جمہوریت کے مکالمے میں مسلمان بے اثر کیوں؟عمیر انس

جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت گفتگو ہے۔مذاکرات ہیں، افہام اور تفہیم کا عمل ہے۔ کسی اور نظام میں اس بات کی گنجائش نہیں ہوتی کہ عوام کا ہر طبقہ اپنی رائے دینے اور سمجھانے کا حق دار ہو، اسی لیے جمہوریت اپنے بہت سارے نقائص کے باوجود ماضی کے دیگر نظاموں سے زیادہ پائیدار اور خوبصورت نظر آتی ہے۔ لیکن اس خوبصورتی اور پائیداری کو بڑی آسانی سے بدلا بھی جا سکتا ہے، اگر جمہوریت میں افہام وتفہیم کو، گفتگو اور مذاکرے کو محض ووٹ حاصل کرنے اور عوامی حمایت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا جائے تو مذاکرات کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے، مذاکرات فورا پروپیگنڈا بن جاتے ہیں۔ مذاکرات کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عوام ہر مرتبہ زیادہ معیاری، زیادہ مبنی بر معلومات، زیادہ مدلل گفتگو کر سکیں اور سن سکیں۔ مذاکرات اور گفتگو ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ بجائے خود ایک مقصد ہے، گفتگو کرتے رہنا خود ایک ضرورت ہے، کوئی بھی تبدیلی گفتگو کرتے رہنے کی ضرورت کو ختم نہیں کر سکتی۔ اگر دنیا میں سب سے مثالی حکم رانی قائم ہو جائے تب بھی معیاری استدلال اور بہتر مذاکرے کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ ہندوستان میں بد قسمتی سے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ملک اپنے سب سے بہتر دورِ حکم رانی میں پہنچ گیا ہے اس لیے اب استدلال والی گفتگو اور مذاکرے کی بجائے محض قصیدہ خوانی یا مذمت سازی ہی میڈیا کا کام رہ گیا ہے۔ یہی عقیدہ جمہوریت کا دشمن ہے اور استبدادی فکر کا پہلا کلمہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مسلمان اس ملک میں اپنے دستوری حقوق کی حفاظت کیسے کریں؟ اپنی جان مال اور عزت وآبرو کو میڈیا کے ذریعے پیدا کیے جانے والے خطرات سے کیسے بچائیں؟ مسلمانوں کو پاکستانی یا جہادی کہہ کر مارے جانے کا خوف ستا رہا ہو، مسلم خواتین کو اپنی اسلامی شناخت کی برقراری پر ستائے جانے کا خدشہ ہو اور جب ماں باپ اپنے بچوں کے سفر پر جانے اور نوکریوں پر جانے میں تشدد کے شکار ہو جانے کا خوف محسوس کر رہے ہوں تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ میڈیا آپ کی دشمنی کے سارے سامان فراہم کر چکا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ ایک دو سیمینار کر لیے جائیں اور سو پچاس ٹوئٹر ٹرینڈ چلا کر اور ایک دو صحافیوں پر بھڑاس نکال کر مطمئن ہو لیا جائے، یہ جمہوری نظام کی ایک اہم بنیادی کمی کو بہت سستے میں حل کرنے کے مترادف ہوگا۔
مسلمان ایک شدید دشمنانہ رویہ رکھنے والے میڈیا کے سامنے اپنے آپ کو کیسے محفوظ کریں؟
مسلمانوں کے شہری حقوق کی نمائندگی کرنے والا ایک بھی ٹی وی چینل نہیں ہے اور ایک بھی قومی اثر کا اخبار نہیں، اس بات کے لیے تو مسلمان سرمایہ داروں کو بھی قصور وار ٹھیرانا چاہیے، لیکن یہ رونا تو سبھی شعبوں میں ہے، مسلمان تاجر لمبی دوری کی دوڑ پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ کیا اب مسلمان اپنا چینل قائم کر سکتے ہیں؟ نہیں! کیا انہیں کوشش کرنا چاہیے؟ بالکل! لیکن اس کوشش کے سہارے انتظار نہیں کیا جا سکتا ماضی میں کئی کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔ لیکن اگر مسلمان چاہیں تو اس ملک میں ایک الگ قسم کا میڈیا انقلاب برپا کر سکتے ہیں، لیکن کیا یہ ممکن ہے؟ اور ہے تو کیسے؟ زیرِ نظر مضمون میں اسی سمت میں توجہ دلانے کی ایک کوشش کی جا رہی ہے۔
میڈیا خود ایک مسئلہ بھی ہے اور حل بھی۔ مذاکرات وگفتگو اور میڈیا، دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ جس زمانے میں یہ بات کہی گئی تھی کہ میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون ہے وہ زمانہ لَد گیا۔ جمہوریت میں جس میڈیا کی ضرورت ہوتی ہے اس میں معاشرے کا ہر طبقہ اپنی بات کہنے کا حق دار ہوتا ہے اور اسے موقع بھی دیا جاتا ہے، یہی نہیں بلکہ بات کہنے کے ساتھ بات سننے کا بھی حق حاصل ہوتا ہے، لیکن ہندوستانی میڈیا کو دیکھ کر کوئی بھی آسانی سے بتا سکتا ہے کہ یہاں کہنے والے بہت کم ہیں، اور دوسروں کو تو کہنے کا کوئی موقع ہی نہیں ہے اور اگر وہ متبادل میڈیا میں بولتے بھی ہیں تو انہیں سُنے جانے کا کوئی اہتمام نہیں ہوتا۔ جمہوری میڈیا کی اہم صفت یہ ہے کہ افہام وتفہیم کا مقصد عوام کو صائب الرائے بنانے میں مدد کرنا اور اقتدار کو عوام کی بات سننے اور عمل کرنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔ ہندوستانی میڈیا ہندوستان کے صرف دس کروڑ دولتمند، سیاستداں اور اونچی برادری کے طبقے کا میڈیا ہے۔ دلت اینکر، دلت رپورٹرز، دلت طبقے کے میڈیا مالکان، سکھ طبقے کے اینکرز، میڈیا مالکان، آدی واسی طبقے کے میڈیا پروفیشنلز، اور اسی طرح سے سماج کے سبھی طبقات کی نمائندگی کرنے والا میڈیا ہندوستان میں کہیں نہیں پایا جاتا۔ لہٰذا ہندوستان میں جمہوریت کے تحفظ کو سب سے بڑا خطرہ اگر کسی سے ہے تو وہ اسی دس فیصد طبقے کے میڈیا سے ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میڈیا کو ہندوستانی تعدیت کا نمائندہ بننے کی کوئی تحریک چلتی، غیر نمائندہ میڈیا کی ریٹنگ کی جاتی، انہیں غیر پیشہ ور قرار دے کر حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتہارات سے محروم کر دیا جاتا، لیکن اس کے بجائے ان پر انعام واکرام کی بارش کی جا رہی ہے۔ ہندوستانی میڈیا کو شفاف اور جوابدہ بنانے کی نہ کوئی تحریک موجود ہے اور نہ قانونی اور پیشہ وارانہ ضوابط ہیں۔ دوبارہ عرض ہے کہ ملک کا موجود میڈیا، ماڈل جمہوریت کے لیے، مسلمانوں کے وجود کے لیے، محروم طبقات کے حقوق کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ میڈیا کو شفاف بنانا، اسے سبھی طبقوں کی آواز کی برابری کے ساتھ نمائندگی کرنے والا بنانا، اسے جمہوری قدروں کے سامنے جواب دہ بنانا سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے۔ اب میڈیا عوام اور اقتدار کے درمیان مذاکرات کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ اقتدار کا آلہ کار ہے جو عوام پر اقتدار کا موقف مسلط کرنے کے لیے وجود میں آیا ہے۔ اس کا معاشی ماڈل ہی ایسا ہے کہ وہ شفّاف اور عوام کو شامل کرنے والا مذاکراتی طرزِ گفتگو زیادہ دیر تک چلا ہی نہیں سکتا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو میڈیا اور پبلک ڈومین میں جس طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے اس کی اہمیت اور سنجیدگی سے ایک بڑا اور سنجیدہ طبقہ بھی غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ میری بات کو زیادہ آسان طریقے سے سمجھنے کے لیے آپ قیاس کریں کہ بیس کروڑ مسلمانوں کا اگر ایک ملک ہوتا اور اسے اپنے بچوں کی تربیت، نوجوانوں کی تعلیمی ترقی، خواتین میں بیداری اور اپنے معاشرے کی کمیوں کو دور کرنے کے لیے اگر میڈیا ادارے قائم کرنے ہوتے تو اب تک کون کونسے ادارے، چینلس، اخبارات اور ویب سائٹس وغیرہ قائم ہو چکے ہوتے؟ ہندوستان میں ہماری کچھ ضرورتیں دیگر میڈیا سے پوری ہو جاتی ہیں لیکن بہت ساری نہیں ہو پاتیں مثلاً اخلاقی تربیت، تعلیمی بیداری، معاشرتی بیداری، دعوت اور تبلیغ اور ملکی سیاست میں اپنے موقف کو موثر طریقے سے واضح کرنے کے لیے جس میڈیا کی ضرورت ہے وہ تو کوئی پوری نہیں کر سکتا۔ اتنا ہی نہیں اس ملک میں مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی جو ایک منظم انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکی ہے جو وہاٹساپ سے شروع ہوتی ہے اور لائیو ٹیلی کاسٹ کے ذریعے ہر روز ہر پل، لاکھوں الفاظ، لاکھوں مختصر پیغامات، کارٹونس اور فرضی فوٹوز کی شکل میں ملک کے پبلک ڈومین میں یا یوں کہیے کہ ملک کے خون میں داخل ہوتی ہے۔ اگر دس بیس مسلمان اس منظم کوشش کا جواب دینا بھی چاہیں تو یہ نا ممکن ہے۔ یہ غیر سطحی کوشش اس کوشش کا مقابلہ نہیں کر سکتی جس کے پشت پر پوری ریاست کی طاقت لگی ہوئی ہے۔ کوئی مسلم ادارہ اس طوفانِ بلا خیز کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ جن لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ کچھ ویب سائٹس بنا کر دو چار یو ٹیوب ویڈیوز بنا کر اس چیلنج کا جواب دیا جا سکتا ہے تو انہیں دو نکات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
اول، ڈیڑھ ارب کے قریب کی آبادی والی جمہوریت میں جہاں انتخابات قومی، ریاستی اور بلدیاتی سطح پر ہوتے ہیں وہاں پبلک اوپینین یا رائے عامہ سب سے اہم چیز ہوتی ہے۔ کسی بھی خبر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جاتا کی وہ کتنی حقیقت پر مبنی ہے اس کی اہمیت صرف اس بات سے طے پاتی ہے کہ وہ کتنے بڑے طبقے کو متاثر کر سکتی ہے۔ میڈیا، ملک میں حکم راں اور ایلیٹ طبقے اور زیادہ سے زیادہ محدود اور بے ضرر قسم کی اپوزیشن کے درمیان ہی محدود رہے، جسے اصطلاح میں Eco Chamber کہتے ہیں جس میں خاص قسم کی ہی بحثیں ہوتی رہتی ہیں جو دیکھنے میں کبھی حکومت مخالف بھی لگتی ہیں لیکن در اصل وہ حکومت کےحق میں حمایت کو مزید پھیلانے میں مدد کرتی ہیں۔ جو لوگ اسی اِکو چمبر میں شور مچانے کو ہی کافی سمجھتے ہیں وہ در اصل حکومت کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ جیسا کہ کچھ مسلمان مولوی نما افراد آج کل ٹی وی پر مسلمانوں کی بے عزتی کا سمبل بنے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس قسم کے جال سے نکلنے کے لیے سب سے بہتر تدبیر یہ ہے کہ اس اکو چمبر کو ہی توڑ دیا جائے، بحث کا ڈائریکشن اور اس کے موضوعات وہ نہ ہوں جو اقتدار اور اس کا میڈیا طے کرتا ہے بلکہ وہ ہوں جو آپ چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ سوال کہ مسلمان وطن پرست ہیں یا نہیں؟ آسان جواب یہی ہے کہ ہاں یقیناً ہیں اور فوراً مسجدوں ومدرسوں میں ترنگے لہرانے لگیں۔ یہ ٹریپ ہے، اگر آپ یہ بحث کرانا چاہیں کہ وطن پرستی نام کا کوئی جذبہ نظری اعتبار سے پیدا ہی نہیں ہو سکتا تو شاید آپ بحث سے باہر نکال دیے جائیں۔ پہلے سوال کے جواب کے لیے کسی محنت کی ضرورت نہیں ہے لیکن دوسرے سوال کے جواب میں آپ بحث کا راستہ بدل رہے ہیں اس لیے آپ کو زیادہ گہرے مطالعے کی اور زیادہ سنجیدہ فکر کی ضرورت ہوگی۔ آپ کو طے کرنا ہوگا کہ آپ ملک میں خود کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ملک کو کیا دینا چاہتے ہیں۔ اگر اور زیادہ آسان طریقے سے کہیں تو یہ سمجھیں کہ جمہوریت کا کھیل رائے عامہ کی شطرنج پر کھیلا جاتا ہے، ماہر کھلاڑی کو ہمیشہ معلوم ہوتا ہے کہ شطرنج انفرادی طاقت دکھانے کا کھیل نہیں بلکہ وہ سبھی کھلاڑیوں کے کامیاب کوآرڈینیشن سے ہی جیتا جاتا ہے، اس میں پیادے کھوئے جاتے ہیں سامنے والے کو لالچ دلانے کے لیے۔ یہ سمجھنا کوئی مشکل سائنس نہیں ہے کہ ہندوستان کی شطرنج کی بساط پر ملت اسلامیہ کا ہر کھلاڑی اکیلے خود کو طرم خان سمجھ کر اپنے آپ کو قربان کر رہا ہے، اور ملت صرف اور صرف دفاعی کھیل کھیل رہی ہے، مجال ہے کہ ملت کے قائدین اپنی حکمت عملی کو ایک دوسرے کے تعاون سے طے کرنے کے لیے مل بیٹھیں؟
دوسری طرف صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ آپ کی شاندار گفتگو ایک ارب انسانوں کی آبادی والے ملک میں صرف بیس پچیس ہزار لوگوں کے درمیان ہی محدود ہو، یعنی آپ خود ہی لکھ لیں خود ہی شائع کر لیں اور خود ہی پڑھ لیں۔ اس سے تو اچھا ہے کہ آپ کوئی دوسرا بزنس شروع کریں۔ مسلمانوں کے زیادہ تر میڈیا کی حالت کچھ ایسی ہی ہے۔ لاکھوں لاکھ خرچ کرتے ہیں لیکن وہ اپنی پہنچ بڑھانے میں کامیاب ہی نہیں ہو پاتے، وجہ بہت سادہ سی ہے، جس بات کو دوسرے لوگ تین منٹ میں کہہ دیتے ہیں اس کو ایک روایتی مسلمان آدھے گھنٹے میں بھی نہیں کہہ پاتا۔ میں بہت سے شاندار مقررین کو جانتا ہوں جو اگر ذرا سا بھی اپنے طریقے میں تبدیلی پیدا کر لیں تو صرف مسلمانوں ہی میں نہیں غیر مسلموں میں بھی مقبول ہو جائیں۔ ان کے ویڈیوز کی افادیت کو معمولی سے تکنیکی اصلاحات کا استعمال کرکے کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مسلمانوں کے بیشتر میڈیا ہاؤسز اور بیشتر مقررین اور مصنفین حضرات اس بات سے بے نیاز رہتے ہیں کہ کوئی ان کی بات کو چاہے تو پڑھے یا نہ پڑھے، ان کا کام تھا کرنا سو کر دیا۔ نہیں جناب! یہیں آپ غلط ہیں، آپ کا کام صرف کہنا نہیں ہے بلکہ اس کو بھی یقینی بنانا ہے کہ آپ کا کہا ہوا ہزاروں اور لاکھوں لوگوں تک پہنچے، اور اس کے لیے جو ضروری تبدیلی اور تکنیک سیکھنے کی ہے وہ فوراً سیکھیں اور کریں۔
تیسرا، مسلمانوں کو اس ملک میں سب سے زیادہ نقصان میڈیا سے ہی ہو رہا ہے کیسے؟ رائے عامہ میں ان کے مسائل کو پیش کرنا تو دور کی بات ہے خود مسلمانوں کو ہی سب سے بڑا مسئلہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ جمہوریت میں سب سے اہم کام ہے کہنا اور سننا، کہنے دینا اور سننے دینا اور مسلمانوں سے یہ حق چھینا جا چکا ہے۔ وہ بولتے ہیں تو ان کی آواز میں دم خم نہیں رہتا جس کی وجہ سے ان کو سنا بھی نہیں جاتا۔ مسلمانوں کی بیروزگاری، غربت، جہالت، تربیت اور تعلیم میڈیا کے نزدیک تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ ملک کے کسی اہم کام میں مسلمانوں کی بھی کچھ رائے مفید ہو سکتی ہے اس کا بھی میڈیا کے پاس کوئی تصور نہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کا جمہوری عمل سے باہر ہو جانا اور بے وقعت ہو جانا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ ہاں یہ پہلے بھی ممکن تھا اور آج بھی ہے کہ مسلمان خود کا مضبوط میڈیا ہاوس بنائیں، اچھا برا چھوٹا بڑا جیسا بھی ہو انہیں تجربہ تو ضرور ہی کرنا چاہیے۔ لیکن انہوں نے اچھے تجربے بہت کم ہی کیے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں انہوں نے تجربے کیے اور کافی حد تک کامیاب ہوئے، تجارت میں بھی کامیاب ہوئے، لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ میڈیا میں کامیاب نہ ہوں۔ اگر مسلمانوں کی سیاسی پارٹی قائم کرنا ضروری ہے تو ٹی وی چینل اور اخبارات اور سوشل میڈیا بھی ہونے چاہئیں، اسی لیے میں نے اس مضمون کو میڈیا انقلاب کا نام دیا ہے کیوں کہ اب مسلمانوں کو میڈیا کے میدان میں بہت ہی بڑے خلا کو پورا کرنا ہے۔ میڈیا میں مسلمانوں کی بے توجہی سے تین قسم کے مسائل پیدا ہوئے ہیں جن کے حل کے لیے مسلمانوں کو سنجیدگی سے غور وفکر اور عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پہلا، تربیتی میڈیا کا خلا، دوسرا، برادرانِ وطن سے تعلقات ورشتے استوار کرنا اور تیسرا ملک کے جمہوری مکالمے میں حاشیے پر آ جانا۔
تربیت:
مسلمان اپنے بچوں کی جس طرح کی تربیت کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ضروری مواد میڈیا میں موجود ہو، یہ مواد صرف اردو اخبارات ہی میں نہیں بلکہ تربیت کے تمام جدید وسائل میں موجود ہو۔ کچھ لوگ صرف ترکی کے ڈرامے ارتغرل کو دیکھ کر اور کچھ لوگ سعودی عرب اور پاکستانی پروگرامس دیکھ کر اس ضرورت سے بے نیاز ہو گئے ہیں لیکن انہیں سوچنا ہوگا کہ ان کو ہندوستان میں کیسے مفید بنایا جائے۔ جو مفید چینلز اور ان کے کچھ مفید پروگراموں کو دیکھنے دکھانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن مسلمانوں کو سوشل میڈیا پر اپنے خود کے تربیتی پرگرامس پیش کرنے اور انہیں مقبول بنانے سے کسی نے نہیں روکا ہے۔ اس طرح کی کوششوں کے لیے مدارس اسلامیہ میں اب باقاعدہ دو تین ہفتوں کے کورس ہونے چاہئیں۔ ہر عالم دین اور حافظ قران کو سوشل میڈیا کے مفید استعمال اور اسلامی تعلیم کی نشر واشاعت اور اپنے مصلیوں، طلبہ اور اپنے علاقے کے افراد کو بہتر تربیت دینے میں سوشل میڈیا کے استعمال کی ٹریننگ دینے کے مختصر کورس سے ضرور گزارنا چاہیے، مگر کافی یہ بھی نہیں ہے کیوں کہ کوئی بھی بچہ ہیری پوٹر اور چوں چوں ٹی وی کو چھوڑ کر آپ کے بور پروگرامس کبھی نہیں دیکھے گا اس لیے آپ کا چیلنج اس معیار کی creativity سے ہے۔ زیادہ تر مسلمان مربیوں اور مقرروں کے یو ٹیوب ویڈیوز بس اس قیاس پر بنائے گئے ہیں کہ مسلمان بچوں میں زیادہ پر لطف اور مزیدار پروگرام دیکھنے کا شوق اور ذوق ہوتا ہی نہیں، اس لیے ہمارے علماء اور مربیان کو فکر کرنی ہوگی کی ان کے پروگرامس انسانی ذوق کو اپنی طرف کھینچنے میں کیسے کامیاب ہوں اور یہ کیسے ممکن ہے؟ اس کی ایک عملی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ پہلے علماء اور مربیان creativity کے میدان میں دوسروں سے زیادہ بہتر بنیں، پھر اپنے پروگرام ڈیزائن کرنے کے لیے اس میدان کے ماہرین کی خدمات لیں اور ان کاموں کے لیے اہلِ خیر حضرات سے بھی مدد لیں اور اہلِ خیر حضرات بھی چندے دیتے وقت پروگراموں کی کامیابی کی رپورٹس، TRP ویورشپ دیکھ کر فنڈنگ کریں، نئی صلاحیتوں کے تجربے کرنے کے لیے ضروری فنڈز فراہم کیے جائیں، جماعتوں اور تحریکوں کو ایسے افراد اور پروجیکٹس کی سرپرستی کرنے کے لیے آگے آنا ہوگا۔ میں نے یہاں پروگراموں کے موضوعات پر جان بوجھ کر بات نہیں کی ہے کیوں کہ یہ مسلمانوں کے ہر طبقے کے لیے الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن کوئی بھی چاہے وہ کسی بھی فرقے اور جماعت کا ہو اس کو میدان میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت تو حاصل کرنی ہی ہوگی۔
دعوت:
دعوت سے مراد وہ پروگرام ہیں جن کے مخاطب مسلمان نہیں بلکہ برادرانِ وطن ہیں۔ بدقسمتی ہے کہ مسلمان علماء وفضلاء نے عربی اور فارسی کی کتابوں کے ترجموں کے ڈھیر لگا دیے ہیں لیکن یہ نہیں سوچا کہ ہندوستان میں قرآن کا اور اللہ کے رسول کا تعارف کرانے کا انداز مصر، ترکی اور سعودی عربیہ سے الگ ہونا چاہیے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہندوستان کے غیر مسلم قارئین کے اشکالات کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی تفسیر اور کوئی سیرت کی کتاب آزاد ہندوستان میں لکھی گئی ہو؟ یہ تو ظاہر ہے کہ ہندوستان میں کوئی ٹی وی چینل اس مقصد کے لیے نہ تو مسلمان کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ حکومت کھولنے دینے کی اجازت دے گی۔ ایک ایسے ماحول میں جس میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی سیلاب کی مانند برپا ہے مسلمانوں کی ذاتی کوششیں اور جماعتوں کی اجتماعی کوششیں بے خبری، بے بسی اور بےحسی کا شکار ہیں، ہزاروں کی تعداد میں مدرسے ہیں لیکن وہ دین کے موضوع پر منظم اور حکمت وموعظت پر مبنی کوئی کوشش شروع نہیں کر سکے ہیں، وہ کر سکتے ہیں لیکن ان کی ترجیحات کا فہم اتنا ہی ناقص ہے جتنا تاتاریوں کے حملے کے دوران بغداد کے علماء کا تھا۔ مدارس میں غیر مسلم طلبہ کی تعلیم کا سلسلہ شروع کرنا تو بہت دور کی بات ہے غیر مسلم نوجوانوں میں اسلام کے بنیادی اور ضروری تعارف کرانے کے بنیادی عمل کو بھی وہ نفل عمل کے برابر نہیں سمجھتے۔ہندوستان میں اسلام کی دعوت کے سلسلے میں تین بڑی مشکلات ہیں، پہلی مسلمانوں کے تعلق سے سیاسی اور سماجی سطح پر خطرناک غلط فہمیاں۔ دوسری، مسلمانوں کی تاریخ کو زہر آلود کیا گیا۔ اور تیسرے، خود مذہب اسلام کے سلسلے میں بد ترین قسم کا پروپیگنڈا۔ دعوت دین ان تینوں کو الگ الگ طریقوں سے مخاطب کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ جب آپ اسلام کی طرف دعوت دیں تو آپ کے مخاطب انسان کے قلوب ہوں، ان کے جذبات ہوں، ان کی خوبیاں ہوں۔ لیکن جب آپ مسلمانوں کے تعلق سے غلط فہمی دور کرنے کا کام کر رہے ہوں تو اس میں سیاسی اور سماجی بصیرت شامل ہونا چاہیے۔ اس کے مقابلے میں جب آپ تاریخ میں مسلمانوں کے بارے میں پھیلائی گئی غلط فہمیوں کا ازالہ کر رہے ہوں تو اصل مخاطب ذہن ہوں گے، جہاں دلائل، شواہد اور نظری استدلال آپ کے وسائل ہوں گے۔ مسلمانوں میں یہ فیشن عام ہے کہ ایک ہی شخص یہ تینوں کام وہ بھی ایک ہی نسشست میں اور اتمام حجت کے ساتھ کر دینا چاہتا ہے۔ سوشل میڈیا پر جو لوگ اس کام میں لگنا چاہتے ہیں انہیں سمجھنا چاہیے کہ ہر آدمی سارے کام نہیں کر سکتا اور نہ ہی کرنا چاہیے۔ یہ زمانہ علوم میں اختصاص کا زمانہ ہے، اس زمانے میں تجدید کا کام ایک فرد نہیں کر سکتا بلکہ مختلف افراد اور صلاحیتوں کا حامل مجموعہ ہی کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا میں دعوتی عمل کا میدان خالی پڑا ہے اگر اگلے چند سالوں میں بیس پچیس ہزار گھنٹوں پر مبنی پروگرامس پروڈیوس کر دیے جائیں تو آپ اس طوفان کو روک بھی سکتے ہیں بلکہ جدید تاتاریوں کو اسلام کی محبت سے فتح بھی کر سکتے ہیں۔ نوجوان اور علماء اپنی ذاتی کوششوں سے سوشل میڈیا پر بیحد موثر ومقبول اور دلنشیں پروگراموں کی مہم چلائیں۔ ٹک ٹاک والے پندرہ بیس سال کے لڑکوں میں اگر creativity ہو سکتی ہے تو کیا پچاس ساٹھ سال کے مسلم علماء اور اسلامی ذہن رکھنے والے جدید تعلیم یافتہ نوجوان مقبول عام ویڈیوز نہیں بنا سکتے؟ یہ بہت ممکن ہے لیکن ابھی اس کے لیے حوصلہ افزائی، مقابلہ آرائی اور سرپرستی کا ماحول نہیں بنا ہے۔ کوئی ان کے اوپر معمولی رقم بھی لگانا نہیں چاہتا۔ کیا ہوا اگر کوشش کامیاب نہ ہو، ناکامی بھی تو کامیابی کا حصہ ہے اس کے بغیر کون آگے بڑھتا ہے؟ ایسا کیوں ممکن نہیں کہ اگر ایک نوجوان عالم دین ایک کامیاب ویڈیو بنا کر پیش کرتا ہے تو اسے بعض ادارے اس کے بغیر مانگے ہی اسے انعام واکرام سے نواز دیں؟ اشتہار بازی کے بغیر ایسے نوجوانوں کو تعاون دیا جائے، مسلم نوجوانوں میں نئے تجربات کرنے والوں کی کہیں سے حوصلہ افزائی نہیں ہوتی، جب سے مودی کی سرکار بنی ہے میں اپنے ندوی بھائیوں سے جا جا کر کہہ رہا ہوں کہ حضرت! تحریکِ پیامِ انسانیت کے اہم پیغامات سوشل میڈیا میں ہندی اور انگلش زبانوں میں وائرل ہونے چاہئیں، میں نے ان سے مدد مانگی، میں نے کہا میں ان کی تقاریر سے اہم پیراگراف نکالنے کی ذمہ داری لیتا ہوں، آپ کتابیں منگوائیں اور ایک ڈیزائنر کا انتظام کریں، لیکن مایوسی ہوئی۔
جمہوری مکالمہ:
میڈیا کے اس طوفان میں سب سے زیادہ کمی اس بات کی ہے کہ میڈیا میں روزآنہ ایک ہزار لوگ ٹی وی پر، اخبارات میں، ویب سائٹس میں، تھنک ٹینک میں، علمی سیمیناروں میں اور ملک کی سماجی معاشی خارجہ اور سلامتی پالیسیوں پر گفتگو کرتے ہیں، لیکن جب مسلمانوں کا معاملہ آتا ہے تو ان کی شرکت صرف مسلمانوں سے متعلق موضوعات پر ہی کیوں محدود رہتی ہے؟ الا ماشا الله، یہ تاثر کیوں اور کیسے عام ہوگیا کہ غیر مسلم حضرات مسلمانوں کے ساتھ صرف بریانی، غزل، گنگا جمنی تہذیب، غالب اور جگجیت پر ہی بات کریں؟ جیسے ہندوستان کا ہر شہری ہندو رہتے ہوے بھی سبھی مسائل پر اپنی رائے دینے میں قابل قبول ہے ویسے ہی مسلمان بھی ہونا چاہیے۔ لیکن ایسے تاثر کی جائز وجوہ موجود ہیں، پہلی وجہ تو یہی ہے کہ مسلمانوں کے مسائل کی فہرست سب سے طویل ہے اس لیے مسلمان اپنے مسائل میں زیادہ الجھے رہتے ہیں، لیکن ایک دوسری وجہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان ملک کے اہم مسائل پر ماہرانہ اور غیر جانب دارانہ اور علمی تجزیہ کرنے والے افراد کی کافی کمی ہے، جو ہیں وہ اکثر سوشلسٹ اور لبرل نظریات کے حامل ہیں اور کئی بار وہ خود کو زیادہ غیر جانب دار ثابت کرنے کے لیے مصنوعی طور پر مسلمانوں کو بھی بے وجہ تنقید کا نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے۔ حجاب، طلاق، خواتین، نماز روزے، پرسنل لا، مدرسے اور اسلامی تعلیم وغیرہ جیسے موضوعات پر وہ عموماً مسلمانوں کے دیندار طبقے کو برا بھلا کہہ کر خود کو لبرل ثابت کرنے کا کوئی موقع استعمال کرنے سے نہیں چوکتے۔ لیکن یہ بات بھی افسوس کے ساتھ قبول کرنا چاہیے کہ مسلمانوں کا دیندار طبقہ بھی ملکی مسائل میں رائے رکھنے اور دینے کا اہتمام نہیں کرتا۔ اہتمام کا مطلب یہ ہے کہ اچھے خاصے سنجیدہ علماء بھی اس بات کا اہتمام نہیں کرتے کہ ملک کے مسائل کو ملکی تناظر میں سمجھنے کے لیے ضروری کتابوں، ماہرین اور وسائل سے استفادہ کیا جائے۔ وہ نہ خود کے تھنک ٹینک بناتے ہیں اور نہ ملک کے تھنک ٹینک میں حصّہ لیتے ہیں، نہ اپنے طلبہ اور اپنے فالوورس کو اس کے لیے تیار کرتے ہیں۔ لہٰذا انہیں ملکی مسائل میں بلانے کا ویسا اہتمام نہیں کیا جاتا۔ مسلمانوں میں اور خاص طور پر دیندار طبقے میں صرف دو کلاس پائے جاتے ہیں ایک مقررین اور دوسرا سامعین۔ ان کے یہاں بولنے والے سے سوال کرنے والا ان کا دشمن اور مخالف ہے۔ غیر مسلم معاشرے میں اس طبقے کے علاوہ دوسرے طبقے بھی موجود ہیں جو بولتے ہیں تو ایکسپرٹ کی حیثیت سے، اور سننے والے انہیں سننتے ہیں تو صرف پوچھنے اور جاننے کی نیت سے۔ یہ لوگ خوش ہی اسی بات سے ہوتے ہیں کہ ان کے سیمینار میں ان سے کتنے زیادہ اور کتنے سخت سوالات کے جاتے ہیں۔
معاف فرمائیں مسلمانوں کے اہل علم طبقے کا حال افسوسناک ہے، مدارس کے معمولی اساتذہ کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ جب وہ چلیں تو زمانہ ان کے پیچھے چلے، الا ماشا اللہ۔ اس ماحول نے مسلمانوں میں مکالمہ کرنے کا مزاج ختم کر دیا ہے، اس ماحول نے مسلمانوں کے مسائل پر غیر جانبداری سے تجزیہ کرنے اور دلائل کی بنیاد پر مکالموں میں شرکت کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دیا ہے۔ دنیا کے ہر موضوع کے ماہر انہیں کے پیر انہیں کے مرشد، انہیں کے ناظم اور انہیں کے ذمہ دار ہیں، باہر سے کسی مسلمان ماہر کو بلانا اور اس سے استفادہ کرنے کی صرف ایک شرط ہے کہ وہ انہی کے جیسا ہو، کوئی ندوی کسی بریلوی کے ادارے میں مہمان مقرر نہیں بن سکتا، کوئی بریلوی کسی قاسمی کے یہاں ماہر مقرر بن کر نہیں جا سکتا۔
مکالمہ کی طاقت
جمہوریت کی اصل اور اس کی بنیاد مکالمے کی طاقت پر ہے، اور مکالمے کی طاقت کوئی مصنوعی طاقت نہیں ہے بلکہ یہ ایک معاشرتی، ثقافتی بلکہ عوامی طاقت ہے۔ جن قوموں میں مکالمے کا صحتمند ماحول برقرار ہے ان کے افراد رائے عامہ کو متاثر کرنے میں ہر اعتبار سے کامیاب ہیں، جس کی مثال یہودی قوم ہے۔ اگرچہ یہ بات پھیلائی جاتی ہے کہ یہودیوں نے عالمی میڈیا کو کنٹرول کر رکھا ہے لیکن اس بات کا اعتراف نہیں کیا جاتا کہ یہودی معاشرے میں شدید اختلافات رکھنے والے گروپوں کے درمیان بھی مکالمہ کی روایت بہت ہی شاندار طریقے سے قائم ہے۔ اسرائیل کے قیام سے اب تک وہاں شاید ایک یا دو مرتبہ ہی مکمل اکثریت کی حکومت بنی ہے ورنہ ہمیشہ الائنس حکومت ہی بنتی رہی ہے لیکن ان سبھی گروپس میں مکالمے کی روایت اتنی شاندار ہے کہ ہر طبقے کو پورا یقین ہوتا ہے کہ وہ فریقِ مخالف کے ساتھ اتحاد کرکے بھی اپنے مفادات اور اختلاف دونوں کا تحفظ کر سکتا ہے۔ اس کے بر عکس مسلم معاشروں میں اختلاف رائے شدید اور بے اعتمادی اور بد ظنی کا مظہر ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کا مستقبل ان کی بقا اور تحفظ اور ان کے افکار کی مقبولیت کا انحصار صرف اس بات پر ہے کہ مسلمان بحیثیتِ قوم اپنی آراء اور اپنے موقف کو کتنے مدلل طریقے سے ہندوستان کی اکثریت تک پہنچانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا
کچھ دنوں پہلے میں نے فرسٹ پوسٹ میں یہی لکھا تھا کہ شاہین باغ جیسی تحریکات نے مسلمانوں کی مکالمات کی قوت میں اضافہ کیا ہے اور مسلم سیاستدانوں اور ملّی قائدین کو اس کو ایک موقع غنیمت جان کر ملت کے اندر مذاکرات کی بہتر روایات قائم کرنا چاہیے تھا۔ اب یہ کام کیسے ہوگا؟ آئیڈیل طریقہ تو یہ تھا کہ مسلمان ملکی میڈیا اور اخبارات میں سبھی قسم کے مسائل میں برابر کی شرکت کرتے ہوئے نظر آتے لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے، اب جب کہ میڈیا کے اپنے موضوعات محدود ہوتے جا رہے ہیں تو اب مسلمانوں کو متبادل راستے تلاش کرنے ہوں گے، ویب سائٹس سوشل میڈیا کا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور کوشش یہ کرنی ہوگی کہ ان کی آواز مکمل آڈینس تک پہنچے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان سوشل میڈیا کا استعمال اس یقین کے ساتھ کریں کہ اس ملک میں ان کی بقا اور تحفظ صرف اور صرف ان کی طاقت اور مضبوط میڈیا نمائندگی سے ہی ممکن ہے، اور سوشل میڈیا ان کے لیے ویسے ہی مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے جیسے یہ مصر اور تیونس کے انقلابات کے لیے تھا۔ جب آپ اس طرح سے سوچیں گے تو آپ سوشل میڈیا کا استعمال زیادہ بہتر حکمت عملی کے ساتھ کر سکیں گے ورنہ فکری طاقت کے بغیر سُپر کمپیوٹر بھی خرید لیا جائے تو بے فائدہ ہے۔
مسلمانوں نے فکر اور تنوع فکر کی سرمایہ کاری میں بخل سے کام لیا ہے۔ The World is Flat کے مصنف کو میں نے دلی کے ایک سیمینار میں کہتے سنا تھا کہ گلوبلائزیشن میں انسان کا مقابلہ خود اپنے آپ سے ہے اور آپ کے تخیل اور تنوع کی طاقت سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے کے لیے کمپیوٹر انجینئر ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ بہترین آئیڈیاز کا ہونا ضروری ہے، مسلمانوں کو جس میڈیا کے انقلاب کی ضرورت ہے وہ محض سافٹ ویر یا ہارڈ ویر کا علم نہیں ہے بلکہ اس کو کنٹرول کرنے والی ذہنی اور فکری صلاحیت بھی درکار ہے۔
ہندوستانی مسلمانوں کو ہندوستان کی رائے عامہ بنانے والے عمل میں اپنی شرکت اور موجودگی درج کرانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ صرف مسلمانوں کے اپنے مسائل کی نمائندگی کے لیے ہی نہیں بلکہ ملک کے تمام اہم مسائل پر اپنی فکر مندی، تجاویز، تحقیق اور اپنے نقطہ نظر سے اہل وطن کو قائل کرانے کے لیے بھی ضروری ہے۔ یہ کام جو کوئی مین اسٹریم میڈیا میں جاکر کر سکتا ہے وہ وہاں ضرور جائے، جو وہاں تک نہیں پہنچ سکتا وہ پہنچنے کی کوشش کرے اور جس کی کوشش کامیاب نہ ہو وہ خود کو سوشل میڈیا کے وسائل پر اس طرح پیش کرے کہ سارے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہو۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ جمہوریت ایک ایسا نظام ہے جس میں مکالمہ کرنا، بار بار کرنا اور ہر بار الگ طریقے سے کرنا، اپنی بات کو الگ الگ فورمیٹس میں رکھنا، نیوز، تجزیہ، کہانی، ناول، ڈرامہ، کامیڈی، سٹائر، مختصر کہانی، کارٹون، میمس وغیرہ سارے طریقے آزمانا اور نئے نئے طریقے ایجاد کرتے رہنا خود کو کامیاب کرانے کے لیے ہے حد ضروری ہے۔ جمہوری نظام میں کوئی آپ سے یہ پوچھنے کے لیے نہیں آئے گا کہ آپ آج کل کیا سوچ رہے ہیں؟ یہاں کہنے کے مواقع چھینے جاتے ہیں، ان کے لیے مقابلہ کیا جاتا ہے، اس لیے آپ خیال کی کوالٹی، زبان کی چاشنی، فارمیٹ کا نیا پن، پیشکش کی کشش اور آڈینس کی بھیڑ لگا دینے والا فارمولا تلاش کریں کیونکہ ان سب کے امتزاج سے ہی آپ اپنے مکالمے کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ بہت سارے ہمارے نوجوان سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں، بہت سارے مذہب پسند نوجوان بھی سرگرم ہیں لیکن ان سبھی کو اس مکالمے میں کامیاب ہونے کی دوڑ میں شامل ہونا ہوگا۔

( عمیر انس جواہر لعل یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہیں اور ترکی کی ایک یو نیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے شعبے میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، انہیں omairanas@ پر فالو کیا جا سکتا ہے ۔)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)