جیل میں بندسی اے اے مخالف کارکن نے پولیس کے نامناسب رویہ کے خلاف دائرکی عرضی

نئی دہلی:دہلی ہائی کورٹ نے پنجرا توڑ گروپ کی ایک خاتون رکن کی درخواست کے جواب میں دائر پولیس حلف نامے میں لگائے گئے الزامات کو جمعرات کو غیر منصفانہ قرار دیا۔پنجراتوڑممبرکومتنازع شہریت ترمیم قانون (سی اے اے )کے خلاف مظاہروں کے دوران یہاں فرقہ وارانہ تشدد کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایجنسی نے ان کے خلاف کچھ مبینہ ثبوت کومیڈیا کے ذریعہ عام کیا۔ جسٹس وبھو باکھرو نے کہاکہ پٹیشن کے محدود دائرے کو دیکھتے ہوئے حلف نامے میں لگائے گئے الزامات غلط ہیں۔ عدالت نے کہا کہ پولیس یہ نہیں کہہ سکتی کہ درخواست گزار میڈیا میں ٹرائل چاہتی ہے، اس لئے وہ میڈیا کو معلومات دے رہی ہے۔ عدالت نے کہاکہ آپ کسی بھی میڈیا ٹرائل کی حمایت نہیں کرسکتے۔ یہ پولیس کا موقف نہیں ہوسکتا،کچھ پابندی ہونی چاہئے اور انہیں (پولیس) کو ماننا ہوگا۔ آپ کا حلف نامہ بہت آگے ہے۔ عدالت نے کہا کہ حلف نامے میں متعدد الزامات لگائے گئے ہیں جو درخواست کے دائرے سے باہر ہیں، عدالت نے اسے واپس لینے کا مشورہ دیا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں وہ صرف اس بات کی تحقیقات کرنے والی ہے کہ کس حالت میں اور کس انداز میں پولیس کسی معاملے کے بارے میں سرکاری ریلیز یا پریس نوٹ جاری کرسکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ وہ پولیس کو کسی بھی معاملے میں سرکاری پریس ریلیز جاری کرنے سے منع نہیں کررہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر حلف نامہ ریکارڈ پر موجود ہے اور کوئی بھی اہلکار ان الزامات کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے تو وہ اس کے مندرجات پر تبصرہ کرے گی۔ عدالت نے کہاکہ ہمیں نہیں معلوم کہ (حلف نامے میں) حقائق کی کوئی بنیاد ہے یا نہیں، کچھ الزامات غیر ذمہ دارانہ طور پر لگائے گئے ہیں۔