جاگ اے غافل کہ اب ہندسہ نہیں، زمانہ بدل رہا‌ہے!-بشری رحمن

سال تو بدلتے ہی رہتے ہیں ، متعین مدت پوری ہونے کے بعد سال بدل جاتا ہے، سورج اور زمین کی گردش ازل سے یونہی چل رہی ہے، اپنا‌ متعین سفر پورا کرنے کے بعد زمین اپنا سفر پھر وہیں سے شروع کر دیتی ہے، کچھ یہی یکسانیت ہر ماہ و سال کے بدلنے پر بنی آدم کو نظر‌آتی ہے۔ نئے سال پر فیض کے انداز میں کچھ یوں کہنا پڑتا ہے :

      اے نئے سال بتا تُجھ میں نیا پن کیا ہے

    ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے

لیکن اس مرتبہ یہ صرف ہندسے کا بدلاؤ نہیں ہے، اس مرتبہ ہندسوں کے ساتھ زمانہ بھی بدل رہا ہے۔

گزشتہ سال کی شروعات دیکھیں تو یہ بڑی ہی جاندار تھی، جب ٢٠٢٠ شروع ہوا شاہین باغ تحریک عروج پر تھی، مسلم امہ پر طاری سکوت ٹوٹ چکا تھا، نیا ولولہ ،نئی امنگیں، نئی امیدیں تھیں، خاتون شاہینوں نے اپنی طاقت بتا دی تھی۔ یہی نہیں شاہین باغ نے نئی نوجوان قیادت عطا کی۔ پرانی سنجیدہ قیادت کا کہیں اتہ پتہ نہیں تھا، مصلحت کی چادر نے اس قدر مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا کہ اپنے ہی شاہینوں کے پر کتر ڈالے۔ دارالعلوم کے طلبہ نے ملی حمیت اور غیرت کے ساتھ جب صداے احتجاج بلند کی، تو ذمے داران‌ نے خود‌ اپنے ہی طلبہ کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی اور‌ پوری قوم کو بے دست و پا چھوڑ دیا، گویا‌ اپنی غیرت پر پڑی مٹی کو سب کے سامنے عیاں کر دیا۔

  شاہین باغ نے  ہمیں صرف‌اپنی ہی قیادت نہیں عطاکی بلکہ اقبال کے اس مصرعے کے مصداق کہ ” لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا "

‌  دوسری قوموں کی امامت کی طرف بھی قدم بڑھوایا ہے۔ کون سوچ سکتا تھاکہ ہریانہ جیسی ریاست جو صنف نازک کے خلاف جرائم میں سرفہرست رہتی ہے، وہاں سے خواتین کسان تحریک میں شامل ہونگی۔ یہ سب شاہین باغ تحریک کی دین ہے۔

      ٢٠٢٠ تحریک کا ہی سال نہیں، یہ اموات کا سال بھی ہے۔ سیاست، مذہب ،فلم کوئی شعبہ ایسا نہیں جو قیادت سے خالی نہ ہوا ہو۔ سیاست میں احمد پٹیل، رام ولاس پاسوان‌ سے لے کر، فلم انڈسٹری میں عرفان خان سے سشانت سنگھ راجپوت تک، شاعری کے بادشاہ راحت اندوری سے لے کر ملی اتحاد کے علمبردار مولانا‌ کلب صادق تک، یہ آٹے میں نمک کے برابر چند نام ہیں، اموات‌ کی فہرست بنائیں تو یہ محسوس ہوگا کہ آنے والے وقت میں گزشتہ سال میں ہونے والی اموات پر کہیں تحقیق ہی نہ ہونے لگے۔ گویا جس طرف بھی نظر ڈالیں اس طرف ہی یتیمی نظر آتی ہے۔ لیکن زندہ قومیں یتیمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے رحم و ترس کے جذبات کو اپنی طراف آنے نہیں دیتیں، وہ وقت کے دھارے کو موڑنے کی قوت رکھتی ہیں۔

  یہ یتیمی اور مسکینی کچھ یہ اشارہ بھی دیتی نظر آرہی ہے کہ اب ہندسہ نہیں زمانہ بدلنے کا وقت ہے اور یہ کہ اب قیادت بدلنے وقت آگیا ہے۔ وقت کا پہیہ جس دھارا پر گھومتا آ رہا تھا اب اس میں بدلاؤ آنے کا وقت آ گیا ہے۔ زمانہ نئی قیادت کو آواز دے رہا ہے۔ تو اب آپ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟ زمانہ بدلنے کی نوید تو آ چکی ہے، اب یہ آپ کو  طے کرنا ہے کہ اس بدلاؤ میں آپ کا حصہ کتنا ہوگا۔ دنیا کو انصاف اور حق کے روشن دور سے شناسا کرانا ‌آپ کی ذمے داری ہے، اٹھیے اس ذمہ داری کو ادا کیجیے۔ قوموں کی امامت کا سفر جاری رکھنا ہے تو غفلت کے پردے کو چاک کیجیے، وجعلنا للمتقین اماما کے ہدف کو حاصل کیجیے۔

(بشکریہ دی ہندوستان گزٹ)