جمیل جالبی: مجاہدِ علم وعمل-صغیر افراہیم

توقیرِ بزم علم وادب، ڈاکٹر جمیل جالبی ۸۱/اپریل ۹۱۰۲ء (۲۱/شعبان ۰۴۴۱ھ) بروز جمعرات اللہ کو پیارے ہوگئے :
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہئ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
جانا تو سبھی کو ہے لیکن ایسی شخصیت کے جانے سے آہ نکلتی ہے جس نے تہذیب وثقافت، زبان وادب سے دلچسپی رکھنے والی نئی نسل کو فکروفن کی نئی سمتوں اور نئی راہوں سے آشنا کیا ہو ؎
مُسافر راہ میں ہیں، شام گہری ہوتی جاتی ہے
سُلگتا ہے تری یادوں کا بن آہستہ آستہ
(شاذتمکنت)
قوم کی آبیاری کے لیے خود کو وقف کردینے والے اِس ادیب کے لیے بے ساختہ یہ مصرعہ زبان پر آتا ہے ؎
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
ماضی کے دریچوں سے جھانکتے ہوئے ایّام رفتگاں کو صفحہئ قرطاس پر لانے کی کوشش کرتا ہوں ؎
تو کون تھا، کیا نام تھا، تجھ سے ہمیں کیا کام تھا
ہے پردہئ دل پر ابھی دُھندلا سا اک چہرہ ترا
(خلیل الرحمن اعظمی)
ہند اسلامی تہذیب کے شیدائی، ممتاز مؤرخ، معروف محقق، نظریہئ ساز نقاد اور ماہر لسانیات کے ساتھ گُزرے ہوئے چند قیمتی لمحات سماعت وبصیرت پر قبضہ کیے ہوئے تھے۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ”گُلِ افراہیم“ کے در ودیوار پر افسردگی چھاگئی ہے۔ میری اہلیہ پروفیسر سیما صغیر کی طرح ہماری بیٹی ثنا فاطمہ کو بھی یقین نہیں ہورہا تھا کہ اردو زبان وادب کے وسیع اُفق پر نصف صدی سے زائد ضیا باریاں کرنے والا ستارہ چُھپ گیا ہے۔ مرحوم کی شخصیت، فکروفن پر مبسوط اور سیر حاصل گفتگو کرنے والوں کو اس کا علم تھا کہ مشرقی اور مغربی ادب کے جمالِ باکمال پر عرصہ سے گرہن لگنا شروع ہوگیا تھا۔
پانچ سال قبل جب میں اُن کے درِ دولت پر حاضر ہواتھا تو وہ علیل تھے لیکن دیارِ سرسید سے آنے والی خوشبوؤں کی کشش نے باعزت باریابی کا شرف بخشا۔ مرحوم کہتے ہوئے دل دُکھتا ہے۔ محمدجمیل خاں معروف بہ جمیل جالبی۲۱/جون ۹۲۹۱ء کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ سرکاری ملازمت کے سلسلہ میں اُن کے والد یہاں تعینات تھے۔ دادا سہارنپور کے باعزت افراد میں شمار ہوتے تھے۔ ابتدائی تعلیم علی گڑھ میں، ثانوی سہارنپور اور میرٹھ میں حاصل کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد اپنے بھائی محمد عقیل خان کے ساتھ کراچی چلے گئے اور اُسے اپنا وطن ثانی تسلیم کرلیا۔
جمیل جالبی نے کراچی کے ایس.ایم. کالج میں داخلہ لیا اور عقیل خاں نے ایف ایس سی کرکے ایم. بی.بی.ایس. کی تیاری شروع کردی۔ والد محترم سہارنپور سے دونوں بھائیوں کا خرچ بھیجا کرتے تھے مگر دو تین سال بعد سرحدی قوانین کی رو سے روپیہ بھیجنا آسان نہیں رہا۔ جمیل صاحب نے انگریزی میں ایم.اے. کیا تھا۔ مالی دشواریوں کے سبب انھوں نے بہادر یار جنگ اسکول میں ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے ملازمت کرلی۔ ادب سے دلچسپی بچپن سے تھی۔ کرم فرما، نیک اور شفیق ادیب سید جالب سے بے حد متاثر تھے لہٰذا جالبی اپنے نام کا حصہ بنالیا اور پھر ادبی حلقے میں جمیل جالبی کے نام سے اعتبار حاصل کیا۔
دورانِ ملازمت اردو سے ایم.اے. اور ایل.ایل. بی. کے امتحانات میں امتیازی کامیابی حاصل کی۔ ڈاکٹر غلام مصطفی خان کی نگرانی میں سندھ یونیورسٹی سے پی ایچ.ڈی. اور ڈی.لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اسی درمیان پی.اے. ایس. کے امتحان میں شریک ہوئے۔ انکم ٹیکس کمشنر کے عہدے تک پہنچے لیکن مزاج کے مطابق ماحول نہ ہونے کی بنا پر ملازمت سے سبک دوشی حاصل کرلی۔ ۳۸۹۱ء میں کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر، ۷۸۹۱ء میں مقتدرہ قومی زبان کے صدرہوئے۔ ۰۹۹۱ء سے ۷۹۹۱ء تک اردو لُغت بورڈ کراچی کے سربراہ اور ان گنت ادبی تنظیموں کے سرپرست رہے۔ مسلسل جدوجہد اور عملِ پیہم کی وجہ سے ترقی کے درجات کے ساتھ علمی شہرت کے مقام بھی بلند ہوتے گئے۔
اقبالؔ سے متاثر، اُن کے شاہین کی سی صفت رکھنے والا یہ علمی اور عملی پیکر ہر ایک کے لیے مثالی تھا۔ تنقید وتحقیق کے خارزاروں سے اُلجھنے والے اِس بے باک ادیب نے اپنی بصیرت اور بصارت کا نقش ہر اُس حسّاس قلب وجگر پر قائم کیا جسے علوم وفنون کی چاہت ورغبت تھی۔ موصوف کی۹۸/برس کی زندگی غماز ہے کہ وہ کسی کے پیروکار نہیں لیکن اُن کے ان گنت معتقدہیں۔ شیدائیوں کی فہرست میں، میں نے بھی اپنا نام درج کرایا ہے۔ کراچی میں گُزرے ہوئے میرے وہ سات دن (۴۱-۱۲/دسمبر ۵۱۰۲ء) اِس اعتبار سے یادگار ہیں کہ ان ایام میں جمیلی جالبی کے ساتھ گُزرے ہوئے یادگار لمحے شامل ہیں جنھوں نے میرے تنقیدی شعور کو جلابخشی ہے۔
۱۲/دسمبر ۵۱۰۲ء کو تقریباً رات دس بجے، جب میں اپنے گھر ”گُلِ افراہیم“ میں طویل سفر کی تکان کو محسوس کررہا تھا، سیما نے جمیل صاحب کے تحائف کو دیکھتے ہوئے ملاقات کی تفصیل جاننا چاہی، میں نے صبح کا وعدہ کیا۔ پیر کی وہ صبح بہت خوشگوار، تروتازہ تھی۔ ایک ہفتہ کراچی میں قیام کرکے، واپس آیا تھا۔ وہاں میری میزبان ڈاکٹر فاطمہ حسن (معتمد انجمن ترقی اردو پاکستان) اور پروفیسر نوشابہ صدیقی (معاشیات کی اُستاد، علامہ اقبال کالج کی پرنسپل) تھیں۔ دونوں صاحبِ طرز ادیبوں کو اس کا علم تھا کہ مجھے جن شخصیات سے ملنا ہے اُن میں ڈاکٹر جمیل جالبی سرِ فہرست ہیں۔ موصوف کی تحریریں میرے مطالعہ میں بی.اے. (آنرز) کے دوران آچکی تھیں۔ قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع ۱۸۹۱ ء میں میسر آیا۔ جمیل صاحب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں صدر شعبہئ اردو، پروفیسر ثریاحسین کی درخواست پر تشریف لائے تھے۔ میرا ریسرچ میں داخلہ ہوا تھا۔ گزشتہ ایک برس میں پروفیسراُوماشنکر جوشی، پروفیسر خواجہ احمد فاروقی، عصمت چغتائی، انتظار حسین، احمدہمیش جیسی عہد ساز شخصیتیں شعبہئ اردو میں جلوہ افروز ہوچکی تھیں مگر جو گہماگہمی ڈاکٹر جمیل جالبی کی آمد کے پیش نظر تھی، شاید اس سے قبل نہیں دیکھی گئی۔ طلبہ، طالبات اور اساتذہ انھیں گھیرے ہوئے تھے۔ ذہن نے جو خدوخال قبول کیے اُن کی شبیہہ اس طرح ہے— دراز قد،بھرا ہوا جسم، گوری رنگت، چوڑی پیشانی، سرپر مختصر سے بال، روشن آنکھیں… موضوعِ بحث تاریخ ادب اردو تھا۔ ۱۸۹۱ء کے بعد شاید وہ کئی بار ہندوستان تشریف لائے لیکن دیدار نصیب نہ ہوسکے۔
اتفاق کہ عرصہ بعد، ۵۱۰۲ء میں بیک وقت جرمنی، ماریشس اور پاکستان سے یکے بعد دیگرے توسیعی خطبات کے دعوت نامے ملے۔ انتخاب واتفاق کراچی (پاکستان) کے نام پرہوا۔ شعبہئ اردو اور ادارہ تہذیب الاخلاق کی ذمہ داریوں کی وجہ سے صرف ایک ہفتہ کا وقت نکل سکا۔ سرحد پار، ناظم آباد میں میرے چند عزیز ہیں مگر قیام کے خانے میں فاطمہ حسن اور نوشابہ صدیقی کا نام رقم کیا۔
اسے بھی ادبی کشش ہی کہیں گے کہ اتنا موقع نہیں مل سکا کہ عزیزوں کے یہاں کچھ وقت گزار سکتا۔ بلکہ یہی سوچتا رہا کہ ویزے کی میعاد او ربڑھ جاتی تاکہ مزید ادبی محفلوں سے سیراب ہوسکتا۔ عزیزوں کی ناراضگی حق بجانب مگر ادبی رشتے، خون کے رشتوں سے کسی طرح کم نہیں ہوتے ہیں۔
سفرکاخاکہ تیار ہوتے ہی جمیل جالبی کی پُروقار، سحرِ انگیز شخصیت موضوع گفتگو بن گئی تھی۔ میرے قیام کے لیے ”گُلشنِ اقبال“ کا نام تجویز ہوا تھا۔ کراچی پہنچتے ہی بتایا گیا کہ آپ وہاں کے بجائے تین تلوار چوراہے سے ملحق کلفٹن پر واقع ”نور گھر“ میں قیام کریں گے۔ گلشنِ اقبال کا بدل کلفٹن اور وہ بھی ایسا جہاں ایک نہیں، دو نہیں، تین تلواریں ہوں۔ شمشیرِ بے نیام کے خارزار میں ”نور گھر“ کا تصور نہیں کرپارہا تھا۔ بھلا باغِ سرسید کی آغوش میں پروان چڑھنے والا اسمِ بامسمیٰ صغیر، تلواروں کے سائے میں رہنے کے خیال سے کانپ گیا۔ اپنے ردِّعمل کا کچھ اظہار کرتا کہ چہرہ شناس نثار اخترنے جس سکون، اپنائیت اور محبت آمیز لہجہ میں قیام وطعام کا ذکر کیا اُس سے ذہن میں اُبھرنے والے تمام وسوسے رفع ہوگئے۔ دورانِ قیام ”نور گھر“ کی مہمان نوازی کا میں ہمیشہ کے لیے معترف ومعتقد ہوگیا۔
۵۱/دسمبر کو بابائے اردو یادگاری خطبہ وفاقی جامعہ اردو کراچی اور انجمن ترقی اردو پاکستان کے باہمی اشتراک سے عمل میں آیا۔ ذوالقرنین جمیل، پروفیسر سحر انصاری، پروفیسر سلیمان ڈی محمد، زاہدہ حنا، اویس ادیب انصاری نے خطبہ کے بعد، چائے کے دوران جمیل جالبی سے میری دلچسپی کو سراہا۔ ”ارسطو سے ایلیٹ تک“ پر ہونے والی بحث کے دائرے کی وسعت کو دیکھ کر زاہدہ حنا نے گفتگو کو سمیٹتے ہوئے اجازت چاہی۔ میں اُن کی افسانوی تحریروں کا معترف اور تانیثی رُجحان کا قائل تھا مگر اس تنقیدی اور تحقیقی محاکمہ کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ وہ چند خاص دوستوں کے ساتھ مجھے شہیدِ ملت روڈ پر واقعUnion Club میں شب کا کھانا نوش فرمانے کے لیے لے آئیں۔ جگہ بے حد پُرسکون اور کھانا بے حد لذیذ جس نے اودھ اور عظیم آباد کی یاد تازہ کردی۔
16/دسمبر کو ٹھیک چھ بجے جمیل جالبی کے گھر، واقع ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، پہنچنا تھا۔ صبح سے کہیں کوئی پروگرام نہیں رکھا گیا تھا۔ یہ دن پاکستان میں اُن شہید بچوں کے نام معنون کیا گیا ہے جو صوبہئ خیبر میں پختونخواکی راجدھانی پشاور کے آرمی اسکول میں دہشت گردی کے شکار ہوئے تھے۔ صبح سے ہی نوشابہ صدیقی اور اُن کے شوہر نثار اختر نے جمیل جالبی کے تعلق سے ممکنہ مواد مہیا کردیا تھا۔ نثار اختر صاحب شماریات اور معاشیات کے آدمی ہیں۔ اسٹیٹ بینک میں ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائرہوئے ہیں۔ اعلیٰ ادبی ذوق رکھتے ہیں۔ ایڈگرایلن پو کی کہانیوں پر مشتمل Cemetery Walkers کا ”قبرستان کے راہی“ کے عنوان سے ترجمہ کیا ہے جو ادبی حلقے میں بہت پسند کیا گیاہے۔
دوپہر، پروفیسر ظفراقبال کچھ کتابوں کے ساتھ”نور گھر“ تشریف لائے۔ جمیل جالبی کے تعلق سے تحقیق وتدوین پر گفتگو شروع ہوگئی۔ میں نے محسوس کیا کہ کراچی کے دانشورانِ ادب آپسی نااتفاقیوں کے باوجود مہمان کی مکمل دلجوئی کرتے ہوئے درگزرسے کام لیتے ہیں۔
چھ۶ بجے سے کچھ پہلے ہم لوگ کراچی کے سب سے پُرشکوہ علاقہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی) میں پہنچ گئے۔ نہایت صاف ستھرے، سلیقے سے بنے راستوں سے گُزرتے ہوئے جمیل جالبی کے عالیشان مکان کے سامنے ہماری گاڑی رُکی۔ دربان اور محافظ کو علم تھا، فوراً گیٹ کُھلا۔ خوش وضع لان میں جالبی صاحب کے بڑے بیٹے خاور جمیل اور اُن کی بیگم شبانہ خاور، مسکراتے ہوئے چہروں کے ساتھ استقبال کے لیے موجود تھے۔ خاور جمیل سینٹرل سول سروس میں انکم ٹیکس کے تعلق سے اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ شبانہ خاور، جمیل صاحب کے بھائی کی بیٹی ہیں۔ گھرمیں داخل ہوئے ہی جمیل جالبی کے دوسرے بیٹے سہیل (محمدعلی) سے ملاقات ہوئی جو امریکہ میں مقیم ہیں اور اِس دوران والدین سے ملنے کے لیے کراچی آئے ہوئے تھے۔ جمیل صاحب کے چار۴ بچے، دو بیٹے (خاور اور محمدعلی) اور دو بیٹیاں (ثمیرہ اور فرح) ہیں۔ نیچے اُوپر مشرقی طرز کے مغربی انداز میں بنے ہوئے مکان کے وسیع ہال کی چھت بہت بلند تھی۔ اسی ہال سے اوپر جانے کے لیے بہت آرام دہ سیڑھیاں تھیں۔ جدید سہولیات سے آراستہ کتب خانہ میں نادر ونایاب کتابیں سلیقے سے سجی ہوئی تھیں۔ قدرتی روشنی اور ہوا کا خاص انتظام تھا۔ جمیل صاحب وہیل چیرپر، ہال میں موجود تھے۔ نظر ملتے ہی ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا۔گُزرے ہوئے ۵۳/ برس نے بہت کچھ بدل دیا تھا۔ گول بُنی ہوئی ٹوپی کے دائیں بائیں کانوں کے سہارے سفید بال نظر آرہے تھے۔ چہرے اور گردن کی جھُریاں جھلک رہی تھیں۔ کچھ پوپلے مگر مسکراتے ہوئے ہونٹوں نے خوش آمدید کہا۔ دونوں کہنیاں وہیل چیر کے ہتھوں پر رکھتے ہوئے ہاتھ گود میں رکھ لیے۔ پُشت پر سفید لباس میں خاتون کھڑی تھی جن کے بارے میں علم ہوا کہ وہ پرائیویٹ نرس ہے۔ یہ نرس شام کی شفٹ کی تھی، صبح دوسری نرس آتی ہے۔ دونوں فیملی ڈاکٹر کے مشورہ کے مطابق جمیل جالبی اور بیگم، نسیم شاہین صاحبہ کاخیال رکھتے ہوئے طبی تفصیلات تیا رکرتی ہیں۔ خاور صاحب نے بتایا کہ ابّو امّی کی شادی یکم نومبر ۳۵۹۱ء کو ہوئی تھی۔ بے ساختہ میرے منھ سے نکل گیا کہ 1953ء تو میری پیدائش کا سال ہے۔ میں 12/جولائی کو اناؤ (اُترپردیش) میں پیدا ہوا، اور بیگم نسیم شاہین صاحبہ کراچی میں یکم نومبر کو جمیل جالبی کی زوجیت میں داخل ہوئیں۔ لمحے بھر کے لیے سبھی کے چہروں پر ایک عجیب، دل کو مسوس لینے والی مسکراہٹ نظر آئی۔ بیگم جمیل صاحبہ چلنے پھرنے سے معذور ہیں۔ جمیل صاحب کے جسم کا نچلاحصہ بڑی حد تک مفلوج ہے البتہ ذہن پوری طرح کام کررہا تھا۔ چائے کے دوران وہ بہت دھیمی آواز میں آہستہ آہستہ علی گڑھ کے تعلق سے گفتگو کررہے تھے۔ معلومات کا ایسا خزانہ جیسے مولانا ابوالکلام آزاد لائبریری کے در ودیوار اُن پر منکشف ہوں۔ پروفیسر نذیر احمد، پروفیسر مختار الدین آرزوؔ اور پروفیسر اسلوب احمد انصاری کی ادبی وراثت کے تعلق سے وہ دریافت کررہے تھے اور میں اپنی جانب سے ہر ممکن معلومات مہیا کررہا تھا۔ ماہنامہ ”تہذیب الاخلاق“ کے خاص نمبروں خصوصاً سرورق کو دیکھ کر کئی اہم مشورے دئیے۔ جناب احمد مرزا، اردو رسم الخط اور نوری نستعلیق پر ہونے والی گفتگو پر عش عش کرنے کو دل چاہتا تھا۔ موصوف کے چہرے پر کسی طرح کی تکان کا گمان نہیں۔ پروفیسر نوشابہ صدیقی اِس گھر کی بے حد چہیتی بیٹی کہلاتی ہیں، اُن کی بے تکلفانہ مُداخلت سے تلفظ کی ادائیگی اور دُرست املے کی گفتگو میں دبے دبے قہقہے محفل کو زعفران زار کردیتے۔ میری کتابوں کی ورق گردانی کے دوران جمیل صاحب نے اس سے اتفاق کیا کہ عزیز احمد کا ناول ”ایسی بلندی ایسی پستی“ ایک تہذیب کی داستان ہے۔ محمد حسن عسکری اور عزیز احمد کی تمدنی اور ثقافتی فکر سے متعلق انھوں نے کئی اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ اُن کے دانش ورانہ سوالات کا میں ٹھہر ٹھہر کر جواب دے رہا تھا مگر نوشابہ صاحبہ اپنی علمی بصیرت کی بدولت اُنھیں فوری طور پرمکمل کردیتیں۔ میں اُن کی حاضر جوابی اور معاملہ فہمی کی داد دیتا۔ محترمہ فرماتیں یہ جمیل صاحب کے زیر سایہ کچھ کام کرنے کا نتیجہ ہے، ورنہ میں کیا، میری بساط کیا۔
اِس علمی ماحول کا سحراُس وقت ٹوٹا جب شبانہ خاور نے عشائیہ کے لیے مدعو کیا۔ ہم سب بہت بڑی ڈائننگ ٹیبل کے گرد بیٹھ گئے۔ وسیع دسترخوان کو دیکھ کر حیرت ہورہی تھی۔ اب عموماً ہمارے گھروں میں ہونے والی دعوتوں میں ریستوراں سے کھانا منگوالیا جاتا ہے یا خانساماں کے سپرد کردیا جاتاہے۔ یہاں سب کچھ شبانہ خاور کی نگرانی میں، گھر کے آداب اور مہمان کے مزاج کو ملحوظ رکھتے ہوئے پکایاگیا تھا۔ شامی کتاب، دُھلی ہوئی اُرد کی دال، سرسوں کا ساگ، مکئکی روٹی اور رساول بھی دسترخوان پر موجود تھے۔ کھانا ختم ہوتے ہی خاور جمیل نے نہایت انکسارکے ساتھ فرمایا کہ تاخیر ہوچکی ہے۔ والدِ محترم کے دوا لینے اور آرام کا وقت ہے۔ اُنھیں اجازت دیجیے۔ خدا حافظ کے ساتھ جمیل صاحب نرس کے ہمراہ رخصت ہوئے۔ بیگم صاحبہ کو اُن کے کمرے میں ہی تجویز شدہ کھانا پہنچادیا گیا تھا۔ قریب گیارہ بجے ہم لوگ ”نور گھر“واپس آگئے ؎
اب بھی خیالوں سے ترے سارا نگر آباد ہے
ہر دل میں تیری یاد ہے، ہر لب پہ ہے چرچا ترا
دونوں ملکوں کے خوشگوار ماحول پر سیاہ بادل چھاگئے۔ جمیل جالبی اِس جہانِ فانی سے رُخصت ہوگئے، لیکن میری اشکبار آنکھیں آج بھی حیرت واستعجاب میں اس تصور سے لرزاں ہیں کہ مجاہدِ علم وعمل کی شریکِ سفر، نسیم شاہین صاحبہ جو چلنے پھرنے سے اُس وقت بھی معذور تھیں، اب وہ کیسی اور کس حال میں ہوں گی؟ خدا اُنھیں تادیر سلامت رکھے۔ اِس اطلاع نے سکون بخشا کہ خاور صاحب اپنے والدِ محترم کی یاد میں ایک عظیم الشان انٹرنیشنل ریسرچ لائبریری تقریباً مکمل کراچکے ہیں۔ افتتاح شاید 18/اپریل 2021ء کو ہونا ہے۔
رمضان المبارک کی پُر نور فضا میں ڈاکٹر جمیل جالبی کے تئیں یہ سب سے بڑا خراجِ تحسین ہوگا، نیز ہمیشہ یاد منانے کا مدلل اور موثر جواز بھی۔