جدید مختصر کہانیوں کا ماسٹر:گا ئے ڈی موپاساں

فراز احمد
گائے ڈی موپاساں 5 اگست 1850کوپیداہوا اور 6 جولائی 1893ا کو دنیا سے رخصت ہو گیا، 19 ویں صدی اس فرانسیسی مصنف اور مختصر کہانیوں کے ماسٹر کے بغیر ادھوری ہے،مو پاساں کو جدید مختصر کہانیوں کا باپ کہا جاتا ہے،وہ صرف 42سال زند ہ رہا، مگر ایسے ایسے شاہکار تخلیق کیے جس نے فرانسیسی ادب کو بلندیوں کے آسمان پر پہنچا دیا،بعد میں آنے والے سبھی مصنفین نے اس کی ذہنی صلاحیتوں کا نہ صر ف اعتراف کیا بلکہ غیر ارادی طور پر اس کے نقش قدم پر چلنے کی بھی کوشش کی،موپاساں کو نیچر کے نمائندے کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے، اس کی کہانیوں میں ، فطرت پسندی ، حقیقت پسندی ، انسانی زندگیاں ، تقدیر، مایوسی ، بے بسی،بھوک ، افلاس ،جنگ، معاشرتی قوت جا بجا بکھری دکھائی دیتی ہے،موپاساں نہ صرف شاعربلکہ ناول نگاربھی تھا، مگرمختصر کہانیوں نے اسے زندہ جاوید کر دیا ۔
موپاساں کی کہانیوں میں 1870 کی فرانکو پرشین جنگ ، شہریوں پر گزرے واقعات ، حادثات و تجربات صاف دکھائی دیتے ہیں ، موپاساں نے 300 مختصر کہانیاں ، چھ ناول ، تین سفری کتابیں ، اور آیت کی ایک جلد تحریر کی۔ ان کی پہلی شائع شدہ کہانی;34; بولے ڈی سوف گیند آف پسینے جسے شاہکار کا درجہ دیا جاتا ہے ۔
موپاساں جب گیارہ سال کا تھا تو اس کی والدہ جو کہ آزاد سوچ کی حامل تھیں ، اپنے شوہر سے قانونی طورپر الگ ہو گئیں ،وہ خود کلاسیکی ادب خصوصا شیکسپیئر کو بہت پسند کرتی تھی ۔ تیرہ سال کی عمر تک موپاساں خوشی سے اپنی والدہ کے ساتھ ، اٹریٹ میں ، ولا ڈیس ورگوئس میں رہائش پذیر رہا ، جہاں سمندر اور پرتعیش دیہی علاقے موجود تھے ، اسے ماہی گیری اور بیرونی سرگرمیوں کا بہت شوق تھا ۔ تیرہ سال کی عمر میں ،اس کی ماں نے اسے اور اس کے بھائی کو روئین کے ایک نجی اسکول میں داخل کرا دیا،موپاساں نے اسی سال کالج سے گریجویشن کیا جس سال فرانکو پرشین جنگ ہوئی ،اس نے جنگ میں ایک رضاکار کی حیثیت سے حصہ لیا ۔ بعد ازاں 1871 میں وہ نارمنڈی چھوڑ کر پیرس چلا گیا جہاں اس نے بحریہ کے محکمہ میں کلرک کی حیثیت سے دس سال گزارے ۔
موپاساں کے لکھاری بننے میں گوسٹاو فلو برٹ کا بہت بڑا ہاتھ ہے،جس نے نہ صرف اس کی رہنمائی کی بلکہ اسے دنیا کا سب سے بڑا مصنف بنا دیا، گوسٹاو فلوبرٹ نے موپاساں کی صحافت اور ادب میں رہنمائی کرتے ہوئے ادبی سرپرست کی ، موپاساں نے فلوبرٹ کے گھر پر ایمائل زولا اور روسی ناول نگار ایوان تورگینیف کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندی اور فطرت پسند اسکولوں کے بہت سارے حامیوں سے بھی ملاقات کی اور ذہن کی تعمیرکی ۔ 1878 میں موپاساں لی فگارو ، گل بلاس ، لی گالوئس اور لچو ڈی پیرس جیسے متعدد مشہور اخبارات میں معاون ایڈیٹر بن گیا ۔ اس نے اپنا فارغ وقت ناول اور مختصر کہانیاں لکھنے میں صرف کیا ۔
1880 میں پہلا ناول بولے ڈی صوف منظر عام پر آیا، جس نے زبردست کامیابی حاصل کی ۔ فلاوَبرٹ نے اسےایک شاہکارکے طور پر پیش کیا ۔ فرانسیہ پرشین جنگ کے دوران یہ ماوَساسنٹ کا مختصر افسانوں کا پہلا ٹکڑا تھا ،پھرڈیوکس امیس مدر سیویج ، دی ہیکل اور میڈیموسیل فیفی جیسی مختصر کہانیاں بھی سامنے آئیں ۔ 1880سے 1891 موپاساں کی زندگی کا سب سے زرخیز دور تھا ۔ 1881 میں موپاساں نے لا میسن ٹیلئر کے عنوان سے مختصر کہانیوں کی پہلی جلد شائع کی ۔ جو صرف دو سال کے اندر اندر اپنے بارہویں ایڈیشن تک پہنچ گئی۔ 1883 میں ، اس نے اپنا پہلا ناول اون واء،انگریزی میں ایک عورت کی زندگی کے طور پر ترجمہ کیا جس کی ایک سال میں پچیس ہزار کاپیاں فروخت ہوئیں ، دوسرا ناول بیل امی ، 1885 میں سامنے آیا ، جسے چار مہینوں میں سینتیس بار چھاپا گیا ۔ موپاساں کاسب سے زیادہ پاسند کیا جانے والا مختصر افسانہ ، دی ہار، دی نکلیس ہے جس میں ایک محنت کش طبقے کی لڑکی کی کہانی بیان کی گئی ہے جو ایک اعلی معاشرتی پارٹی میں شرکت کے لیے ایک دولت مند دوست سے ہار ادھار لیتی ہے اور کھو بیٹھتی ہے ۔ بعد ازاں پوری زندگی ہار کی رقم کی ادائیگی کرتی ہے، پھر آخر میں پتہ چلتا ہے کہ یہ ہار اصلی نہیں ، بلکہ نقلی تھا، اور اس کی محنت بے فائدہ رہی
1890 میں موپاساں سیفلیس نامی بیماری کاشکار ہو گیا، جو اس کی ذہنی بیماری کا باعث بنی،جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی،موپاساں کی کہانیوں میں چند ایک جگہ جنونی کیفیت بھی نظر آتی ہیں ،جو شاید ان کی بیماری کی علامت کے طور پر ہو ،کچھ نقادوں نے بھی اس کی کہانیوں کے موضوعات کو اس کی نشوونما پذیر ذہنی بیماری کا نقشہ بتا کر پیش کیا ۔ لیکن ڈی موپاسنٹ کا ہارر افسانہ ان کے کام کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے ، جو سب سے الگ اور منفرد ہے، جس کا موازنہ اسٹیفن کنگ کے مشہور ناول دی شائننگ سے کیا جا سکتا ہے ۔ موپاساں ذہنی کیفیت و جنون میں اپنا گلا کاٹ کر خودکشی کرنےکی بھی کوشش کی جو اس کے دماغی جنونی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے،اس نےاپنی زندگی کے آخری 18 ماہ پیرس کے ایک ذہنی علاج کے ادارے ڈاکٹر ایسریپٹ بلانچ کے مشہور نجی سیاسی پناہ میں گزارے اور وہیں 6جولائی 1893 میں اس کا انتقال ہو گیا ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)