اظہار رائے،تنقید سے تذلیل تک -وسیم احمد

اظہاررائے کی آزادی ایک ایسا موضوع ہے جس کے حدود پر ہندوستان سمیت پوری دنیا میں مباحث ہوتے رہے ہیں۔ انسان اپنے خیالات اور آراء کے اظہار کے لیےمختلف ذرائع و وسائل کا استعمال کرتے ہیں ۔ کبھی گفتگو کے ذریعہ تو کبھی میڈیا، رسائل ، نشریات ، فنون، فلم اور انٹرنیٹ کے ذریعہ انسان اپنے خیالات کا اظہار کرتا رہا ہے ۔اظہار رائے کی آزادی انسانی فطرت کا ایک اہم پہلو ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین سمیت مذہب اسلام نے بھی اس فطرت کا احترام برقرار رکھتے ہوئے ہر فرد کو اس کا حق دیا ہے ۔انسانی حقوق کے عالمی اعلانیہ کی دفعہ 19 میں اسے انسانی حق مانا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آزادی اظہار رائے کو انسان کا بنیادی حق قرار دیا گیا ہے ۔دنیا کے مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر اظہار رائے کا اختیار انسان سے سلب کرلیا جائے تو وہ گھٹن کا شکار ہوسکتا ہے، ایسے میں ہر ایک کو بولنے کا حق ملنا چاہئے ۔البتہ اس کے کچھ حدود اور دائرے ہیں جن کے اندر رہ کر ہی بولنے کا حق دیا جاسکتا ہے ۔کوئی ایسا اظہار رائے جس سے کسی قوم یا فرد کے سیاسی، مذہبی ،اقتصادی ، سماجی یا انفرادی حقوق پامال ہوتے ہوں تو اسے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ۔اگر کوئی فرد کسی کے اوپر تنقید کرتا ہے تو اسے بھی آزادی رائے میں شامل کیا گیا ہے ،البتہ جس پر تنقید کی گئی ہے اسے جواب دینے کا پورا حق ملنا چاہئے۔اگر اس کے جواب کونہیں سنا گیا تو یہ جمہوریت کی تشریح کو مسخ کرنے کے مترادف ہوگا۔چونکہ اظہار رائے کی آزادی انسانی فطرت کا حصہ ہے ،اسی لیےصدیوں پہلے اس پر غورو خوض کا عمل شروع ہوا اور ہنوز اس کی تشریحات جاری ہیں ۔یوروپ میں اس کی ابتدا وسطی دور میں ہوچکی تھی جبکہ برطانیہ میں اس کا آغاز سو لہویں صدی میں اور امریکہ میں اٹھارویں صدی سے ہوا۔
مذہب اسلام نے آزادی پر بہت زور دیا ہے ۔ کیونکہ معاشرے پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور مسائل کو سلجھانے میں مدد ملتی ہے ۔اتنی بڑی افادیت کے باوجود آج بھی روئے زمین پر کچھ ایسے ممالک ہیں جہاں اس کو دبایا جاتا ہے اور کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں حدود سے تجاوز کیا جاتا ہے۔ایک غیر سرکاری تنظیم’’ فورم ایشیا ‘‘کے زیر انتظام شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ ’’ این اکائونٹ آف فریڈم آف ایکسپریشن ان ایشیا ‘‘ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ، بھارت ، بنگلہ دیش ، سری لنکا، ویتنام ، انڈونیشیا ، مالدیپ، برما اور ملیشیا میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور مذہبی اقلیتوں کے لیےانٹر نیٹ پر بھی اظہار رائے کی زمین تنگ ہوتی جارہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت، سری لنکا اور میانمار میں مذہبی اقلیتوں کو سرکاری اور غیر سرکاری دونوں عناصر کی جانب سے اظہار رائے کی پابندیوں کا سامنا رہتا ہے۔مشہور شاعر ، نغمہ نگار اور ڈائیلاگ رائٹر جاوید اختر نے ہندوستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوےکہا تھا کہ ’’ آج ملک میں اظہار رائے کی آزادی پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں اور اپنی بات کہنے کا ماحول تنگ کیا جارہا ہے ۔ یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ جہاں بھی اس طرح کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں وہاں کے حالات بدترین ہوگئے ہیں اس لیے ہندوستان کو وہاں سے عبرت حاصل کرنی چاہیے‘‘۔یہ تو وہ ممالک ہیں جہاں بولنے پر روک لگائی جاتی ہے اور دیگر ایسے ملک ہیں جہاں رائے کے اظہار میں اتنی آزادی دے دی گئی ہے کہ وہ کسی کی مذہبی دل آزاری کا بھی خیال نہیں رکھتے ۔فرانس کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں پیغمبر اسلام ؐ کی شان میں گستاخی کے معاملے بار بار دیکھنے کوملے ہیں۔ گویا کہ اس سلسلے میں کہیں افراط ہے توکہیں تفریط جبکہ اعتدال کا راستہ سب سے بہتر ہے ۔ ابھی حال ہی میں اظہار رائے کی آزادی پر جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ایک ویبنار منعقد کیا گیا تھا۔ اس کا عنوان تھا ’’ ایک صحت مند معاشرہ کے لیےاظہار رائے کی آزادی، کیا ہے اور کیا نہیں ہے ‘‘۔ اس سمینار میں خاصی تعداد میں مختلف مذاہب و مکاتب فکر کے نامور پیشواؤں، دانشوروں اور سیاسی و علمی رہنمائوں نے شرکت کی تھی اور سب نے اظہار رائے میں اعتدال کو جمہوریت کا حصہ قرار دیا تھا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے جو پُرمغز باتیں کہی تھی ، وہ دل میں اترنے والی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’’ اظہار رائے کی آزادی انسان کا فطری حق ہے اور ملکی قانون بھی ہر فرد کو یہ حق دیتا ہے۔ لہٰذا کسی انسان کو جو صحیح لگتا ہے اسے ضرور بولنا چاہئے، اگر وہ نہیں بولے گا یا نہیں بولنے دیا جائے گا تو وہ گھٹن کا شکار ہوجائے گا۔ اگر کسی کو حکومت کی کوئی پالیسی غلط لگتی ہے تو اس کا اظہار ضرور کرنا چاہیے، کیونکہ اس آزادی کے بغیر کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں ہوسکتی ہے لیکن ہر اختیار اور حق کی کچھ حدیں ہوتی ہیں۔ اس آزادی کی بھی حدیں مذہبی اور ملکی قوانین کے اعتبار سے مقرر کردی گئی ہیں۔اس حد کو پار کرکے کسی کو ذہنی و مذہبی اور انفرادی چوٹ پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ مذہب اسلام میں اظہار رائے کی آزادی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے ۔لہٰذا کئی ایسے مواقع آئے جب صحابی ؓنے رسول اللہؐ کی رائے کی مخالفت کی اور آپؐ کی رائے کے خلاف فیصلہ کیا گیا۔ حالیہ دنوں میں مسلمانوں پر تنقید کرنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اگر یہ تنقید اعتدال کے ساتھ الفاظ پر کنٹرول کرتے ہوئے کی جائے تو اسے سننے میں مسلمانوں کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن جب اس تنقید کا جواب دیا جاتاہے تو اسے بھی سننا چاہیے۔ اگر جواب نہیں سنا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ یہ تنقید بدنیتی پر مبنی تخریبی رجحان رکھتی ہے ، ایسی تنقیدوں پر روک لگانی جانی چاہیے ‘‘۔
تنقید میں اس پہلو کا خاص خیال رکھا جانا ضروری ہے کہ تنقید میں کسی کی تذلیل اور کردار کشی یا تہمتیں لگا کر نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں ہے ۔ تنقید میں یہ خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ جہاں تنقید کی حد ختم ہوتی ہے وہیں سے تذلیل کی سرحد شروع ہوجاتی ہے اور تذلیل کرنا کسی بھی معاشرے میں اچھا عمل نہیں گرداناجاتاہے۔ لہٰذا کسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے تمام حدوں کا خیال بھرپور طریقے پر رکھنا لازمی ہے ورنہ آپ جس آزادی کے اختیار کا سہارا لے کر تنقید کررہے ہیں ،وہ اختیار اپنی معنویت کھو دے گا اور اخلاقی طور پر آپ ایک مجرم ہوں گے ۔اس سلسلے میں اسلام کا طریقہ سب سے زیادہ معتدل اور حق بجانت ہے ۔سورہ حجرات میں اظہار رائے کی حدود بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’ کسی کا تمسخر نہیں اڑا ئو، کسی کی غیبت مت کرو، کسی پربہتان ، الزام تراشی یا ذاتی زندگی کے عیب نہیں ٹٹولو حتی کہ برے نام اور القاب سے مت پکارو۔ظاہر ہے اسلام نے اظہار رائے کی آزادی تو دی ہے لیکن یہ آزادی کتنی ہوگی اس کی بھی حد مقرر کردی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی 1966 میں ایک قرارد داد ( آئی سی سی پی آر ) پاس کی جس میں کسی بھی فرد یا گروہ کی مذہبی ، قومی یا نسلی مخالفت یا دل آزادی کا سبب بنے یانفرت یا حقارت کا اظہار کرے، ایسی صورت میں متعلقہ ملک کا فرض ہے کہ اسے روکے اور اس کے خلاف قانون سازی کرے۔ ان قوانین کے باوجود دیکھا جاتا ہے کہ کچھ حکومتیں اسے اپنے مفاد کےلیے استعمال کرتی ہیں ،جہاں انہیں اس تنقید کا فائدہ نظر آتا ہے تو اظہار رائے کی آزادی کا نام اور جہاں نقصان نظر آتا ہے وہاں حدود کی باتیں کی جانے لگتی ہے ۔ یہ رویہ بد نیتی کو ظاہر کرتا ہے جس سے گریز کرنا ہر فرد، سماج اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔