جادھو پور یونیورسٹی میں گورنر کو طلبہ نے گھیرا، لگائے ’’بی جے پی کارکن واپس جاؤ‘‘کے نعرے

جادھوپور:مغربی بنگال کے گورنر جگدیپ دھنکھڑ پیر کو جادھو پور یونیورسٹی پہنچے۔اس دوران طلبہ نے گورنر دھنکھڑ کو گھیر لیا اور سیاہ جھنڈے دکھائے۔طلبہ نے نعرہ لگایا کہ بی جے پی کارکن جگدیپ دھنکھڑواپس جائو۔طالب علموں کے اس احتجاج کے دوران گورنر دھنکھڑ اپنی گاڑی میں کچھ دیر پھنسے رہ گئے۔گورنر دھنکھڑ جادھو پور یونیورسٹی میں چانسلر کے طور پر اجلاس میں حصہ لینے گئے تھے لیکن طالب علموں نے اس کا بائیکاٹ کیا۔طالب علموں نے اچانک گورنر کی کار گھیر لی اور نعرے بازی شروع کر دی۔اس دوران گورنر تقریبا 45 منٹ اپنی گاڑی میں ہی بند رہے،بعد میں سیکورٹی گارڈ انہیں نکال کر باہر لے گئے۔دھنکھڑ نے ایک ٹویٹ میں لکھا تھاکہ پیر کو جادھو پور یونیورسٹی کے 9 ویں کورٹ کا 10 واں اجلاس ہونا ہے،میں چانسلر کے طور پر اس کی صدارت کروں گا،23 دسمبر دن پیر کو 2 بجے دن میں یونیورسٹی کے کمیٹی روم نمبر 1 میں ملاقات کریں گے،پیر کو اپنے سابق ملازم پروگرام کے مطابق گورنر یونیورسٹی پہنچے لیکن ان کے خلاف طلبہ نے احتجاج شروع کر دیا،اس لئے اجلاس میں اچھی خاصی دخل پڑ گئی۔ابھی حال ہی میں دھنکھڑ بنگال سیکرٹریٹ پہنچے تھے لیکن وہ اندر نہیں جا سکے کیونکہ مین گیٹ پر تالا لگایا تھا۔اسمبلی اسپیکر نے گورنر جگدیپ دھنکھڑ کو اسمبلی میں لنچ پر بلایا تھا لیکن عین وقت پر پروگرام ردکر دیا گیا۔اس کے ساتھ ہی دو دن کے لئے اسمبلی کو بند کر دیا گیا۔اس کے باوجود گورنر جگدیپ دھنکھڑ اسمبلی پہنچ گئے،مین گیٹ بند ہونے کی وجہ سے وہ گیٹ نمبر دو سے ایوان میں داخل ہوئے۔گورنر جگدیپ دھنکھڑ نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہیں جان بوجھ کر اسمبلی میں جانے نہیں دیا گیا،وہ اسمبلی عمارت کا چکر لگاتے رہے لیکن کسی نے انہیں یہ بتانے کی زحمت نہیں اٹھائی کہ وہ کس طرح اندر آ سکتے ہیں۔اس سے گورنر ناراض ہو گئے اور وہیں دروازے پر علامتی دھرنا دیتے رہے،اگرچہ بعد میں وہ دوسرے دروازے سے اندر گئے۔