جہیز گناہ ہے؛ مگر گناہ گار کون؟ ـ عبداللہ ممتاز

ایک مخصوص واقعہ؛ بلکہ سانحہ پیش آنے کے بعد سے جہیز کے خلاف لکھنے والے قلمکاروں کی ایک لائن لگی ہوئی ہے، واٹس ایپ کھولیں یا فیس بک، ہر جگہ جہیز اور جہیز لینے والے مردوں کے خلاف ایک محاذ کھول دیا گیا ہے، ان تحریروں کی وجہ سے تو جہیز لینے والے مرد حضرات ہی نہ کہیں خود کشی پر آمادہ ہوجائیں ـ کسی نے لکھا کہ ائمہ حضرات جہیز لینے والے لوگوں کو مسجد میں جمعہ کے خطبہ میں نام بنام ذلیل کریں (جیسے یہ عمر فاروق کے مقرر کیے ہوے امام ہوں) کسی نے لکھا کہ "رسم جہیز” کو سب سے زیادہ فروغ دینے والے یہ مولوی اور مفتی حضرات ہیں جو پوری تقریر یا تحریر کے بعد "لیکن/البتہ” لگا کر چور دروازہ فراہم کردیتے ہیں اور عوام کو جہیز کا جواز مل جاتا ہےـ اس لیے اس رسم بد کے سب سے بڑے مجرم "علما” ہی ہیں (ویسے تو معاشرے کی تمام تر برائیوں اور کمی کوتاہیوں کا ٹھیکرا ان علما ہی کے سر پھوڑا جاتا ہے؛ چوں کہ یہ بیچارے بڑی آسانی سے اپنا سر پیش بھی کردیتے ہیں) کسی نے لکھا کہ جہیز لینے والوں کا سماجی بائیکاٹ کردینا چاہیے تو کسی نے لکھا کہ جہیز لینے والوں کو رمضان میں زکاۃ بھی لینی چاہیےـ الغرض بھانت بھانت کے مشورے اور رسم جہیز کے فروغ کی وجوہات سامنے آئیں؛ لیکن ہر معاملے کی طرح اس معاملے کو بھی ایک ہی رخ سے دیکھا گیا، جب کہ ہر سکے کے دو رخ اور معاملے کے دو پہلو ہوتے ہیں، جب کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو ہم ایک رخ پر اتنا فوکس کرتے ہیں کہ دوسرا پہلو بالکل نظرانداز ہوجاتا ہے، اس لیے معاملہ کا دوسرا رخ دکھانے کے لیے ہم نے بھی قلم گھسیٹنا ضروری سمجھاـ

اپنا جسم فروخت کرنے والی عورت کے لیے استعمال ہونے والے کئی الفاظ آپ کے ذہن میں ہوں گے”جسم فروش، عصمت فروش، پیشہ ور، طوائف، دھندے والی” اور بازاری زبان میں "رنڈی اور ہیرامنڈی والی”ـ اس کے علاوہ بھی کئی نام آپ کے ذہن میں ہوں گے؛ لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ان "جسم فروشوں” سے جسم خریدتا کون ہے؟ جسم کے ان خریداروں کا بھی کوئی نام آپ کے ذہن میں ہے؟ نہیں نا!
اس لیے کہ اب تک ہم نے سکے کا صرف ایک پہلو دیکھا، معاشرے میں "اس مخصوص برائی” کا پورا ذمے دار ان خواتین کو قرار دے دیا اور اس پیشے/ پیشہ ور خواتین کو ختم کرنے پر پورا فوکس دیا کہ اس طرح یہ برائی ختم ہوجائے گی؛ لیکن کیا ہوا؟
پاکستان میں ایک بدنام زمانہ مارکیٹ ہیرا منڈی ہے، جہاں کسی زمانے میں اتنے بڑے پیمانے پر عصمت فروشی کا کاروبار ہوتا تھا کہ پاکستان میں اب ہیرا منڈی ایک گالی بن چکی ہے، کچھ سماجی ورکرز کی محنت اور کچھ حکومتی توجہات کی وجہ سے (بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق) یہاں اب یہ کاروبار بالکل ختم ہوچکا ہے یا نہ کے برابر ہے؛ لیکن کیا یہ برائی بھی ختم ہوچکی ہے؟
نہیں بلکہ اب یہ اور بھی بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے، زنا اب کے مقابلے میں پہلے دس فیصد بھی نہیں ہوا کرتا تھا، معذرت کے ساتھ لکھ دوں کہ اب تو ہوٹلز، پارکس، بیچز (سواحل) یہاں وہاں سب جگہ ہیرا منڈی بن چکی ہے؛ کیوں کہ ہم نے صرف ایک پہلو پر توجہ دی اور دوسرے کو یکسر نظر انداز کردیاـ

اس تمہید طولانی کے بعد عرض ہے کہ جہیز لینا یقینا ایک بڑا جرم ہے اور جہیز لینے والے بڑے مجرم ہیں؛ لیکن آخر جہیز دیتا کون ہے اور کیوں دیتا ہے؟ اس طرف بھی توجہ ڈالیےـ
آپ کہیں گے جہیز دینا لڑکی والے کی مجبوری ہے، اس کے بغیر ان کی بیٹی کی شادی نہیں ہوپاتی ـ میں کہتا ہوں آپ بالکل غلط ہیں ـ جہیز کی کئی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ضرور ہے؛ لیکن سوفیصد یہی وجہ بالکل بھی نہیں ہےـ

اس زمانے میں جہیز دینا مجبوری کم اور فیشن، فخر، شان، اپنی تعلی، دکھاوا اور سماج میں اپنی ناک کا مسئلہ زیادہ ہے، بیٹی والے صرف مطالبہ پر ہی جہیز نہیں دیتے؛ بلکہ اس لیے بھی جہیز دیتے ہیں کہ میری ناک کا مسئلہ ہے، فلاں نے اپنی بیٹی کو اتنا جہیز دیا تھا، ہم اس سے دوگنا دیں گےـ
میں نے اپنے خاندان اور علاقہ وتعلقات میں دیکھا ہے کہ شاید ہی کوئی ایسا کیس ہو جس میں جہیز کی تفصیلی فرمائش کی گئی ہو؛ لیکن اس کے باوجود اپنی ناک اور انا کی خاطر اپنی پشتینی زمینوں کو بھی بیچ کر اچھا سے اچھا جہیز مہیا کیا گیاـ سامان جہیز پہلے مجمع عام میں رکھ کر شریک دعوت لوگوں میں نمائش کی جاتی ہے اور "فہرست جہیز” جاری کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں خوب واہ واہی بٹور سکےـ
میرے کئی دوستوں کے واقعات ایسے بھی ہیں کہ انھوں نے بڑی سختی سے منع کیا کہ ہمیں جہیز نہیں چاہیے، ہم سے جو بن پڑے گا ہم خود انتظام کرلیں گے؛ لیکن لڑکی والے نہیں مانے اور معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ اگر آپ جہیز نہیں لیتے ہیں تو شادی کا معاملہ ختم ہوجائے گا؛ چناں چہ اسے مجبوری میں جہیز محض اس لیے لینا پڑا کہ وہ اپنے پسند کی لڑکی کو کھونا نہیں چاہتے تھےـ
میرے ایک سینیر دوست جو عالم دین اور قدرے متقشف مزاج بھی تھے انھیں ایک جگہ لگے لگائے رشتے سے صرف اس لیے ہاتھ دھونا پڑا کہ وہ سامان جہیز نہ لینے پر بضد تھےـ
شادی کے روز مجمع عام میں لڑکی والے لاکھوں کا سامان پوری رضا ورغبت اور خوشی سے دیتے ہیں، اگر آپ منع کیجیے تو سینہ ٹھوک کر کہتے ہیں کہ ہم تو اپنی خوشی سے دے رہے ہیں (اس لیے بیچارے مفتی بھی اسے جائز کہنے اور لکھنے پر مجبور ہوتے ہیں؛ چوں کہ دل کی اصلیت جاننے کا ان کے پاس کوئی تھرمامیٹر نہیں ہے) لیکن ایک ہفتہ بعد ہی اگر آپ کو یا اہلیہ کو کوئی ایمرجنسی پیش آگئی اور سسرال والوں سے پانچ دس ہزار روپے بھی لینے پڑے تو وہ واجب الاعادہ قرض ہوتا ہے، اب ساری خوشیاں کافور ہوچکی ہوتی ہیں؛ چوں کہ اب وہ مجمع نہیں ہے جس میں یہ واہ واہی لوٹ سکیں گے، دس لوگ یہ کہنے والے نہیں ہیں کہ "فلاں صاحب نے اپنی بیٹی کو بہت دیا”ـ

جہیز کی ایک دوسری وجہ حکم نبوی "فاظفر بذات الدين” (کہ دین داری کی وجہ سے پسند کرو) کو ہم نے چھوڑ دیا، یعنی شادی کے لیے لڑکا کی تلاش کے وقت اس کے اخلاق وکردار، اس کی دینی حالت اور اس کے خاندانی تربیت کو مکمل نظر انداز کرکے صرف اور صرف اس کی مالی حالت دیکھی جاتی ہے اور اس کے پختہ مکان چیک کیا جاتا ہےـ اگر لڑکے کی سیلری اچھی ہے پھر وہ بدمعاش ہو یا اوباش، رشوت خور ہو یا شرابی اس کی تحقیق کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے؛ چناں چہ شادی سے پہلے ہی وہ تلک کی رقم/ گاڑی/ جہیز کی فرمائش کرکے اپنے بدقماش وبداخلاق اور نیچ ہونے کا ثبوت دے چکا ہوتا ہے، اس کے مقابل ایک دوسرا لڑکا جو صحیح اخلاق وکردار کا مالک ہو، دین دار؛ بلکہ کسی بڑے دارے کا فاضل مولوی بھی ہو؛ لیکن سیلری اس سے کم ہو تو اسی شخص کا انتخاب کرتے ہیں جس کی سیلری زیادہ ہو گوکہ وہ تلک اور جہیز کا مطالبہ کر رہا ہوـ
میں کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو آٹھ دس ہزار کی سیلری پر کام کر رہے ہیں یا ان کے پاس پختہ مکان نہیں ہے، انھیں تمام تر تلاش کے باوجود مناسب رشتہ نہیں مل پارہا ہےـ
میں یہ بالکل نہیں کہتا کہ آپ لڑکے کی مالی حالت نہیں دیکھیے، یقینا یہ قابل توجہ چیز ضرور ہے؛ لیکن قابل ترجیح نہیں ہےـ آپ اپنے ارد گرد اور اطراف میں روز دیکھتے ہوں گے کہ معمولی تنخواہ پانے والا یا محنت مزدوری کرنے والا اپنی بیوی کو ہر سال تاج محل دکھانے نہیں لے جاتا، گوا اور پیرس کی سیر نہیں کراتا؛ لیکن وہ اپنی بیوی کو لاکھوں کمانے والوں سے زیادہ خوش رکھتا ہےـ بیٹی کے "خوش رہنے” کو پورے طور پر مادیت سے جوڑدینا جہیز کے بڑے اسباب میں سے ایک ہےـ

جہیز کے فروغ کے بڑے اسباب میں سے ایک سبب بیٹیوں کو چاہے ان چاہے وراثت سے محروم کرنا بھی ہے، اپنی خود کی بیٹی کو پانچ لاکھ کا جہیز تو دے دیتے ہیں؛ لیکن اپنی بہن کو ڈھائی لاکھ کی وراثت کی زمین نہیں دے سکتے؛ چوں کہ خود اس نے اپنی بہن کا حق دبا رکھا ہے، اس لیے کہیں نہ کہیں اس کی چھٹی حس میں یہ بات ضرور ہوتی ہے کہ جو دینا ہے ابھی دے دو، بعد میں میرے بیٹے انھیں کچھ نہیں دیں گے، اس لیے جہیز کے خاتمہ کے لیے لڑکیوں کی وراثت کو فروغ دیا جانا چاہیےـ

بہرحال! جہیز کے مجرم صرف لینے والے نہیں ہیں؛ بلکہ اسے فروغ دینے میں جہیز دینے والوں کا بھی بڑا ہاتھ ہےـ
اولا لڑکے کے انتخاب میں مادیت کو اولی درجہ دینے کے بجائے دین داری، اخلاق وکردار اور خاندانی تربیت کو اولی درجہ دے، جہیز کو اپنی شان اور دکھاوے کا مسئلہ بنانے کے بجائے ضرورت کی چیز سمجھے کہ اگر لڑکا دین دار؛ مگر مالی اعتبار سے کمزور ہے تو کچھ دیدے تاکہ بسہولت اپنی نئی زندگی کا آغاز کرسکے اور لڑکیوں کی وراثت کو یقینی بنائے اور سب سے پہلے اپنی بہنوں کا حصہ ان کے حوالے کردیں تو جہیز کے معاملات یقینا کم سے کم تر ہوجائیں گےـ میرے مشاہدہ وتجربہ میں اب بھی ڈیمانڈ کرکے جہیز لینے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے؛ البتہ بغیر مطالبہ کے زبردستی اپنی شان اور انا کے لیے جہیز تھوپنے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں جہیز کی وجہ سے خواتین کی خود کشی یا قتل کے واقعات دیگر مذاہب کے مقابلے میں بہت کم ہیں ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*