جدید ہندوستان کی تعمیر و تشکیل میں لال بہادر شاستری کا اہم کردار

قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر شیخ عقیل احمد کا سابق وزیرِ اعظم کے یومِ پیدایش پر خراجِ عقیدت
نئی دہلی:لال بہادر شاستری اُن عظیم ہندوستانیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے ہماری سماجی زندگی پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ہماری عوامی زندگی میں شری لال بہادر شاستری کی شراکت انفرادیت کی حامل تھی کہ وہ عام ہندوستانیوں کی زندگی کے قریب تر تھے۔ ان کی بے مثال سادگی و انکساری کی وجہ سے ہندوستانی عوام انھیں اپنے ہی جیسا سمجھتے تھے۔یہ باتیں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر شیخ عقیل احمد نے سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کو ان کے یوم پیدایش پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہیں۔انھوں نے کہا کہ لال بہادر شاستری کا یہ ماننا تھا کہ ایک مضبوط اور طاقتور قوم کی تشکیل کے لئے خود کفیل ہونا لازم ہے اور اسی وجہ سے انھوں نے جدید ہندوستانی معیشت کے استحکام پر خاص توجہ دی۔ شاستری جی نے اہم اقتصادی پالیسیاں تیار کیں جن سے ہندوستان کے معاشی حالات کو بہتر بنانے میں خاصی مدد ملی۔ڈاکٹر عقیل نے کہا کہ لال بہادر شاستری کا نعرہ ‘جے جوان، جے کسان’ آج بھی ملک کے طُول و عرض میں مقبول ہے، جس کی بنیادی روح اپنے وطن اور قوم کی تعمیر و ترقی کے جذبے سے عبارت ہے۔ انھوں نے ایک طرف جہاں ہندوستانی فوج کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے نتیجے میں 1965کی جنگ میں ہندوستان نے کامیابی حاصل کی وہیں ملک کو غذائی اجناس فراہم کرنے والے کسانوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی ہمت بڑھائی، چنانچہ دیش بھر میں سبز انقلاب برپا ہوگیا اور غذائی اَجناس کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ شیخ عقیل نے کہا کہ مودی جی کی حکومت بھی انہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دونوں محاذوں پر قابلِ قدر کام کررہی ہے اور جہاں اِس حکومت میں ہندوستانی فوج کے وقار میں اضافہ ہوا ہے وہیں کسانوں کی ترقی و خوشحالی کے لیے بھی اس حکومت نے اہم اقدامات کیے ہیں۔حال ہی میں حکومت نے زرعی اصلاحات سے متعلق جو بل منظور کیے ہیں ان سے کسانوں کو غیر معمولی فائدہ ہوگااور نہ صرف زرعی شعبے میں ایک انقلاب آئے گا، بلکہ اس سے کروڑوں کسانوں کو بااختیاربھی بنایا جاسکے گا۔