Home نقدوتبصرہ جلال الدین اسلم: کتابت سے صحافت تک- معصوم مرادآبادی

جلال الدین اسلم: کتابت سے صحافت تک- معصوم مرادآبادی

by قندیل
کسی ایسی شخصیت پر قلم اٹھانا جو ہمہ جہت صلاحیتوں اور خوبیوں کی مالک ہو، واقعی ایک مشکل کام ہے۔آج یہ مشکل مجھ پر بھی آن پڑی ہے کہ میں پہلی بار اپنے محسن و کرم فرما جلال الدین اسلم پر کچھ لکھنے بیٹھا ہوں۔یہ موقعہ دراصل مجھے فراہم کیا ہے، ان کی آپ بیتی ’اوراق زندگی‘ نے جو حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔
جناب جلال الدین اسلم سے میرے مراسم کا دورانیہ تقریباً چالیس برسوں کو محیط ہے۔ ان سے پہلی ملاقات غالباً1981 میں ’قومی آواز‘ نئی دہلی کے دفتر میں ہوئی تھی۔ یہ میری طالب علمی کا زمانہ تھا اور میں غالب اکیڈمی کی خطاطی کلاس میں مایہ ناز خطاط خلیق ٹونکی کے قدموں میں بیٹھ کر الفاظ کے زیروبم کی مشق کررہا تھا۔ خطاطی اور کتابت سے یہی رشتہ مجھے اسلم صاحب کے پاس لے گیا۔ وہ اس وقت روزنامہ ’قومی آواز‘ کے ہیڈ کاتب تھے اور اس اخبار کے دہلی ایڈیشن کی اشاعت میں ان کا کلیدی رول تھا۔
وہ بنیادی طورپر ایک مخلص اور بے لوث انسان ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت سادہ لوح بھی ہیں ۔ان کی مجلس میں ہرکس وناکس کو داخل ہونے کی آزادی ہے۔بعض لوگ ان کا استحصال بھی کرتے ہیں۔دراصل ان کی طبیعت میں جو نرمی اور لچیلا پن ہے اس کا لوگوں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ یہاں تک کہ کئی لوگ ان سے مضامین لکھواکر صحافی کہلانے لگے، لیکن خودبہترین صحافی اور خطاط ہونے کے باوجود انھوں نے ہمیشہ گوشہ نشینی کوہی ترجیح دی۔ اسلم صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ جس اخبار یا جریدے سے وابستہ رہے اسے انھوں نے کتابت و صحافت کا مرقع بنادیا۔ اسی لیے میں انھیں قلم کا جادوگر کہتا ہوں۔
کتابت وصحافت سے ان کا رشتہ ساٹھ سال سے زیادہ عرصے کو محیط ہے۔ اس دوران انھوں نے جن اخبارات وجرائد کی زلفیں سیدھی کیں، ان میں روزنامہ ’دعوت‘، روزنامہ’قومی آواز‘، روزنامہ’جدیدخبر‘،ہفتہ ’اخباراردو‘، ہفتہ وار’مشاہدہ‘اور ’تعمیرہند‘کے نام قابل ذکر ہیں۔ جن مایہ ناز صحافیوں کے ساتھ انھیں کام کرنے کا موقع ملا ان میں مولانا امداد صابری، محمد مسلم،عشرت علی صدیقی،سلامت علی مہدی اور محفوظ الرحمن وغیرہ شامل ہیں۔اسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ ان کی تحریر میں بلا کی پختگی،روانی اور ندرت پائی جاتی ہے۔ انھیں الفاظ کے استعمال پر جو عبور حاصل ہے، وہ آج کے بڑے بڑے صحافیوں کو حاصل نہیں۔اپنی خوبصورت کتابت اور خطاطی کے ذریعہ انھوں نے درجنوں اخبارات وجرائد کی لوحیں بنائیں، ہزاروں کتابوں کے سرورق ڈیزائن کئے۔ جہاں ان کی خطاطی کے جوہر جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں، وہیں ان کی کالم نگاری اور مضامین کا بھی ایک انبار ہے جسے انھوں نے یکجا کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ مجھے حیرت ہے کہ اپنی مسلسل بیماری اور صحت کے شدید مسائل کے باوجود 80 برس کی پیرانہ سالی میں انھوں نے ڈھائی سو صفحات کی آپ بیتی ’اوراق زندگی‘ کب اور کیسے لکھ ڈالی۔ جب تک کتاب ہاتھ میں نہیں آگئی مجھے اس پر یقین ہی نہیں آیا تھا۔
جلال الدین اسلم کی پیدائش اعظم گڑھ کے گاؤں چاند پٹی میں 1940 میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انھوں نے سنہ 1960کے آس پاس دہلی میں قدم رکھا۔ ان کا پہلا پڑاؤ روزنامہ ’دعوت‘ کا دفتر تھا۔ ’دعوت‘ سے انھوں نے اپنے تعلق کو روح اور جسم کے رشتے سے تعبیر کیا ہے۔ وہ اس کو جنم جنم کا رشتہ بتاتے ہیں۔صحافت کے شعبہ میں بھی ’دعوت‘ ہی ان کا رول ماڈل رہا ہے۔جماعت کے مرحوم صدر مولانا ابواللیث اصلاحی سے ان کاخاندانی رشتہ تھا۔ انھوں نے اپنے وقت کے ماہرفن خطاطوں عبدالحمید، انعام اللہ ہاشمی،یعقوب سہارنپوری اور عاصم امروہوی سے اصلاح لی اوراپنے دور کے خطاط اعظم یوسف دہلوی کی روش اختیار کی۔
جلال الدین اسلم ایک بہترین خطاط، صحافی اور ادیب ہی نہیں بلکہ ایک بہترین انسان بھی ہیں۔ ان کی طبیعت میں مروّت، رواداری، دردمندی اور دل سوزی کے جو عناصر اربعہ ہیں، وہ دراصل انھیں انسان کامل ہونے کی سند عطا کرتے ہیں۔ وہ دوستوں اور دشمنوں پر یکساں مہربان ہونے کے فن میں ماہر ہیں۔ مجھے ان سے ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ انھوں نے زندگی میں جن لوگوں سے دھوکے کھائے ان سے کنارہ کیوں نہیں کیا، لیکن انھوں نے اس سوال پر ہمیشہ خاموشی اختیار کی اور اسے ٹال دیا۔معاملہ ’قومی آواز‘ کا ہو یا جوشی کالونی کا۔ ناکارہ بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنا اور بے گھر لوگوں کی بے گھری دور کرنا ان کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ انھوں نے ’قومی آواز‘ سے وابستگی کے دوران جس قسم کے لوگوں کو وہاں ملازمتیں دلوائیں ان کے بارے میں ’قومی آواز‘ کے پہلے نیوزایڈیٹر دیوان تصور نے ایک روز بھری محفل میں ان سے کہا تھا کہ ”اسلم صاحب آپ نے ایسے ایسے لوگ دفتر میں ملازم کرادئیے ہیں کہ وہ اگر ڈی ٹی سی کی بس میں سوارہوجائیں تو کنڈکٹر انھیں نیچے اتاردے۔“ اتنا ہی نہیں انھوں نے ایسے ہی لوگوں کی رہائش کے لیے مشرقی دہلی کے منڈاولی علاقہ میں جوشی کالونی آباد کی اور وہاں ضرورت مندوں کو نہایت معمولی قیمت میں ’زمیندار‘ بنادیا۔یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض لوگوں نے ان کی پیٹھ میں خنجر بھی اتارا۔
انھوں نے اپنی آپ بیتی ’اوراق زندگی‘میں اپنی زندگی کے بیشتر واقعات اور تجربات کو بیان کیا ہے لیکن کہیں بھی ان لوگوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جو آج بھی ان کے احسان کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ دہلی سے ’قومی آواز‘کی اشاعت کا سلسلہ1980کے اواخر میں شروع ہوا تھا۔ اس کے ایڈیٹر عشرت علی صدیقی کو ایک ایسے شخص کی تلاش تھی، جو اخبارکی صورت گری کے تمام پہلوؤں سے بخوبی واقف ہو۔ انھوں نے اپنے ایک شناسابزرگ عالم دین مولانا عبداللہ عباس ندوی سے اس کا ذکر کیا۔عبداللہ عباس ندوی نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے انھیں ’دعوت‘ کے ایڈیٹر محمدمسلم سے رجوع ہونے کو کہا۔ مسلم صاحب نے بغیر کچھ سوچے سمجھے اس کام کے لیے جلال الدین اسلم کا نام تجویز کردیا اور اس طرح انھوں نے تین دن سے بھی کم وقت میں ’قومی آواز‘ دہلی ایڈیشن کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ آنجہانی وزیراعظم اندرا گاندھی اس کا اجرا کرنے ہیرالڈ ہاؤس کے باہر لگائے گئے شامیانے میں تشریف لائیں۔ اس تقریب کا عینی گواہ راقم الحروف بھی ہے۔ یہ بات کم ہی لوگوں کو معلوم ہے کہ ’قومی آواز‘ کے نہرو نمبر کی اشاعت عمل میں آئی تو اس کے خوبصورت ٹائٹل کو دیکھ کر مسزگاندھی نے یش پال کپور سے پہلا سوال یہی کیا تھا کہ یہ رنگین ٹائٹل کس نے بنایا ہے؟ جب انھوں نے اسلم صاحب کا نام بتایا تووزیر اعظم نے ان کے لیے کچھ سوغات بھی روانہ کی۔ یہ ایک فن کار کے فن کا کھلا اعتراف تھا۔اسلم صاحب نے کبھی خود کو نمایاں کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ایک بار خطاطی کے نیشنل ایوارڈ کے لیے کسی نے ان کا نام تجویز کیا تو انھوں نے اس میں خود کوئی دلچسپی نہیں لی اورکسی اور کانام آگے بڑھادیا۔ان کی تجویز پر یہ ایوارڈ کسی دوسرے کوملا۔ ’قومی آواز‘ سے ان کی وابستگی کا دورانیہ ایک چوتھائی صدی کو محیط ہے۔ اس کے بعد دوسرا سب سے بڑا رشتہ روزنامہ’دعوت‘ سے رہا۔ ان دونوں کے ہی ایڈیٹروں کے بارے میں انھوں نے اپنی آپ بیتی میں جو حقیقت بیانی کی ہے، وہ ان کی بے باکی، بے غرضی اور بے خوفی کی دلیل ہے۔ انھوں نے دیباچہ میں لکھا ہے:
”اس پوری آپ بیتی میں دوبڑے اداروں کے ترجمانوں کے کردار بہ نسبت دیگر شخصیات زیادہ نمایاں ہیں۔دونوں ترجمانوں نے اپنی اپنی غرض کی تکمیل کے لیے بڑا ہی صبر آزما طویل سفر طے کیا ہے۔ایڈیٹر ’قومی آواز‘ ہوں یا ’دعوت‘کے مدیراعلیٰ، دونوں کے ہی قول وکردار کی تفصیل بڑی حدتک بیان کردی گئی ہے۔ایک نے اگر پوری کمپنی کا بیڑاغرق کرکے ہی دم لیا تو ددوسرے نے پوری جماعت کا فکری رخ ہی بدل کر اپنی دیرینہ ضدپوری کرڈالی۔“ کتاب واقعی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

You may also like

Leave a Comment