دینک بھاسکر گروپ پر آئی ٹی کا چھاپہ، حزب اختلاف نے جمہوریت پر حملہ قرار دیا

نئی دہلی: جمعرات کی صبح میڈیا گروپ دینک بھاسکر کے ملک کے کئی دفتروں میں انکم ٹیکس کے چھاپے مارے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ بھاسکر گروپ پر ٹیکس چوری کا الزام ہے۔ ذرائع کے مطابق حکام نے دہلی، مدھیہ پردیش، راجستھان، گجرات اور مہاراشٹر میں دینک بھاسکر کے دفتر کے احاطے میں تلاشی لی۔ گروپ کے پرموٹر کے گھروں اور دفاتر پر بھی چھاپے مارے گئے۔ دینک بھاسکر کے سینئر ایڈیٹر نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ بھاسکر گروپ کے جے پور، احمد آباد، بھوپال اور اندور کے دفاتر پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔ اس معاملے پر سی ایم اروند کیجریوال نے کہا کہ دینک بھاسکر اور بھارت سماچار پر انکم ٹیکس کے چھاپے میڈیا کو ڈرانے کی کوشش ہیں۔ ان کا پیغام صاف ہے، بی جے پی حکومت کے خلاف بولنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ ایسی سوچ بہت خطرناک ہے۔ سب کو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔ ان چھاپوں کو فوری طور پر روکا جائے اور میڈیا کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے۔راجستھان کے سی ایم اشوک گہلوت نے بھی کہا کہ دینک بھاسکر اخبار اور بھارت سماچار نیوز چینل پر انکم ٹیکس کے چھاپے میڈیا کی آواز دبانے کی کوشش ہے۔ مودی سرکار اپنی تنقید کو ہر گز برداشت نہیں کرسکتی۔ اپنی فاشسٹ ذہنیت کی وجہ سے بی جے پی وہ سچائی نہیں دے سکتی جو اس کوجمہوری انداز میں دکھائی جارہی ہے۔کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ دینک بھاسکر نے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے کورونا وبائی بیماری کے دوران مودی حکومت کی بڑی بدانتظامی کو بے نقاب کیا۔ اب اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ جیسا کہ ارون شوری نے کہاکہ یہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی کی طرح ہے۔