جدید عربی سکھانے والی ایک بہترین کتاب – اظہارالحق قاسمی بستوی

استاذ: مدرسہ عربیہ قرآنیہ اٹاوہ

عربی ایک ایسی عالمی زبان ہے جو دنیاکے بے شمار ملکوں میں لکھی ، پڑھی اور بولی جاتی ہے۔ یہ زبان گوکہ شریعتِ اسلامی کا مدار ہے؛ کیوں کہ قرآن مجید عربی میں ہے اور ہمارے رسول ﷺ کے ارشادات وفرمودات عربی میں ہیں؛ لیکن اس کی حیثیت موجودہ زمانے میں معیشت وتجارت اور نقل وحمل کی زبان ہونے کے وجہ سے مادی دنیا میں بھی نہایت بلندہوئی ہے۔
اس کی جتنی اہمیت دینی اور مذہبی ہے اتنی ہی کثیرالجہات ہونے کے اعتبارسے معاشی اور مادی بھی ہے؛چناں چہ آج معاشی ضروریات کی تکمیل کے حوالے سے عربی زبان جاننے والوں کو خود ہمارے ملک ہندوستان میں بھی بڑااعتبار حاصل ہے اور اس کے ماہرین مادی اعتبار سے بھی اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔
عربی زبان چونکہ موجودہ زمانے میں صحافت ، تعلیم، مواصلات، مراسلات اور معیشت کا نہایت اہم ذریعہ ہے،اس لئے اس کے الفاظ وتعبیرات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے، بے شمار نئے الفاظ شامل ہوئے، بعض قدیم الفاظ کے معانی میں وسعت، تو بعض کے معانی میں نیاپن آیا ہے۔ جدید الفاظ آج کل کی صحافت، علمی مقالات اور مراسلات میں بہ کثرت مستعمل ہیں،یہاں تک کہ معاصِر عرب محدثین ، حدیث کے شارحین اورفقہائے کرام کی تحریریں بھی اسی اسلوب و زبان میں ہوتی ہیں۔
نتیجتاً ایشیائی مدارس کے بے شمار فضلا وطلبہ کے لئے موجودہ زمانے کی عربی تحریریں پڑھنا اور سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے، جب کہ بسا اوقات علمی استفادہ اور دیگر دینی یا ذاتی ضرورت کے تحت معاصرعرب علما کی کتابوں ، مقالات اور عربی خبریں پڑھنا ان کے لئے نا گزیر ہوتا ہے۔
اِسی طرح جو حضرات عربی زبان میں ترجمہ یا عربوں کے درمیان تدریس ودعوت کا کام کرنا چاہتے ہیں،یا خلیجی ممالک کے دینی اداروں یاحکومتی دفاتر میں ملازمت کے خواہاں ہیں نیزجو لوگ عرب ملکوں کے احوال سے براہ راست واقف ہونا چاہتے ہیں، ان تمام لوگوں کو جدید عربی زبان سے واقف ہونا از بس ضروری ہے۔ان کے علاوہ یونیورسٹیوں کے شعبۂ عربی کے طلبہ کو بھی اس معاصر عربی زبان کی ضرورت ہوتی ہے؛بلکہ ان کا تو موضوع ہی معاصر عربی زبان ہوتی ہے۔
مذکورہ بالا ضرورتوں کی تکمیل کے لئے ایک ایسی کتاب کی ضرورت تھی جوصحافت، سیاست، مواصلات، مراسلات، بینک، حکومتی دفاتر اور خطوط وغیرہ میں استعمال ہونے والی فصیح عربی زبان سکھانے میں معاون ہو۔ اِسی ضرورت کی تکمیل کے تحت یہ کتاب "دروس في العربیۃ المعاصرۃ” تالیف کی گئی ہے۔
کتاب کے مصنف دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور وہیں پر اسسٹنٹ مفتی کے عہدے پرفائز مفتی اسداللہ قاسمی صاحب ہیں۔ مولانا موصوف کا علمی مقام ان کی کم عمری کے باوجود اصاغر واکابرکی نگاہ میں بہت معتبر ہے۔
کتاب میں، رائج فصیح عربی مفردات، مرکباتِ اضافی اورمرکباتِ توصیفی وغیرہ کی جدید تراکیب کی تدریبات عربی اور اردودونوں زبانوں میں دی گئی ہیں، بعد ازاں جملہ سازی کی مشق کرائی گئی ہے،اخیر میں ترجمہ نگاری کے ضروری اصول وضوابط ذکر کرنے کے بعد، اخبارات اور علمی مقالات کے آسان اقتباسات تمرینات کی شکل میں حل کرائے گیے ہیں۔ یہ کتاب عمدہ ٹائٹل، ستھرے کاغذ کے ساتھ، 206/ صفحات پرمشتمل ہے۔
کتاب اس لائق ہے کہ درجہ عربی سوم و چہارم نیز عربی ادب کے درجات میں باقاعدہ داخل نصاب کی جائے۔ اسی طرح علما کو انگریزی سکھانے والے ادارے عربی ترجمے کے لیے اس کتاب کو اپنے نصاب میں جگہ دے سکتے ہیں۔
کتاب میں مسرد کے علاوہ چھ ابواب ہیں، جن کی مختصر تفصیل یوں ہے:

پہلا باب :مفردات کی تمرینات پر مشتمل ہے۔اس باب کے شروع میں زبان سیکھنے والے کے حق میں مفردات کی اہمیت ، ان کے فوائد، انھیں یاد کرنے کا طریقہ اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔اس کے بعدصحافت اور علمی مقالات وغیرہ میں رائج مختلف الانواع مفردات بہ شکل تمرین دیے گئے ہیں،بایں طور کہ ایک تمرین عربی سے اردو ، دوسری اردو سے عربی ہے ۔
دوسرا باب: مرکب اضافی کی تمرینات پر مشتمل ہے۔اس باب میں اولا مرکبِ اضافی کی جدید وقدیم مختلف قسموں کااجمالی تعارف کرایا گیا ہے، بعدہ مرکب اضافی کی مختلف قسموں( بالخصوص بعض وہ قسمیں جو معاصر زبان میں رائج ہیں؛ لیکن قدیم کتابوں میں یا تو وہ بالکل نہیں ہیں یا پھر بہت کم ہیں) پر مشتمل تمرینیں ہیں۔
تیسرا باب: مرکب توصیفی کی تمرینات پر مشتمل ہے۔ اس باب میں بھی اولا مرکب توصیفی کی دونوں قسموں کا تعارف کراتے ہوئے جن چیزوں میں صفت موصوف کا اتحاد ضروری ہوتا ہے انھیں مختصرا بیان کیا گیا ہے، بعدہ مرکب توصیفی کی جدید وقدیم تراکیب پر مشتمل تمرینیں دی گئی ہیں۔
چوتھا باب: جملہ سازی کی تمرینات پر مشتمل ہے۔ اس باب میں بھی اولا جملے کی مختلف قسموں کا اجمالی تعارف کرایا گیا ہے پھرجملہ اسمیہ اورفعلیہ کی مشقیں دی گئی ہیں، تمرینات میں بالخصوص صحافت اور علمی مقالات میں استعمال ہونے والے الفاظ وترکیبات کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
پانچواں باب:اس میں عربی واردو کے معروف اخبارات کے اقتباسات حل کرانے کی کوشش کی گئی ہے . اس میں اولا عربی اقتباسات دئے گئے ہیں، اس کے بعد انھیں اقتباسات سے منتخب کلمات نیچے دے کر انھیں اپنے جملوں میں استعمال کے لئے طلبہ کو پابند بنایا گیاہے، پھر عربی سے ملتے جلتے اردو اقتباسات دے کر انھیں عربی میں منتقل کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔
چھٹابا ب : ترجمہ نگاری کے سلسلے میں ہے۔اس باب میں اولا ترجمہ نگاری کے کچھ بنیادی اصول ذکر کئے گئے ہیں، اس کے بعد معروف عربی اخبارات اورعرب ادبا کی تحریروں کے تراشے دیے گئے ہیں۔
اخیر کتاب میں ایک وسیع’’ مسرد‘‘ ہے، اس میں پوری کتاب میں آئے ہوئے اردو اور عربی کے مشکل الفاظ کے معانی دیے گئے ہیں ،جو الفاظ واحدہیں ان کی جمع اور جو الفاظ جمع ہیں ان کے واحد دینے کا بالعموم التزام کیا گیا۔
کتاب موجودہ تقاضوں کے عین مطابق ہےنیزاس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مبتدی تامنتہی سب کے لیے یکساں مفید ہے۔ کتاب کی عمدگی وافادیت کی وجہ سےمفتی ساجدصاحب ،حضرت مولاناواضح رشیدندوی رحمہ اللہ اور ڈاکٹرفیضان بک علی گڑھ جیسے بڑے بڑے اصحاب قلم نے مصنف کے اس کارنامے کو جی بھر کے سراہاہے۔ امیدکہ کتاب قارئین کو پسند آئے گی اور اس کی منفعت عام ہوگی۔
کتاب کا پہلا ایڈیشن نہایت مختصر مدت میں ختم ہوگیا تھا اور اب دوسرا ایڈیشن مارکیٹ میں چل رہا ہے۔ یہ کتاب ابھی صرف عربی۔اردو میں موجود ہے لیکن عنقریب یہ عربی۔انگریزی میں بھی موجود ہوگی۔ ان شاءاللہ
کتاب دیوبند کے کتب خانوں، بطور خاص مکتبہ دارالعلم سے صرف 70 روپے میں حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسے حاصل کرنے کے لیے مصنف سے بھی اس نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں:9997171944

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*