ازدواجی زندگی: مسائل اور حل ـ ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

ازدواجی زندگی کے مسائل حل کرنے میں کئی ایک پہلو اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، ان میں سے ایک مرد اور عورت کی شخصیت کا مطالعہ ہے۔ دونوں کی نوع (gender) چونکہ فرق ہے لہذا میاں بیوی کو عموماً اس بات کا احساس نہیں ہو پاتا کہ دونوں کا مزاج اور سوچنے کا انداز تک فرق ہے۔ وہ ایک ہی بات کو مختلف طرح سے لیتے ہیں؛ ایک بات ایک کے نزدیک اہم تو دوسرے کے نزدیک فضول ہے۔ تو مرد کے لیے ضروری ہے کہ عورتوں کی نفسیات کو جانتا ہو یعنی ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر نظر رکھتا ہو۔ اور عورت کے لیے ضروری ہے کہ مردوں کی دنیا سے واقف ہو یعنی ان کی نفسیات سے آگاہی رکھتی ہو۔

دونوں جب تک ایک دوسرے کی شخصیت سے واقف نہیں ہوں گے تو مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔ دونو ں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ مردوں کی اپنی دنیا ہے اور عورتوں کی اپنی دنیا ہے۔ دونوں ازدواجی زندگی کے بعد ایک دوسرے کی دنیا دیکھنے کا آغاز کرتے ہیں لیکن اس کو سمجھنے میں انہیں کبھی ایک دو سال اور کبھی آٹھ دس سال بھی لگ جاتے ہیں ۔ اور یہ سمجھ اس لیے جلد مکمل نہیں ہو پاتی ہے کہ دونوں کا رشتہ مسابقت اور مقابلے کا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر حالت حیض میں عورت کی تلون مزاجی (mood swings) کو سمجھنا مرد کے لیے ممکن نہیں ہے کیونکہ اسے کبھی اس کا تجربہ ہی نہیں ہوا ہے۔ عورت صرف اسے بتا سکتی ہے لیکن اسے اپنی تکلیف اور حالت ریئلائز نہیں کروا سکتی ہے۔ البتہ مذہبی مرد کو کچھ اندازہ ہو سکتا ہے کیونکہ جب وہ قرآن مجید میں یہ پڑھتا ہے کہ حیض عورتوں کے لیے ایک تکلیف دہ مرحلہ ہے تو وہ اس قدر ضرور سمجھ لیتا ہے کہ اگر اللہ عزوجل نے اپنی کتاب میں اس تکلیف کا ذکر کیا ہے تو مجھے اسے کنسڈر کرنا ہے کہ ایک اہم معاملہ ہے۔

اسی طرح مرد کی جنسی احساس محرومی (sexual frustration) میں کیا کیفیت ہوتی ہے، یہ بیوی کے لیے سمجھنا مشکل ہے۔ البتہ مذہبی عورت کو کچھ اندازہ ہو سکتا ہے کیونکہ جب وہ حدیث کا مطالعہ کرتی ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ حدیث میں یہ ہے کہ جب کوئی بیوی اپنے شوہر کے بستر پر آنے سے ناں کر دے تو اس پر ساری رات فرشتے لعنت بھیجتے ہیں۔ اس سے اس کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ مسئلہ حساس ہے اور اسے شوہر کے اس مسئلے کو کنسڈر کرنا ہو گا کیونکہ اس کے دین نے اسے سنجیدہ لیا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*