ترقی پسند تحریک اور جدید فارسی شاعری کے رجحانات-پروفیسر صالحہ رشید

صدر شعبہ عربی و فارسی
الہ آباد یونیورسٹی

ترقی پسند تحریک کے ساتھ فارسی زبان وادب کا انسلاک ایک فطری عمل ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ہندوستان فارسی زبان کا وطن ثانی کہا جاتا تھامگر۱۸۵۷ءکے سانحہ فاجعہ اور مغل سلطنت کے سقوط کے ساتھ فارسی زبان بھی زوال پذیر ہو گئی۔ انگریزوں نے انیسویں صدی کے وسط میں فارسی کی جگہ اردو کو دفتری زبان کی حیثیت سے نافذ کر دیا۔اس طرح فارسی جیسی شیریں زبان، جس سے واقفیت کبھی تہذیب و شائستگی کا لازمہ سمجھی جاتی تھی ، یکسر بیگانگی کا شکار ہو گئی۔ اردو کو سنبھلنے اور پنپنے میں تھوڑا سا وقت لگا۔۱۹۳۵ءیعنی ترقی پسند تحریک کی ابتداتک اس زبا ن میں کافی وسعت اور تنوع پیدا ہو چکاتھا۔یہ کلاسیکی شعر کی دنیا سے نکل کر نظم ، افسانہ ، ناول ، سوانح ، تاریخ ، تذکرہ اور تنقید جیسی اصناف سے مالامال ہو چکی تھی۔اس حقیقت سے سب ہی واقف ہیں کہ بیسویں صدی کا آغاز عام سیاسی ہلچل اور عوام کی بیداری سے ہواجس کے محرکات سماجی اورمعاشی نابرابری میں مضمر تھے۔اس کا اثر صرف قومی سطح پر نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر دیکھنے کو ملاجس کے نتیجے میں ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کی نمود ہوئی اور ادبی محاذ پر انجمن ترقی پسند مصنفین وجود میں آئی۔اس انجمن کا کام ترقی پسند ادب کی تخلیق اور ترویج تھا۔لہٰذااس نے سیاست سے ہمیشہ دوری بنائے رکھی۔
ترقی پسند تحریک ان مقاصد کو لے کر آگے بڑھ رہی تھی : فن اور ادب کو رجعت پرستوں کے چنگل سے نجات دلانااور فنون لطیفہ کو عوام کے قریب لانا، ادب میں بھوک ، افلاس ، غربت، سماجی پستی اور سیاسی غلامی سے بحث کرنا، واقعیت اور حقیقت نگاری پر زور دینا۔بے مقصد روحانیت اور بے روح تصوف پرستی سے پرہیز کرنا، ایسی ادبی تنقید کو رواج دینا جو ترقی پسند اور سائینٹیفک رجحانات کو فروغ دے، ماضی کی اقدار کا از سر نو جائزہ لے کر صرف ان اقدار اور روایتوں کو اپنانا جو صحت مند ہوں اور زندگی کی تعمیر میں کام آ سکتی ہوں، بیمار فرسودہ روایات جو سماج و ادب کی ترقی میں رکاوٹ ہیں ان کو ترک کر دینا وغیرہ۔اس تحریک نے اس بات پر زور دیا کہ لوگ اجتماعی طور پر ادبی مسائل پر گفتگو کریں ۔فرد اور جماعت کی ضرورت کو سمجھیں اورسماجی کیفیت کا تجزیہ کریں ۔ترقی پسند تحریک کے وجود میں آنے کے اسباب پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جڑیں تو گذشتہ کئی صدیوں کی تاریخ کو خود میں سمیٹے ہوئے ہیں کیونکہ کوئی بھی تحریک یا انقلاب ایک دن میں برپا نہیں ہوتا۔ترقی پسند تحریک کا نام آتے ہی انقلاب روس کا ذکر ہونا لازمی ہے۔انقلاب روس نہ صرف ہندوستان کے لئے بلکہ ایران کے سیاسی و سماجی تغیرات اور فارسی زبان و ادب پر اس کے اثرات کا مطالعہ کرنے کی پہلی کڑی ہے۔جو ہمیں جدید فارسی ادب کے مطالعے کی آگے کی راہ دکھاتی ہے ساتھ ہی دو صدی قبل ایران کی سیاسی اور سماجی حالت پر غور کرنے پر مجبور کر دیتی ہے ،جس کے تار ہندوستان کی سیاست سے آکر ملتے ہیں۔
در اصل روسیوں کی پیش قدمی شمالی ایران میں ہمیشہ سے جاری رہی۔روس نے گرجستان اور قفقاز پر قبضہ کیا تو ایران اور روس کے درمیان ۱۸۰۴ءمیں پہلی جنگ ہوئی۔اس سلسلے میںشاہ قاجار نے نیپولین سے مدد مانگی ۔فرانس جو ایران کے راستے ہندوستان پر قابض ہونا چاہتا تھا، اس نے ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا مگر جلد ہی ایران کو دھوکا دے کر اس نے روس سے دوستی کر لی۔اسی اثناء انگریزی حکومت نے ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کی رو سے انگلینڈ ایران کاروسیوں سے دفاع کرتا اور ہندوستان میں انگریزی متملکات کی حفاظت ۔مگر انگریزوں نے بھی ایران کو دھوکہ دیا اور اب قفقاز گرجستان ہی نہیں بلکہ آٹھ دوسری ریاستیں بھی ایران کے قبضے سے نکل گئیں۔پندرہ سال بعد روس نے پھر ایران پر حملہ کیا اور نخچوان اور ایروان اس کے ہاتھ سے جاتے رہے۔کچھ عرصے بعد افغانستان بھی چلا گیا۔اس طرح ایران مستقل نقصان اٹھاتا رہا ۔اس دوران مستقل خارجی فوجیوں کے تعلق میں آنے سے غیر شعوری طور پر ایران میں مغربی تمدن کی اشاعت کے لئے راہ ہموار ہو گئی۔یوروپی ممالک کی سیاست جس کی بنیاد اقتصادی منافع پر تھی اس نے ایران کو بہت متأثر کیا۔اس بہانے ایرانی فوج کی اصلاح ہوئی اور یوروپین ممالک سے ایران کے تعلقات بڑھے۔ایک طرف جہاں طلباء انگلینڈ تعلیم کی غرض سے گئے تو دوسری طرف روس سے انھوں نے صنعت و حرفت کی تربیت لی۔اب ایران میں اسلحوں کے کارخانے، کپڑے کی ملیں اور پرنٹنگ پریس قائم ہو گئے۔جس کی بدولت کتابیں اور اخبار چھپنے لگے۔یہاں ایک نکتہ اور قابل غور ہے کہ مشروطیت سے قبل ایران ایک زرعی ملک تھا۔دیہاتوں میں اونچ نیچ کی لکیر بہت لمبی کھنچی ہوئی تھی۔مذہبی علماء جو خود بڑے زمیندار تھے ، عام لوگوں کی زندگی میں دخل اندازی کرتے تھے اور ظلم ڈھاتے تھے۔امیروں کے ظلم سے تنگ آکر لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔جب امیروں اور روحانی پیشوائوں کے مظالم کی انتہا ہو گئی تو عوام نے اپنی جان کی بازی لگا کر آزادی کا نعرہ بلند کر دیا۔بڑی خونریزی کے بعد ایران میں ۱۹۰۶ء میں مشروطیت قائم ہوئی۔ ۱۹۱۲ءمیں ایران کے حالات ایک بار پھر بدتر ہوئے ارور روسیوں نے شمالی ایران اور انگریزوں نے جنوبی ایران پر قبضہ کر لیا۔۱۹۱۹ءمیں ایران کا انگریزوں کے ساتھ ایک اور معاہدہ ہوا جس کی رو سے مالی، فوجی، اور محاصلی چنگی کے تمام امور کے مالک انگریز ہو گئے۔عوام نے اس معاہدے کی پر زور مخالفت کی۔ دوسری جنگ عظیم میں ایران نے مصلحتاً جرمنی کا ساتھ دیا۔روس اور انگلینڈ کو ایرا ن کا یہ فیصلہ ناگوار گذرا اور ایک بار پھر ان دونوں نے ایران پر اپنی فوجیں اتار دیں۔اس وقت ایران سیاسی بدحالی اور معاشی بحران کا شکار ہو گیا۔غلہ کی کمی اور گرانی کے ساتھ وہاں وبا بھی پھیل گئی۔
۱۹۲۵ءمیں رضا شاہ پہلوی نے ایران کی باگ ڈور سنبھالی ۔اس نے رعایا کی بہبود کے لئے قابل قدر اقدام کئے۔شاہ نے انقلاب سفید کے نام سے ایک پروگرام ترتیب دیا۔اس کے تحت وہ گائوں جو شاہی املاک میں شمار ہوتے تھے وہ کسانوں میں تقسیم کر دئے گئے تاکہ کسان ان میں کاشت کر کے ملک کی معیشت میں اضافہ کریں۔اس نے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کیااور ملک کے تمام جنگلات کو قومی سرمایہ میں تبدیل کر دیا۔اسکول کھولے ،ہر بالغ کے لئے دو سال کی فوجی تربیت لازمی قرار دی۔صحت و صفائی کے محکمے قائم کئے۔خواتین کو حق رائے دہی عطا کیا،ایک طرف یونیورسٹی تک تعلیم مفت کر دی گئی تو دوسری طرف طلبا کو امریکہ اور یوروپ بھیجا گیا۔غیر ممالک کو ایران میں سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی ۔بینک کھلے۔مشینی اور الکٹرانک ترقی ہوئی۔ساتھ ہی موساد اور اسرائیل کی مدد سے ساواک دستہ قائم کیا گیا۔یہ دستہ سیاسی قیدیوں کو جسمانی اور روحانی اذیت دینے میں بڑی مہارت رکھتا تھا۔ان سب کے ساتھ مغربی تمدن کی خرابیاں بھی ایران میں در آئیں۔شراب و شباب ، رقص و سرود ، عریانیت اور لا دینیت کا بول بالا ہو گیا۔دراصل جدید فارسی ادب ان عیوب و نقائص کے خلاف صدائے احتجاج ہے۔اس نے حکومت کے فرسودہ اور ہلاکت خیز نظام کی مزاحمت کی۔یہ قدم نئی تعلیم و تمدن اور دل و دماغ کی بیداری کے لئے جہاد ہے۔ان ادیبوں اور شاعروں نے نئے مسائل کے پیش نظر نئے نئے موضوعات تلاشے ۔اب اشتراکی خیالات کی آواز اٹھنے لگی۔عام لوگ سیاست پر بھی اظہار رائے کرنے لگے۔ادب میں خواتین کا حصہ بھی شامل کیا گیا۔دراصل مشروطیت (۱۹۰۶ء)کے قیام کے بعد سے ہی ادباء اور شعراء نے ایرانی سماج کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ادب میں عوام کی زندگی کے مسائل جگہ پانے لگے۔اس کے ساتھ ہی جمہوریت ، سوشیلزم، کاشت وغیرہ موضوع ادب بنے۔
اس دور کی فارسی شاعری پر نگا ہ ڈالیں تو وہ تین حصوں میں منقسم نظر آتی ہے ۔پہلا حصہ ان شاعروں پر مشتمل ہے جنھوں نے کلاسیکی روایت برقرار رکھی اور قصیدہ غزل رباعی مثنوی وغیرہ اصناف میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ان میں بہار مشہدی ، ادیب الممالک، وحید دستگردی وغیرہ کے نام اہم ہیں۔دوسرے گروہ میں وہ شعرا ہیں جنھوں نے مغربی ادب سے متأثر ہو کر ہیئت اور معنی دونوں میں تجربہ کیا۔ان میں عارف قزوینی، فروغی، پروین اعتصامی، ایرج میرزا، دہخدا وغیرہ شامل ہیں۔ تیسرے وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہیئت تو پرانی ہی رکھی لیکن معنی کے لحاظ سے شعر میںنئے افکار پروئے ان میںبہار ، سعید نفیسی ، رشید یاسمی وغیرہ آتے ہیں۔ ان شعرا نے نہ فقط وطنی شاعری کی بلکہ تاریخی، توصیفی، اخلاقی، تنقیدی، تربیتی، سماجی ، کسان، نسائیات، اور سرمایہ دارانہ نطام وغیرہ کے مسائل پر بھی شعر کہے۔اسی زمانے میںمغربی ادبیات کے فارسی ترجمے ہوئے۔فارسی شعر و ادب کی ہیئت میں حیرت انگیز تبدیلی واقع ہوئی۔ نئی ترکیبوں کو جگہ ملی۔ بحر اور وزن سے انحراف ہوا۔جس کے رد عمل میںکلاسیکی شاعری کے پیرو کاروں نے جدید رجحان کی کھل کر مذمت کی۔جواباًنئی روش کے حامیوںنے بھی پر زور آواز میں کہا کہ اب مدحیہ قصائد کا وقت نہیں رہا اورردیف قافیوں کی بندش میں جکڑے رہنا ممکن نہیں۔ ان کی وجہ سے نئے خیالات ادا کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔غرض کہ کلاسیکی اور جدید دونوں رجحانوںمیں خوب چشمک رہی جو آج بھی جاری ہے۔ ان دنوں شعراء نئے خیالات کو پیش کرنے کے خواہاں تو تھے مگر مشرقیت کا دامن چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔وہ اپنی شاعری میں اپنے کرب دروں کو بیان کرنے کے لئے مخصوص لفظیات کا استعمال کرتے تھے مثلاً ہراس، اندوہ، مرگ، بیگانہ، ناشناس، ناپائیدار، وغیرہ۔ اسلوب اور ہیئت میں جدت طرازی کے ساتھ ساتھ جدید شعرا نے فارسی زبان کو عربی زبان سے پاک کرنے کی بھی حتی الامکان سعی کی جو ان کے قومی تعصب پر مبنی تھی۔ اس دور میں فکاہیہ نظمیں زیادہ لکھی گئیں کیونکہ وہ عوام کو پسند آتی تھیں۔ترانوں کا بھی رواج ہوا جو فارسی شاعری میں نیا تجربہ تھا۔ کلام میں موسیقیت بھی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔اسی زمانے میں فروغ فرخزاد شاعری کی بساط پر نظر آئیں جنھوں نے خالص عشقیہ جذبات کو شعر کا جامہ پہنایا اور ادبی حلقہ کو مبہوت کر دیا۔ان کا بیباکانہ اور بے حجابانہ شعر کہنا تہذیب و اخلاق کے علم برداروں کو برداشت نہ ہوا۔انھوں نے فروغ پر لعن طعن کی۔فروغ نے بھی بڑی بہادری سے اس لعن طعن کا جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ مرد اس قسم کی شاعری کرے تو اس پر اعتراض نہیں بلکہ وہ اس کا ہنر ہے اور عورت اپنی روح کا عکس پیش کرے تو اس پر تماشہ کھڑا ہو جاتا ہے۔انھوں نے خود کو ان سماجی زنجیروں سے آزاد کر لیا اور اپنی نظم ’رمیدہ‘ میں اپنے دل کو سمجھاتے ہوئے ان بیگانوں کی دلسوزی سے خود کو لاتعلق کرتی ہوئی یوں گویا ہیں :
گریزانم ازین مردم کہ با من/بظاہر ہمدم و یکرنگ ہستند/ولی در باطن از فرط حقارت/بدامانم دو صد پیرایہ بستند
ازین مردم کہ تا شعرم شنیدند/برویم چو گلی خوشبو نہ گفتند/ولی آندم کہ در خلوت نشستند /مرا دیوانہ ای بدنام گفتند
دل من ، ای دل دیوانۂ من /کہ میسوزی ازین بیگانگی ھا/مکن دیگر ز دست غیر ، فریاد /خدارا، بس کن این دیوانگی ھا
جدید فارسی شاعری کو انقلابی قدروں سے رو شناس کرا نے والا شاعر نیما یوشیج ہے۔اس نے ہیئت اور اسلوب دونوں کی تجدیدپر سب سے زیادہ کام کیا۔اسے بھی شکایت ہے کہ اس کے خیالات کو صاحب فہم اور صاحب معرفت حضرات نے لائق اعتنا نہیں سمجھا :
عشق بامن گفت : از جا خیز، ھان
خلق را از درد بختی رھان
خواستم تا رہ نمایم خلق را
تازہ ناکامی رھانم خلق را
می نمودم راہ شان رفتار شان
منع می کردم من از پیکار شان
خلق صاحب فہم ، صاحب معرفت
عاقبت نشنید پندم عاقبت
جملہ می گفتند او دیوانہ است
گاہ گفتند او پی فسانہ است
ایرج میرزا کا تعلق حالانکہ شاہی خاندان سے تھے مگر وہ نا اہل حکمرانوں کی مذمت کرتے تھے۔اس نے ریاکار زاہدوں اور درویشوں کو بھی ہجو کا نشانہ بنایا ۔اس کے شعر اکبر الہ آبادی کی یاد دلاتے ہیں:
فکر شاہ فطنی باید کرد
شاہ ما گندہ گول و خر ف است
تخت و تاج ہمہ را ول کردہ
در ھتل ھای اروپ معتکف است
ایرج نے اپنے ملک کی خواتین کو حجاب سے نکل کر تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کی۔وہ مرد حضرات کو خواتین کی ناخواندگی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہتا ہے:
خدایا تا بکی این مردمان می خوابند
زنان تا کی گرفتار حجابند
یہاں بہارؔ مشہدی کی ایک نظم ’جغد جنگ ‘ کا ذکر کرنا ضروری ہے جس میں اس نے سامراجی طاقتوں کی مذمت کرتے ہوئے جنگ کی تباہی کا دلخراش نقشہ کھینچا ہے:
شد آدمی بسان مرغ باب زن
فرسپ خانہ گشت گرد نای او
بود یقین کہ زی خراب رہ برد
کسی کہ شد غراب رہنمای او
بخاک مشرق از چہ رو زنندرہ
جہان خواران غرب و اولیای او
لقای او پلید چون عطای وی
عطای وی کریہہ چون لقای او
اسی دوران ایران میں قومی بیداری کے ساتھ عظمت ماضی کا ادراک بھی جاگ اٹھا۔لوگ اپنی تاریخ اور اکابر کے کارناموں پر ناز کرنے لگے ۔لوگوں کے اس رجحان میں قوم پرستی اور وطن دوستی کا ایک کم مایہ جذبہ کار فرما تھا۔ان حالات میںعارف ؔ قزوینی نے ملی ترانے لکھے اور نوجوانوں کوملک و ملت پر قربان ہونے کے لئے للکار:
از خون جوانانِ وطن لالہ دمیدہ
از ماتم سرو قدشان سرو خمیدہ
عارف ؔغیر ممالک پر اپنے ملک کے حکمرانوں کے بار بار تکیہ کرنے سے عاجز تھا کیونکہ وہ روس انگلستان اور فرانس کی بے وفائیوں سے واقف تھا ۔یہ طاقتیں ایران کا صدیوں سے استحصال کر رہی تھیں۔وہ اس کی جغرافیائی حد ود کو اپنے اپنے مفاد میں استعمال کر رہی تھیں۔ایک ہی شعر میں وہ اتنے بڑے مسئلے کو یوں پیش کردیتاہے :
چند ز پلتیک اجانب بخوابید
تا بکی از دست عدو در عذابید
اسی طرح فرخیؔ کسانوں اور مزدوروںکے حقوق کی طرفداری کرتے ہوئے لکھتا ہے:
آزادی ایران کہ درختیست کہن سال
ما شاخۂ نو رستۂ آن کہنہ درختیم
در صلح و صفا گرم تر از موم ملایم
با جنگ و جفا سرد تر ازآھن سختیم
اس نے ملک و قوم کی آزادی اور انقلاب کا تصو ر اس طرح پیش کیا:
آزادی اگر می طلبی غرقہ بخون باش
کاین گلبن نو خاستہ بی خارو خسی نیست
در کف مردانگی شمشیر می باید گرفت
حق خود را از دہان شیر می باید گرفت
فرخی ؔکا ہی ایک امید بھر اشعر اس کی نظم ’نالہ ہا ‘سے پیش ہے:
بہ زندان قفس مرغ دلم چون شاد می گردد
مگر روزی کہ ازاین بند غم آزاد می گردد
دلم از این خرابیہا بود خوش زان کہ می دانم
خرابی چون ا ز حد بگزرد آباد می گردد
ز بیداد فزوں ، آھنگری گمنام و زحمت کش
علم دار و علم چون کاوۂ حداد می گردد
بہ ویرانی این اوضاع ھستم مطمئن ز آن رو
کہ بنیان جفا و جور بی بنیاد می گردد
نادر ؔنادر پور جذبات و احساسات سے پر شعر کہتاہے۔اس کی شاعری نیما یوشیج کے شعر نو اور اعتدال پسندوں کے بیچ کی کڑی ہے۔اس کی نظم شعر انگور سے ایک نمونہ پیش ہے:
چہ می گوئید؟
کجا شہد است این آبی کہ در ہر دانۂ شیرین انگور است؟
کجا شہد است ؟این اشک است ،
اشک باغبان پیر رنجور است
کجا شبہا راہ پیمودہ، ہمہ شب تا سحر بیدار بودہ
تاکہا را آب دادہ
پشت را چون چفتہ ھای مو،دو تا کردہ
دل ہر دانہ را از اشک چشمان نور بخشیدہ
تن ہر خوشہ را با خون دل شاداب پروردہ
مرا ہر لفظ فریادی است کہ از دل کشم بیرون
مرا ہر شعر دریائی است
دریائی است لبریز از شراب خون
کجا شہد است این اشکی کہ در ہر دانہ لفظ است؟
کجا شہد است این خونی کہ در ہر خوشۂ شعر است؟
الغرض ترقی پسند تحریک سے وابستہ شعرا کے ہاں جس طرح مزاحمت کی آواز بہت مضبوط ہے اسی طرح جدید فارسی شاعری بھی با آواز بلند اپنی اور اپنے گرد و پیش کی داستان غم سنا رہی ہے۔ احتجاجی لہجہ اس کا بھی تلخ ہے شعری صنف خواہ کوئی بھی ہو۔وہاں بھی اقبال کی پیامی شاعری کی جھلک مل جائے گی۔ شعرا خوابیدہ قوم کوبیدار کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ اقتدار ، آئین سیاست اور سماج سے سوال کرنے والے ساحر ؔ کے دکھیاروں کی کٹیا :
جشن بپا ہے کٹیائوں میں اونچے ایواں کانپ رہے ہیں
مزدوروں کے بگڑے تیور دیکھ کے سلطان کانپ رہے ہیں
یا زنجیر پہن کر رقص کرنے والے عوامی آہنگ کے شاعر جمیل جالبی کا دستور :
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا ، میں نہیں جانتا
یا احمد فراز کی نظم محاصرہ کا اک نیا سورج :
اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے
یا اپنے ترقی پسند نظریات کو بڑی ہی ملائمیت اور نرمی سے پیش کرنے والے فیض احمد فیض ؔ کا لازم ہے کہ ہم دیکھیں گے یا علی سردار جعفری کے امید جگاتے شعر:
متحد ہو کر اٹھو جس طرح دریا میں ابال
متحد ہو کر بڑھو جیسے صحرا میں غزال
متحد ہو کر اڑو جس طرح شاعر کا خیال
متحد ہو کر چلومانند باد برشگال
پھر بہار آجائے شاخ آرزو پھلنے لگے
کھیتیاں شاداب ہو جائیں ہوا چلنے لگے
یہ تمام مظاہر بعینہ جدید فارسی شاعری میں موجود ہیںجن کے چند نمونے پیش کئے گئے ۔یہاں ایک نکتہ حیران کن ہے کہ ایران و ہندوستان آج تاریخ جغرافیہ تہذیب و تمدن ہر اعتبار سے دو الگ ملک ہیں۔دونوں کی زبانیں الگ ہیںمگر جب عوام کے دکھ درد کے اظہار کا موقعہ آتا ہے تو دونوں ملک کے شعرا ہم خیال و ہم بیان نظر آتے ہیں ۔گویا حد بندیوں کا تعلق حکمرانوں ، اہل ثروت اور سکھ چین سے زندگی گذارنے والے مخصوص طبقہ سے ہے مگر جب بات مظلوم دکھیارے عوام کی ہوتو پوری دنیا کا دکھ سانجھا ہوتاہے ۔اس سے ترقی پسند تحریک کی وسعت اور معنویت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔