جاتک کہانیاں اور آصف فرخی-شکیل رشید

نور عنایت کی انگریزی میں مرتب کردہ ‘جاتک کہانیاں’ کا آصف فرخی کا اردو ترجمہ ابھی ابھی تو پڑھا تھا اور پڑھ کر ایک طرح کا سکون اور اطمینان محسوس ہوا تھا کہ کوئی تو ایسا ہے جو آج کے دنوں میں، جب ادبا و شعرا اپنی شہرت اور اپنی خود نمائی کے لیے مغربی ادب کے دامن میں پناہ لینے پر فخر کرتے ہیں، مشرقی ادب کی بازیافت کر رہا ہے ۔امید تھی اور یقین بھی تھا کہ وہ مشرق کے ایسے ہی مزید چھپے ہوئے خزانوں کو ہمارے سامنے لائیں گے۔ لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، انہیں کسی اور منزل کی طرف روانہ ہونے کی جلدی تھی، وہ روانہ ہو گئے ۔’چپ چاپ’ گوتم بدھ کی طرح جیسا کہ ‘جاتک کہانیاں’ کے تعارف میں انہوں نے لکھا ہے :” وہ (گوتم بدھ) کپل وستو کے راج کمار تھے لیکن انہوں نے اس دنیا کے بارے میں جب سوچنا شروع کیا تو اس زندگی سے اکتا گئے ۔عیش و آرام کی زندگی سب کو چھوڑ کر ایک دن چپ چاپ اکیلے ہی چل دیے ” ۔
اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے اس کی ‘بازگوئی’ کرنے والی شہزادی نور عنایت اور ‘اردو روپ’ دینے والے آصف فرخی میں ایک بات مشترک نظر آتی ہے ۔ انتظار حسین بھی دونوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں جنہوں نے اس کتاب کا تعارف کرایا ہے۔یہ تینوں ہی گوتم بدھ اور ان کی جاتک کہانیوں کے حوالے سے ان ساری قدیم مشرقی روایات کے عاشق ہیں جن سے آج بھی ایک زمانہ بالخصوص ہم مشرقی آنکھیں موندے ہوئے ہیں ۔نور عنایت ،شہید ٹیپو سلطان کی پڑپوتی تھیں اور فرانس میں برطانیہ اور فرانس کے لیے نازیوں کی جاسوسی کرتے ہوئے موت کے گھاٹ اتریں۔انہیں بہادری کے لیے ‘جارج کراس کا تمغہ’ بعد از مرگ دیا گیا اور لندن کے گولڈن اسکوائر میں ان کا مجسمہ نصب کیا گیا جس کی نقاب کشائی پرنسس این نے کی تھی۔جب مہاتما بدھ کی جاتک کہانیاں مرحومہ کے ہاتھ لگیں تو وہ اس کے عشق میں ایسی ڈوبیں کہ انگریزی زبان میں ترجمہ کر ڈالا۔آخر ایسا کیا ہے ان کہانیوں میں؟ انتظار حسین مرحوم بھی ان کہانیوں کے عاشق ہیں، وہ فارسی زبان سے عربی عجمی روایات میں شامل ہونے والے ‘پنچ تنتر’ ہی کی طرح کہانیوں کے اس سلسلے کو بھی ‘بستانِ حکمت’ مانتے ہیں ۔وہ لکھتے ہیں:” یہ کہانیاں مل جل کر مہاتما بدھ کی آپ بیتی کی شکل اختیار کر لیتی ہیں ۔خوب آپ بیتی ہے کہ ہر جنم میں کسی نئی مخلوق کے بیچ نظر آتے ہیں ۔بندروں کے بیچ بندر، بٹیروں کے بیچ بٹیر، سانپوں کے بیچ سانپ۔جس مخلوق کے بیچ سانس لے رہے ہیں اس مخلوق کے دکھ درد میں شریک ہیں ۔ان کے دکھ میں ان کی سہائتا کر رہے ہیں ۔گویا یہ ایسی ذات کی آپ بیتی ہے کہ سارے جہاں کا درد اس کے جگر میں ہے۔ساری مخلوقات اس کے اندر سمائی ہوئی ہیں ۔آواگون میں ایمان رکھنے والے کہتے ہیں کہ انسانوں میں بس ایک ہی انسان ایسا گزرا ہے جسے اپنے اگلے پچھلے سارے جنم یاد تھے، وہ مہاتما بدھ تھے” ۔
مرحوم آصف فرخی کہیں کے راج کمار نہیں تھے۔ اور یقین ہے کہ انہیں کسی راج کمار سا عیش وعشرت پسند نہیں رہا ہوگا، لیکن دنیا پر وہ یقیناً غور و فکر کرتے رہے ہوں گے ۔یقیناً ان کے جگر میں بھی دوسروں کا درد سمایا ہوگا۔ شاید یہی ان کے چپ چاپ چلے جانے کا سبب بنا ہوگا۔لیکن جاتک کہانیوں کے گوتم بدھ تو ہر بار جاکر واپس آتے ہیں، بار بار جنم لیتے ہیں!! ہر بار اپنے کسی چیلے سے کوئی کہانی سننے کے بعد وہ کہتے ہیں کہ بہت پہلے یہ واردات ان پر گزر چکی ہے، اور اس جنم سے پہلے ایک اور جنم میں وہ اس صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں ۔کہانی ‘بندروں کا پل’میں بندروں کا جو وہ سردار ہے جو راجہ برہمہ دت سے تمام بندروں کو بچانے کے لیے اپنی جان دے دیتا ہے، وہ بندر وہی ہیں ۔کہانی ‘چور کتے’ کا کتّوں کا سردار بھی وہی ہیں جو سارے کتوں کا کامیاب مقدمہ راجہ کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ان کہانیوں میں کبھی ‘سنہرا ہرن’ کے روپ میں تو کبھی نیک دل خرگوش اور کبھی سنہری پروں والے راج ہنس، کبھی طوطے اور کبھی مست ہاتھی اور بٹیر کے روپ میں وہی ہیں۔گوتم بدھ ہر کہانی میں الگ الگ روپ میں نظر آتے ہیں اور ہم سب کہانی پڑھنے والے ان کے سحر میں گرفتار ہو جاتے ہیں ۔آصف فرخی، گوتم بدھ تو نہیں ہیں کہ روپ بدل کر لوٹ آئیں گے، لیکن گوتم بدھ اور ایک قدر مشترک ضرور ہے، جس طرح جاتک کہانیوں کے ساتھ بدھ زندہ ہیں اسی طرح اس ترجمے کے ساتھ آصف فرخی بھی زندہ رہیں گے ۔بھلے یہ کہانیاں گوتم بدھ کی موت کے بعد کی کہانیاں ہوں پر ہیں تو یہ ان کے نئے جنموں کی کہانیاں ۔ اس لیے یہ زندگی کی کہانیاں ہیں۔
آصف فرخی ان کہانیوں کے تعارف میں لکھتے ہیں :” نور عنایت خان نے ان کہانیوں کو جس طرح دہرایا، اس میں کئی روایات کے تہذیبی اثرات شامل ہو گئے ہیں ۔نور عنایت خان نے ایک پل بنا دیا ہے جس سے گزر کر ان کہانیوں کی بھید بھری دنیا میں داخل ہو سکتے ہیں، جہاں روشنی جیسی ایک خوشی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے ۔یہ کہانیاں اس خوشی تک پہنچنے کا وسیلہ ہیں” ۔ایک اقتباس کے ذریعے آئیں ہم سب ان کہانیوں کی بھید بھری دنیا میں داخل ہوں اور اسی خوشی کو پالیں جو روشنی جیسی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے ۔
” لیکن جنگ ختم ہوئی تو راجہ کا گھوڑا زخموں سے چور ہو کر ڈھیر ہو گیا۔
راجہ اپنے بہادر وفادار گھوڑے کے پاس آیا اور اس کی گردن پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
” اداس نہ ہو میرے راجہ! ” گھوڑے نے راجہ سے دھیمی آواز میں کہا ۔” مجھے اپنے زخموں پر کوئی تکلیف نہیں ہے، اس لیے کہ ہم جیت گئے۔بس میری ایک بات ماننا۔جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، ان کو جان سے نہ مارنا۔ان سے وعدہ لے لینا کہ وہ بنارس کی طرف میلی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے ۔وہ سوگندھ اٹھا لیں تو پھر ان کو چھوڑ دینا” ۔
یہ بات کہہ کر گھوڑے نے آنکھیں موند لیں اور وہ مر گیا ۔
لیکن اس مہان آتما کی یاد دیر تک وہاں بسی رہی اور راجہ برہمہ دت نے اس کی بات پر عمل کیا۔سات نگریوں کے راجہ چھوڑ دیے گئے ۔انہوں نے سوگندھ کھائی کہ پھر کبھی جنگ نہیں کریں گے ۔انہوں نے اپنے وعدے کا پاس کیااور دھرتی پر امن چین پھیل گیا، لوگ ہنسی خوشی رہنے لگے۔اور وہ اس مہان گھوڑے کی بات کبھی نہیں بھولے جس نے اپنی جان داؤ پر لگا کر امن کا وعدہ لیا تھا” ۔
(یہ ایڈیشن 2012 میں سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہوا تھا)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*