جماعت اسلامی ہند کے ہیومن ویلفیئر فاؤنڈیشن اور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کے چیریٹی الائنس سمیت 6 تنظیموں پر این آئی اے کا چھاپہ

نئی دہلی:(محمد علم اللہ) جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے ہندوستان اور بیرون ملک سے غیر سرکاری تنظیموں اور ٹرسٹوں کی مالی اعانت سے متعلق ایک معاملے میں قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے جمعرات کو کشمیر اور دہلی میں چھاپے مارےـ چھے این جی اوز اور ٹرسٹوں سے تعلق رکھنے والے سری نگر اور دہلی میں نو مقامات پر چھاپے مارے گئے۔
جمعرات کو ایجنسی کے ذریعہ چھاپے ماری کا نشانہ بننے والوں میں دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ظفر الاسلام خان بھی شامل تھے۔ بدھ کے روز،این آئی اے نے اس معاملے کے سلسلے میں سری نگر اور بانڈی پورہ میں 10 مقامات اور بنگلور کے ایک مقام پر تلاشی لی تھی۔
ایجنسی کے ذریعے چھاپے مارے جانے والے مقامات میں گریٹر کشمیر اخبار کا دفتر اور سونور میں انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی رہائش گاہ بھی شامل تھی۔
ہیومن ویلفیئر فاؤنڈیشن اور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کے چیریٹی الائنس کے دفاتر پر بھی چھاپے مارے گئے اور ان سے فنڈ جمع کرنے کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مقدمہ درج کیا گیا۔ان این جی اوز کے خلاف حوالہ ریکیٹ،فنڈز کا ناجائز استعمال اور دہشت گردوں کی مالی اعانت کے الزامات ہیں۔
دریں اثنا پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں "اختلاف رائے پر شیطانی کریک ڈاؤن” کہاہے۔ ادھر دوسری جانب مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے بھی حکومت کے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوے اسے بہار الیکشن میں ہندو مسلم کا کھیل کھیلنے اور اصل ایشوز سے لوگوں کی توجہ موڑنے کی مذموم حرکت قرار دیا ہے۔اطلاع ہے کہ این آئی اے اہلکارڈاکٹرظفر الاسلام خان کے آفس سے کچھ ریکارڈ، لیپ ٹاپ اور کئی موبائل فون لے کر چلے گئے جبکہ ہیومن ویلفیر فاؤنڈیشن سے محمد جعفر صاحب اور ایک صاحب کو تفتیش کے لیے تھانہ شاہین باغ لے جایا گیا ہے۔