اتنی بےرخی سے 2020 کو الوداع مت کہیے! ـ رویش کمار

ترجمہ: یاسر سہیل

2020 رخصت نہیں ہو رہا ہے، اور نہ ہی ہوگا ۔یہ سال اپنا کلینڈر لیکر آیا ہے ۔ یہ آنے والے کئی سالوں کا سال ہے ۔یہ سال کئی سالوں تک رہنے آیا ہے ۔ترقی کے جس راستے پر دنیا چلی جارہی تھی ، اس کے سفر کے لئے کچھ سامان چھوٹ گئے تھے، اسی کی یاد دہانی کے لئے آیا ہے ۔ جب تک ہم ان سامانوں کا بندوبست نہیں کریں گے اور سب کے لئے نہیں کریں گے، بطور خاص غریب و نادار لوگوں کے لئے، کووڈ 19 کی ذرا سی تیزی سب پر بریک لگا دے گی ۔
اسی وجہ سے 2020 کا یہ سال ہمارے ذہن و دماغ پر سوار رہے گا ۔ یہ اسی وقت تک نہیں اتر سکتا ہے جب تک کہ ہم اس کے سوالوں کے جوابات نہ دے دیں ۔
یہ کوئی بیکار اور عام سا سال نہیں ہے جس کے جانے پر آپ خوشی و مسرت کا اظہار کر رہے ہیں ۔ اس سال نے بتایا کہ ہم جن سیاسی قائدین کو سب سے عظیم اور مسیحا تصور کرتے رہے ، دراصل وہ سب ہماری زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا سودا کرنے والے گروہوں کے لوگ ہیں ۔
ان نیتاؤں کو لبھاؤ یوجناوں میں غریبوں کی ترقی نظر آتی ہے مگر حقیقت میں یہ لوگ اسی ایک فیصد کے لئے کام کرتے ہیں جس کے پاس دنیا کی 70 فیصد دولت ہے ،اور اب وہ 20 فیصد کو ہضم کرنے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں۔
یہ سال چاہتا ہے کہ آپ اب تک کی اسکیموں اور نیتاؤں کا محاسبہ کریں ۔اپنی سیاسی سوچ میں وسعت پیدا کریں ۔آپ چاہتے ہیں کہ بس کلینڈر کا آخری صفحہ ختم ہو جائے اور نئے کلینڈر کا پہلا صفحہ شروع ہو جائے !
اس سال کی فائلوں میں نہ جانے کتنے اپنوں کے تڑپ کر مرجانے کے قصے درج ہیں ۔اسپتالوں کے آگے گڑ گڑاتے ہوئے لوگوں کی بے بسی درج ہے ۔ راستے میں دم توڑنے اور اسپتال پہنچ کر دم توڑنے کے قصے درج ہیں ۔ کتنے ہی لوگ اپنوں کو آخری بار نہیں دیکھ سکے ۔ ان کے قریب نہیں جاسکے ۔ ہم نے اسپتالوں کو اسی حال پر چھوڑ دیا ہے جو حال 2020 کے آنے سے پہلے تھا ۔سیاست کی دنیا کے لیے بھلے یہ فائدے کا سودا ہو مگر اسپتالوں کی اندورنی کمیوں پر بات نہیں ہوسکی ۔ انہیں مضبوط کرنے کے لیے آدھے ادھورے انتظام کئے گئے۔ ڈاکٹروں نے ان سوالات کو دفن کر دیا ۔ دوا کمپنیوں کے پھیر میں منافع کی زندگی نے انہیں بھی بے بس کر دیا ۔اسپتال کے سسٹم میں جتنا لاچار مریض تھا اتنا ہی ڈاکٹر تھا ۔ یہی تو بتانے آیا تھا 2020 کہ آپ دونوں کی زندگی خطرے میں ہے ۔ کیا ان خطرات سے لڑنے کے لئے آپ نے کچھ کیا ؟ کچھ ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے؟ کیا ہم نے ان سوالات کے جوابات تلاش کر لئے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر 2020 کیسے چلا جائے گا؟
ترقی کے اس دور میں پڑھنے لکھنے اور بحث و مباحثہ کے مقامات کی سرکاروں نے دیکھ ریکھ کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ جب دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیاں اس کووڈ 19 کو لیکر روز بروز نئی نئی چیزیں پیش کر رہی تھیں، دوائیوں کو لیکر تحقیق کر رہی تھیں ، تب ہندوستان کی کسی یونیورسٹی کا آپ نے نام سنا؟ ایسے ہی وشو گرو بنیں گے ؟ 2020 یہی بتانے آیا تھا کہ انسانیت کو اگر کسی ایسے خطرے سے محفوظ رکھنا ہے تو یونیورسٹیوں اور ان کے زیر انتظام اداروں کو پھر سے کھڑا کرنا ہوگا ۔ کیا اس کے حصول کے لئے کچھ ہو رہا ہے ؟
ہمارے گھر بدل گئے ، ڈائننگ ٹیبل کسی کام کا نہیں رہا ، پردے صوفے میز اور آرائشی ساز و سامان مہمانوں کے انتظار میں دھول کھاتے رہے ۔ہر کمرے میں دفتر کا ایک کونا بن گیا ہے ۔ اسکول کھل گئے ہیں ۔ آپ جس گھر کو چھوڑ کر شہر میں مارے مارے پھرتے تھے اب آپ شہر کو چھوڑ کر گھر میں مارے مارے پھر رہے ہیں ۔ کروڑوں گھروں میں بےروزگاری کی وجہ بھی یہی ہے ۔ ان کے بچوں کے نام اسکول سے کٹ گئے ۔ بینک والوں نے دھاوا بول دیا اور گھر چلانے کے لالے پڑ گئے ۔ ملنے والے دو لوگوں کے درمیان ایک تیسرا ہر وقت موجود رہتا ہے ۔ماسک پہن لینے اور اس کے سرک جانے کے بیچ ایک انجان مہاماری انتظار کر رہی ہوتی ہے ۔ کسی سے لپٹ کر رونے کا بھی دور چلا گیا ۔ کروڑوں لوگ ابھی بھی مہاماری سے ٹھیک ہونے کے بعد اسی سے جوجھ رہے ہیں ۔ کروڑوں پر مہاماری کے خطرات منڈلا رہے ہیں ۔آپ کہتے ہیں کہ کہ سال جارہا ہے،کیا نئے سال میں وہ سب واپس آرہا ہے ؟
یہ سال ہم سے عاجزانہ درخواست کر رہا ہے ۔یہ سال غرور و تکبر کو ختم کر دینے کا سال تھا ۔ جن باتوں کے لئے خبر دار کرنے 2020 آیا تھا اس نے 2021 سے یہی کہا ہے کہ تم بے شک آؤ لیکن میں جانے والا نہیں ۔ زندگی کو تاریخوں کی پٹری سے اتار کر گزارنے لائق بنانے کے فیصلے جب تک نہیں ہوں گے ، 2020 کو الوداع کرنے سے الوداع ہونے والا "سال ” نہیں ہے ۔

تو کیا نئے سال کو خیر مقدم اور اس کی آمد پر مبارکباد نہ کہا جائے ؟ جشن نہ منایا جائے ؟ موسیقار کے گانے پر ڈانس نہ کیا جائے؟ کیجئے نا ۔ اسی میں زندگی بھی گزارنا ہے ، لیکن زندگی کو بہتر بنانے کے راستے بھی تبدیل کرنے ہوں گے ۔ نئی امیدیں باندھنی ہوں گی ۔ جو کیا نہیں گیا اور جو کیا نہیں جا رہا ہے (اس کو دیکھنا ہوگا ) ۔ خود کو دھوکے میں رکھنے والوں کے لئے ہی 2021 آرہا ہے، ورنہ جنہیں احساس ہے انہیں معلوم ہے کہ 2020 ابھی کئی سال تک رہے گا ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*