جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یادآیا ـ ابو حمدان فاخر ؔ

آج مظفر نگر شہر میں نعرہ تکبیر ”اللہ اکبر “کے جواب میں” ہر ہر مہادیو“ کے نعرے لگائے گئے، نعرہ لگانے والے کسان متحدہ مورچہ کے صدر اور ترجمان راکیش ٹکیت تھے ، جب کہ ’ہر ہر مہادیو‘ سے جواب دینے والے ان کے حامی ، کسان اور حکومت کے تین کالے زرعی قوانین کے مخالفین تھےـ یہ وہی سرزمین ہے، جہاں 2013 کے جولائی اور اگست کے دنوں میں تاریخ کا بدترین اور خونچکاں فرقہ وارانہ فساد برپا ہوا تھا، جس میں کئی چھوٹے چھوٹے گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے تھے، ان گاؤں کے جو لوگ جان بچاکر نکل سکے ، وہ کثیر مسلم اکثریتی قصبوں اور گاؤں میں خیمہ زن ہوئے ۔کئی ایسے قصبات اور گھنی آبادی والے گاؤ ں ہیں ، جہاں فساد متأثرین نے پناہ لی تھی۔آج تک ان کا کوئی پرسان حال نہ ہوسکا، سوائے جمعیت علماءہند ، چند رفاہی تنظیموں ،اور چند مخیرین حضرات کے، جنہوں نے حتی المقدور فساد متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کا کام کیا ۔ جب کہ مظفر نگر فساد کے جتنے بھی ملزمین تھے ، وہ بی جے پی کے حکومتی آشیرواد اوراہرمن اعظم کے”تصدق‘‘ سزاؤ ں سے بچ گئے اور ان پر لگے الزامات رفع کردیے گئے ۔ جنہیں اُکسایا گیا تھا، جن کے ہاتھوں میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے ترشول ،بھالے ، تلوار، بلم ّ، گولیاں ، کارتوس او ر دیگر آلاتِ قتل سونپے گئے تھے، وہ یہی لوگ ہیں ، جوآج ”ہر ہر مہادیو“ اور "اللہ اکبر ” کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ راکیش ٹکیت اپنی تقریر میں فرماتے ہیں :” یہ نعرے ہمیشہ لگتے رہیں گے ، کوئی دنگا یہاں پر نہیں ہوگا ، یہ (حکومت ) توڑنے کا کام کریں گے ، ہم جوڑنے کا کام کریں گے “۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ لوگ کون تھے، جنھوں نے کوال نامی قصبہ میں ہونے والی معمولی سی بات پر مظفر نگر میں مہاپنچایت بلاکر پورے ضلع کو فرقہ وارانہ آگ میں جھونک دیا تھا ؟جس کا اثر پورے مغربی یوپی میں دیکھاگیا۔اِسی جاٹ لینڈ(مظفر نگر ، میرٹھ،سہارنپور، بجنور) کے لوگ تھے ،جو بی جے پی کے طرف سے کئے گئے پروپیگنڈہ میں آکر ’ہندوراشٹر ‘ کے تحفظ کے لئے ’دھرم یدھ‘ کیا تھا۔ آخر وہ کون لوگ تھے، جنہوں نے شالیمار ایکسپریس سے دیوبند آرہے طلبا کے ساتھ بدسلوکی کی تھی، انہی غنڈوں کی بھیڑ نے مل مارا پیٹا تھا؛بلکہ ان کی لنچنگ کی گئی تھی ۔ جس سنپولے(بی جے پی) کو اس جاٹ لینڈ کے جاٹوں نے دودھ پلاکر جوان کیاتھا ، اُسی نے آج شہ رگ پر ڈنک مارا ہے ،توبلبلا رہےہیں اور پھر سے یکجہتی کے راگ الاپنے لگے ہیں،لیکن طرفہ یہی ہے کہ وہ کبھی ہمارے نہیں ہوئے اور نہ ہوسکتے ہیں ۔ یہ ایک سیاسی چال ہے، جس کے ذریعے اپنی تحریک کو کامیاب کرانا چاہتے ہیں۔

(لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا الاٰیہ )