اضطرار ـ سیماب ظفر

نظم مجھ سے روٹھ رہی تھی
قافیہ مجھ سے دور بھاگنے لگا تھا
اور شعر نے مجھ سے اپنا رابطہ منقطع کر رکھا تھا

کھوجنے پر علم ہوا کہ میرے دل کو صبر آ چکا ہے
آنکھوں میں نم باقی ہے نہ خواب
راتیں نیند سے بھر چکی ہیں اور دن مصروفیت سے پُر
زخم بےحسی کے کھرنڈ تلے دب چکا ہے
اور شوق عافیت کے سائے میں اپنی نیند پوری کر رہا ہے

اس ادراک نے مجھ میں ڈر بھر دیا ہے
مجھ میں حوصلہ نہیں کہ اپنے دل میں ایک اور قبر کھودوں
میرا دل اب اتنا زرخیز نہیں رہا کہ دفن ہوئے لوگوں اور شعروں سے نئے احساس کی کونپلوں کو نمو دے

میں جانتی ہوں کہ یہ سچی نہیں
لیکن تمہاری باتیں اچھی ہیں،
آج کل میں دل کو اداکاری سکھا رہی ہوں
( یا شاید ریاکاری)
سو اب توجہ کو عشق اور مسکراہٹ کو ہنسی کا نام دیا جائے گا
سماعت وہ باتیں بھی سنے گی، جو تم کبھی نہیں کہو گے
دن میں کہانیاں بُن کر آنکھوں میں دھر دی جائیں گی، کہ اپنی مرضی کے خواب دیکھے جا سکیں
اور ان جھوٹے خوابوں سے نشاط کی بارش اور ملال کا نم کشید کیا جائے گا

تاکہ میرا مصرعہ تر رہے
اور میری نظم کا دائرہ مکمل ہوتا رہے.

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*