جیل سے باہر جانے کو تیار نہیں تھےاعظم خان،حکومت پر بھروسہ نہیں،مشکل سے ہسپتال جانے کو آمادہ ہوئے

لکھنؤ:سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اعظم خان کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا ہے۔ لکھنؤ کے میدانتا اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اس سے قبل ایک سال سے زیادہ عرصہ سے سیتا پور ڈسٹرکٹ جیل میں بند سابق وزیر اور سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈراعظم خان کو اتوار کے روز ان کی طبیعت خراب ہونے کے بعد لکھنؤ کے میدنتا اسپتال بھیج دیا گیا تھا۔ 27 فروری 2020 سے سیتا پور جیل میں بند اعظم خان اور اس کے بیٹے عبداللہ کے 30 اپریل کو کورونا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔ڈپٹی جیلر اومکار پانڈے نے کہا کہ اعظم خان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ ان کا آکسیجن لیول 90 اور 92 کے درمیان جانا شروع ہوگیا۔ اس کے بعد ضلعی اسپتال کے ڈاکٹر ڈی لال کی سربراہی میں تین ڈاکٹروں کے پینل نے ان کا معائنہ کیا۔ اس کے بعد انہیں لکھنؤ ریفر کردیا گیا۔سی ایم او ڈاکٹر مدھو گیرولا، اے ڈی ایم ونے پاٹھک، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس، شمالی ڈاکٹر راجیو ڈکشٹ، ایس ڈی ایم صدر امت بھٹ سی او سٹی پیوش کمار سنگھ جیل پہنچے لیکن اعظم خان جیل سے باہر جانے کو تیار نہیں تے، کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد وہ راضی ہوگئے۔اس کے بعد، شام 6:40 بجے کے قریب اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ کو ایمبولینس کے ذریعہ لکھنؤ روانہ کیا گیا۔ اعظم خان کو ایس ڈی ایم صدر امیت بھٹ، سی او سٹی پیوش کمار سنگھ، خیر آباد انسپکٹر او پی رائے گارڈ اور پولیس لائن فورس کے ساتھ لکھنؤ بارڈر لے جایا گیا۔کسی بھی عہدیدار نے اعظم کیس سے متعلق باضابطہ طور پر کوئی معلومات نہیں دی ہے۔ اعظم خان کو منانے کا دورانیہ 2 گھنٹے سے زیادہ چلتا رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب اعظم خان راضی ہوئے تو اس کے بعد انہوں نے جیل کے اندر ہی غسل کیا اور پھر اپنے بیٹے کے ساتھ میدانتا اسپتال جانے پر راضی ہوئے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*