت بڑی بنیاد دونوں قوموں میں اتحاد واتفاق کی بن سکتی ہے ۔
س: کیا بی جے پی اپنا سیاسی موقف تبدیل کرسکتی ہے ، آپ کو کیا لگتا ہے ؟
ج: یہ ہر صوبےسے نکلتی چلی جارہی ہے ، اب آگے الیکشن میں کیا ہوتا ہے دیکھئے ۔ بہرحال بی جے پی اور یہ لوگ آگے بڑھ نہیں رہے ہیں ۔ پہیہ الٹا گھوم رہا ہے۔ ہندو اور مسلمان دونوں نے ان کی پالیسیوں کو اور سیاہ شہریت قانون کو پسند نہیں کیا ہے ۔ اگر انہوں نے سبق نہ سیکھا تو بربادی مقدر ہے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*