Home نقدوتبصرہ جدید شاعر من موہن تلخ کی بازیافت : فیضان الحق کی وقیع تنقیدی کتاب

جدید شاعر من موہن تلخ کی بازیافت : فیضان الحق کی وقیع تنقیدی کتاب

by قندیل

تعارف و تبصرہ : شکیل رشید

نام من موہن شکل تھا ، برہمن تھے ، لیکن سنسکرت سے زیادہ اردو زبان سے پیار تھا ، شاید اسی لیے سنسکرت زبان میں تین اور اردو میں اسّی نمبر حاصل کیے تھے ۔ ایک دفعہ پنڈت دتاتریہ کیفی نے ماتھا چوم کر کہا تھا کہ ’’ جب تک آپ جیسے نوجوان زندہ ہیں اردو زبان پر کبھی آنچ نہیں آئے گی ۔‘‘ لیکن اب آنچ آ گئی ہے کہ اب من موہن تلخ جیسے لوگ نہیں ہیں ۔ کون ہیں یا کون تھے من موہن تلخ ؟ آج اس سوال کا جواب اردو زبان جاننے والوں میں سے بہت سے لوگ شاید نہ دے پائیں ، اور یہ ان کا قصور نہیں ہے ، اردو زبان و ادب کے جو مکھیا ہیں یا جو خود کو مکھیا سمجھتے ہیں ، انہیں عرصہ ہوا من موہن تلخ کو بھلائے ۔ نہ اب کہیں ان کے شعری مجموعے نظر آتے ہیں اور نہ ہی دیگر کتابیں ۔ ایسے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی کے نوجوان ریسرچ اسکالر فیضان الحق نے اپنی کتاب ’ میں سلسلہ ہوں صداؤں کے حرف بننے کا : من موہن تلخ کی شاعری کا مطالعہ ‘ کے ذریعے ان کی بازیافت کا کام کیا ہے ، اور بہت ہی شاندار طریقے سے یہ کام کیا ہے ۔ فیضان الحق نے جے این یو سے ایم اے کیا ہے ، ایم فل جامعہ ملیہ اسلامیہ سے کیا ہے ، موضوع تھا ’ انور عظیم کا افسانوی مجموعہ اجنبی فاصلے : ایک مطالعہ ‘ ، پی ایچ ڈی بھی جامعہ سے کی ہے ، موضوع ’ ضمیر الدین احمد کی افسانہ نگاری : ایک مطالعہ ‘ تھا ۔ زیر تعارف و تبصرہ 1923 میں شائع ہونے والی ان کی دوسری تنقیدی کتاب ہے ، پہلی کتاب کا نام ’ انور عظیم کی تخلیقی کائنات ہے ‘ ، جو ترقی اردو ( ہند) نئی دہلی نے شائع کی ہے ، اور جس کی ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی ہوئی ہے ۔ ان کا ایک سفر نامہ ’ کلکتے کا جو ذکر کیا ‘ 2020 میں بہرائچ سے شائع ہوا تھا ۔
زیر تعارف و تبصرہ کتاب جدید شاعر من موہن تلخ کی شاعری کی تنقید ہے ، لیکن یہ تنقید روایتی نہیں ہے ، صدیق الرحمن قدوائی کے بقول ’’ ہماری تنقید میں شاعری کو پرکھنے کا جو عام رواج ہے اس سے فیضان الحق نے خود کو بچائے رکھا ہے اور تلخ کی انفرادیت کا صحیح سبب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے ۔‘‘ قدوائی صاحب نے درست کہا ہے ، فیضان الحق جب تلخ کی شعری کائنات کی خوبیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے اشعار کی تشریح اور تجزیہ کرتے ہیں تو تلخ کی ذات اس تشریح اور تجزیے کا محور ہوتی ہے ، اس کے نتیجے میں ہمارے سامنے تلخ اور ان کی شعری دنیا عیاں ہوکر سامنے آ جاتی ہے ۔ تلخ کی ذات کو سمجھے بغیر ان کی غزلوں ، نظموں اور رباعیوں کو سمجھ پانا آسان نہیں ہے ۔ فیضان الحق نے اس کتاب کے ذریعے تلخ کو سمجھنے میں بھی ہماری مدد کی ہے اور ان کی شاعری کو بھی ہمارے لیے آسان بنایا ہے ۔
فیضان الحق نے من موہن تلخ کی شاعری کو اپنی تنقید کا موضوع کیوں بنایا ، آخر انہیں ایسا کیا لگا کہ تلخ کو لوگوں کے سامنے نئے سِرے سے پیش کرنا انہوں نے ضروری سمجھا ؟ اِن سوالوں کے جواب اُن کے ’ پیش لفظ ‘ میں واضح طور پر نہیں ملتے ، لیکن بین السطور میں مِل جاتے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں ، ’’ مجھے خوشی ہے کہ میں نے تلخ کے تمام شعری مجموعوں کا بالاستیعاب مطالعہ کیا ہے ۔ مطالعے کے دوران تلخ کی شاعری کی کچھ نمایاں خصوصیات ظاہر ہوئیں ۔ میں ان خصوصیات کو اپنی ڈائری میں درج کرتے ہوئے اشعار کا انتخاب کرتا گیا ۔ میری ڈائری میں مختلف عنوانات کے تحت اشعار جمع ہو گیے ۔ ہر نئی قرأت کے ساتھ تلخ کی شاعری کے امتیازی پہلو روشن ہوتے گیے ۔ منتخب اشعار نے تلخ کی شاعری کے اہم موضوعات کی جانب متوجہ کیا ۔‘‘ اس اقتباس سے پتہ چلتا ہے کہ فیضان الحق کو تلخ کی شاعری نے پہلی قرأت ہی سے اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا ، اسی لیے وہ منتخب اشعار اپنی ڈائری میں درج کرتے رہے ، اور ہر قرأت میں اُن اشعار کی خوبیوں پر غور کرتے رہے ، یہاں تک کہ یہ کتاب وجود میں آ گئی ۔ یعنی تلخ انہیں پسند آئے ، اچھے لگے ، اور انہوں نے اپنی پسند میں ہم سب کو شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ، اور یہ اچھا ہی کیا ۔ کتاب میں ’ تلخ کی غزل گوئی کے امتیازی نقوش ‘ کے عنوان سے ایک شاندار مضمون شامل ہے ، جسے پڑھ کر اُن امتیازی خصوصیات سے آگاہی ہوتی ہے ، جو مصنف کے بقول تلخ کی شاعری میں پائی جاتی ہیں ۔ فیضان الحق لکھتے ہیں ، ’’ تلخ کی شاعری اُن کی ذات سے پھوٹتی ہے اور ایک کرب کا احساس دلاتی ہے ۔‘‘ وہ بتاتے ہیں ، ’’ لفظیات اور زبان و اسلوب کی سطح پر بھی ہم ان کی شاعری میں نئے تجربے سے دوچار ہوتے ہیں ۔‘‘ مزید لکھتے ہیں ، ’’ ترقی پسندی ، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے رجحانات و میلانات ان کے تجربے کا حصہ رہے ۔ تلخ تیزی سے بدلتی ہوئی ان صورتوں سے مرعوب نظر نہیں آتے ۔ ان کی آواز اپنی آواز ہے ۔ ان کا درد اظہار کے مختلف پیرایے ڈھونڈھتا ہے ۔ وہ کسی مقام پر اپنے عہد یا ماضی کے کسی بھی شاعر کے مقلد ، نقال یا پرستار نظر نہیں آتے ۔‘‘ وہ بڑی تفصیل سے بتاتے ہیں کہ تلخ کی شاعری میں صدا ، آواز ، سکوت ، سماعت ، شہر ، گاؤں ،یاس ، کھنڈر اور تلخی اہم حوالے کیوں اور کیسے ہیں ۔ تلخ کی غزلوں میں کرب ، انہماک ، اداسی ، یاس ، جھنجھلاہٹ ، حوصلہ ، زندگی اور موت کے گہرے شعور کی ، کیفیات اور احساسات کی بات کرتے ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ تلخ کے یہاں زمانے کا اور لوگوں کا گہرا مشاہدہ ہے ، اس مشاہدے کی بِنا پر تلخ اپنی شاعری میں موجودہ عہد کی سب سے بڑی خامی ’ بے چہرگی ‘ کا ، اور منافقت کا ذکر کرتے ہیں ۔ وہ تلخ کے تصورِ عشق کو بھی سامنے لاتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ تلخ لطیف حسّیت کے شاعر ہیں ۔ یہ تلخ کی شاعری کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ایک لاجواب مضمون ہے ۔ مصنف نے ایک مضمون تلخ اور یاس یگانہ چنگیزی پر بعنوان ’ من موہن تلخ اور یاس یگانہ چنگیزی ‘ بھی کتاب میں شامل کیا ہے ۔ یاس تلخ کے استاد تھے ۔ یہ مضمون بھی لاجواب ہے ، اس میں جہاں تلخ کی شخصیت کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں وہیں یاس کی زندگی کے مختلف رنگ بھی دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ مضمون بتاتا ہے کہ تلخ اپنے استاد یاس یگانہ کا احترام بھی کرتے تھے اور بے حد محبت بھی ۔ اس مضمون میں اس اہم بات کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ یاس یگانہ پر ’ تحقیق ‘ کرنے اور لکھنے والوں نے تلخ سے کبھی مدد لینے کی ضرورت نہیں محسوس کی ، جبکہ یاس کی حیات اور خدمات کو تلخ سے بہتر کوئی جاننے والا نہیں تھا ، اور تلخ کو بھی یاس یگانہ کے تعلق سے خود کو نظرانداز کیے جانے کا احساس تھا ۔ کتاب کا پہلا مضمون تلخ کی سوانح ہے ، اور کیا ہی دلچسپ ہے ! فیضان الحق نے تلخ کی خوشیوں کو ، غموں کو اور ان کی تلخی کو اپنی اس تحریر میں ایک شکل دے دی ہے ۔ تلخ اردو ، فارسی ، سسنکرت ، ہندی اور انگریزی میں مہارت رکھتے تھے ، انہوں نے صحافت کی ، ترجمہ نگاری کی ، کالم لکھے ، اور زندگی کی گاڑی پٹری پر دوڑاتے رہے ، لیکن انہیں کبھی ایسی ملازمت نہیں ملی جو انہیں ہر لحاظ سے مطمٗن کر دیتی ۔ ہر دور میں باصلاحیت افراد کے ساتھ یہ ہوتا رہا ہے ۔ تلخ میں شاید اسی لیے اوّل دور سے تلخی بھر گئی تھی ، ان کی شاعری میں ’ غصہ ‘ پوری تندی کے ساتھ نظر آتا ہے ، تلخ بلاشبہ اپنی جوانی میں ’ اینگری ینگ پویٹ ‘ یعنی ’ غصہ ور نوجوان شاعر ‘ اور برھاپے میں ’ اے اینگری اولڈ پویٹ ‘ یعنی ’ ایک غصہ ور بوڑھا شاعر ‘ رہے ہوں گے ۔ فیضان الحق نے مختلف عنوانات سے ان کی شاعری کی جو تشریح کی اور تجزیہ پیش کیا ہے ، یا یہ کہہ لیں کہ ان کی شاعری کاجو تنقیدی مطالعہ کیا ہے ، اُس میں ’ تلخی ‘ کا باب بھی شامل ہے ۔ آئیں ایک شعر کے حوالے سے اس کی ایک مثال دیکھتے ہیں ؛ درج ذیل شعر پڑھیں ، اس کے بعد اس پر فیضان الحق کی بات ؎
یہ ٹھیک ہے چپ سی لگ گئی ہے ، مگر سمجھ لی ہے مات اپنی
کہ لہجہ نہ اتنا تلخ ہوتا سُنی ہی جاتی جو بات اپنی
’’ یہاں لہجے کی تلخی کے ساتھ ساتھ چپ لگ جانے کا بھی ذکر ہے ۔ بظاہر یہ دونوں مختلف صورتیں ہیں ۔ یعنی تلخی اظہار کا نام ہے اور چپ خاموشی کی ایک شکل ۔ لیکن متکلم کی طبیعت بیک وقت اِن دونوں تجربوں سے دوچار ہے ۔ شاید وہ لہجے کی تلخی سے پریشان ہوکر ہی چپ رہنے لگا ہے ۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ متکلم کی بات نہیں سُنی جاتی ۔ یہاں ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ لوگوں نے متکلم کو اس قدر نظرانداز کیا ہے کہ اس کے مزاج میں تلخی پیدا ہو گئی ہے ۔‘‘ مصنف نے تلاش ، صدا ، آواز ، چپ ، خاموشی ، سکوت ، سماعت ، گاؤں ، بستی ، شہر ، گھر ، یاس ، اداسی ، کھنڈر کے عنوانات سے تلخ کی شاعری میں پائی جانے والی کیفیات کا تنقیدی مطالعہ پیش کیا ہے ۔ انہوں نے غزلوں کے ساتھ تلخ کی نظموں اور رباعیات کا بھی مطالعہ پیش کیا ہے ، اور تلخ کے ناقدین کی آراء بھی سامنے رکھ دی ہیں ، جن میں شمس الرحمٰن فاروقی ، نثار احمد فاروقی ، محمد حسن ، شمیم حنفی ، خلیق انجم ، عتیق اللہ ، شارب ردولوی ، مغنی تبسم ، گوپال متّل ، آغا سہیل ، شاہد مہدی اور فرحت عباس کے نام شامل ہیں ۔ فیضان الحق کی یہ کتاب ، ایک جدید شاعر کو سمجھنے اور سمجھانے کی ، ایک شاندار اور کامیاب کوشش ہے ۔ کتاب کے بیک کَور پر معروف نقاد و محقق ، پروفیسر شافع قدوائی نے اس کتاب کے لیے ، یہ کہہ کر پیٹھ تھپتھپائی ہے ، ’’ شاعروں کے اس نوع کے مطالعے شاذ ہی منظر عام پر آتے ہیں اور اس کے لیے نئی نسل کے نمائندہ ناقد فیضان الحق مبارک باد کے مستحق ہیں ۔‘‘ حقانی القاسمی نے لکھا ہے ، ’’ انہوں ( فیضان الحق ) نے تلخ کی شاعری کی لفظیات ، تلازمات اور لوازمات پر معنی خیز بحث کے ساتھ تلخ کے تخلیقی متون کے سے براہ راست مکالمہ کرکے نتائج اخذ کیے ہیں ۔‘‘ مصنف نے کتاب کا انتساب اپنی رفیقۂ حیات عنب شمیم کے نام کیا ہے ۔ کتاب ’ عذرا بُک ٹریڈرس ، نئی دہلی ‘ نے خوب صورت انداز میں شائع کی ہے ، اس کی ضخامت 223 صفحات ہے اور قیمت 400 روپیے ہے ۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے موبائل نمبر 8800297878 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔

You may also like