جب حکومتیں مزدوروں کی مدد کر رہی ہیں توپیسے کون لے رہا ہے؟:پرشانت کشور

نئی دہلی:ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔لاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلے سے پہلے ہی مرکزی حکومت نے پھنسے ہوئے مزدوروں اور کارکنوں کو ان کی ریاست جانے کی منظوری دی تھی۔مرکز کی طرف سے ورکرز اسپیشل ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں۔کئی ریاستوں میں مزدوروں سے کرائے کے پیسے لیے جا رہے تھے۔جب معاملے نے طول پکڑلیاتو زیادہ تر ریاستوں نے کرایہ نہیں وصولنے کی بات کہی۔کانگریس پارٹی بھی مزدوروں کا کرایہ برداشت کرنے کے لئے تیار نظر آئی۔ پارٹی صدر سونیا گاندھی نے خود اس کا اعلان کیا تھا۔اب پرشانت کشور نے اس معاملے پر ایک سوال پوچھا ہے۔انہوں نے کہا جب ریلوے 85فیصد سبسڈی دے رہا ہے۔مرکز پیسے لے نہیں رہا اور ریاستیں تو کرایہ کے ساتھ کئی اور سہولیات دینے کا دعوی کر رہی ہیں۔اب تو دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن نے بھی سب کا کرایہ دینے کی بات کہی ہے۔اگر سب لوگ اتنا کچھ کر رہے ہیں تو مزدور اتنے بے بس کیوں ہیں اور ان سے یہ پیسے لے کون رہا ہے؟ غور طلب ہے کہ مزدوروں کے کرایہ کو لے کر سیاست بھی خوب ہو رہی ہے۔بہار کے وزیر سنجے کمار جھا نے دہلی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہاکہ میں نے دہلی حکومت کے وزیر کا ایک ٹویٹ دیکھا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ دہلی سے مظفر پور جانے والے 1200 مہاجر مزدوروں کا کرایہ دہلی حکومت نے برداشت کیا ہے۔میرے پاس دہلی حکومت کا ایک خط ہے جس میں بہار حکومت سے رقم کی تلافی کی کوشش کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ایک طرف آپ مزدوروں کو اپنے خرچ پر بھیجنے کا کریڈٹ لے رہے ہیں اور دوسری طرف آپ بہار حکومت سے پیسے واپس کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس کے جواب میں دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے کہاکہ مزدوروں سے پیسے لینا صحیح بات نہیں ہے۔وہ گزشتہ دو ماہ سے شیلٹر ہوم میں رہ رہے تھے۔ان کے پاس ٹکٹ خریدنے کے پیسے کہاں سے آئیں گے، تو دہلی حکومت نے ٹکٹ کا پیسہ دیا۔انہیں اس پر سیاست نہیں کرنی چاہئے۔