اسرائیل سے ہندوستانی مسلمان کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ـ محمد علم اللہ

اس وقت فلسطین پر اسرائیلی مظالم سے امت مسلمہ دل گرفتہ ہے۔ حالیہ عشرے میں جس انداز میں صیہونی فوج نے لگاتار ظلم و جبر کی کاررائیاں کی ہیں اور جس انداز میں بچوں، خواتین و عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، اس سے پورا عالم انسانیت حیران و پریشان ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کو اسرائیلی و مغربی میڈیا سند جوازِ عطا کرنے کی مذموم کوششوں میں بھی مصروف ہے۔

فلسطین سے متعلق خبروں پر اسرائیل اور خصوصاً مغربی میڈیا جس قسم کا رویہ اپنا رہا ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ چند ویب سائٹ جنہیں برطانیہ، ترکی، ایران، ہندوستان، پاکستان یا دوسری جگہوں پر مقیم کچھ فلسطینی نوجوان چلا رہے ہیں کو چھوڑ دیں تو جس انداز سے ان کی خبریں میڈیا میں آنی چاہئے نہیں آ رہی ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود اور نہایت نامساعد حالات میں میڈیا کے میدان میں ان کی اپنی سی سعی کو سلام پیش کرنے کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کہ فلسطینیوں کے پاس نہ تو کوئی بڑا بین الاقوامی سطح کا اخبار ہے، نہ کوئی ویب سائٹ یا ٹیلی ویژن چینل۔ اس کے برعکس اسرائیل کی سینکڑوں ویب سائٹ، اخبار اور ٹیلی ویژن چینل ہیں جو فلسطین پر اسرائیل کی ظالمانہ کارروائی کو حقِ دفاع کہہ رہے ہیں اور مظلوم و نہتے فلسطینیوں کو، جو اپنے ملک سے اسرائیلی قبضے کو ہٹانے اور اپنی زمین کے تحفظ کیلئے بے سرو سامانی کے باوجود کوشش کر رہے ہیں، انھیں دہشت گرد اور ظالم و جابر ثابت کرنے کی سعی کی جا رہی ہے۔

اسرائیل عالمی سطح کے میڈیا پر اپنی گرفت قائم کرنے میں صد فیصد کامیاب ہے، لہٰذا اس کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ سامنے آ رہا ہے کہ اسرائیل اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے میں بہت حد تک کامیاب ہو چکا ہے۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے، اس سلسلے میں فلسطینی بھی کم کوشش نہیں کر رہے ہیں، اور یہ ان کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ دنیا بھر میں انھوں نے میڈیا پر کام شروع کیا اور ہمیں کچھ چیزیں دیکھنے کو مل بھی رہی ہیں۔ لیکن اسرائیل کے مقابلے میں ان کی یہ کوششیں بہرحال ناکافی ہیں۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ میڈیا مینیجمنٹ کے توسط سے ہی اسرائیل کئی مرتبہ ایڈوکیسی اور سفارت کاری میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے اور خود کو اس طرح سے پیش کرتا ہے کہ لوگ بہت آسانی سے اس کی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں ، جبکہ فلسطین سمیت پوری اسلامی دنیا اپنے موقف کو اس انداز میں پیش نہیں کر پاتی۔خود ہندوستان کے مسلمان بھی اردو اخبارات میں اپنا ڈھول پیٹ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ان کا کام ہو گیا۔ اسی وجہ سے ان کے بہت سے تعمیری اور رفاہی کاموں سے بھی لوگ لاعلم رہتے ہیں۔

عرصہ قبل معروف امریکی سیاہ فام مسلم قائد میلکم ایکس [ 1925-1964] نے ایک بات کہی تھی:
"میڈیا زمین کا سب سے طاقتور وجود ہے۔ ان [یہود و نصاریٰ]کے پاس طاقت ہے کہ وہ بے قصوروں کو مجرم بنائیں اور مجرموں کو بے قصور ثابت کریں، ان کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعے وہ عوام کے ذہنوں کو قابو میں رکھتے ہیں”۔

ہندوستان میں مسلمانوں کی جو صورتحال ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ آئے دن جو ظلم و زیادتی، قتل و غارت گری اور ناانصافی والا رویہ ان کے ساتھ اپنایا جاتا ہے، اس کی رپورٹنگ قومی سطح کے میڈیا میں کس انداز سے ہو رہی ہے، حقائق کی پردہ پوشی کس انداز میں کی جا رہی ہے، تعصب و تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحافتی اخلاقیات کی مٹی کیسے پلید کی جا رہی ہے، یہ تمام باتیں ہم سب کے سامنے ہیں۔

میڈیا کی سطح پر مسلمانوں کے ساتھ بالعموم جو رویہ پورے ملک میں حالیہ دنوں میں روا رکھا گیا ہے، اور جس کا تسلسل اب بھی جاری ہے، اسے دیکھتے ہوئے صرف یہ کہہ کر بات ختم نہیں کی جا سکتی کہ ہندوستان کا قومی میڈیا نہایت بے ایمان ہو چکا ہے، بلکہ اس حقیقت کا اظہاربھی لازم ہے کہ یہاں بھی میڈیا بہت سے معاملوں میں ‘مسلم دشمنی’ پر آمادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات بعض مسائل کے بیان کے بہانے مین اسٹریم میڈیا ایسے معاملوں کی یک رخی تصویر پیش کرتے ہوئے قارئین و ناظرین کو گمراہ کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔

اس بابت چند ایک اردو اخبارات کو اگر چھوڑ دیں تو صحافتی میدان میں ابلاغ و ترسیل کا پورا نظام اسی طرح ملک کی سب سے بڑی اکثریت کے خلاف کام کر رہا ہے، جس طرح فلسطین کے خلاف اسرائیل کی جانب سے جاری ظالمانہ کارروائیوں کو ‘حق دفاع’ کا گمراہ کن جواز فراہم کرایا جاتا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ یہاں زیادہ تر مثبت معاملوں میں قومی میڈیا میں ان کی چند سطری خبر بھی نہیں بن پاتی، جبکہ منفی معاملوں میں صفحات کے صفحات سیاہ کرنے والی حکمت عملی پروان چڑھائی جاتی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے پاس نہ کوئی قومی سطح کا اخبار ہے، نہ بہت بڑا کوئی نیوز پورٹل۔
سوچنے والی بات ہے کہ۔۔۔ کیا ہم ہندوستانی مسلمان اسرائیل سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟

ہندوستان میں مسلمانوں سے متعلق صرف گذشتہ چار پانچ سالوں میں رونما ہونے والے لنچنگ کے معاملوں کا حساب کیجیے، سی اے اے و این آر سی کے خلاف ہونے والے احتجاج کی رپورٹنگ کو سمجھیں، کورونا کے معاملہ میں تبلیغی جماعت کو ٹارگیٹ کرنے اور اس سے وابستہ افرادکی جگہ جگہ ہونے والی پٹائی کے واقعات کی خبروں کا تجزیہ کریں یا پھر، آسام، میرٹھ، ملیانہ، بھاگلپور، مظفر نگر اور حالیہ دہلی فسادات میں بڑی تعداد میں مسلمانوں کے جانی و مالی نقصانات کی ہی بات کریں تو حقیقی سچائی سے اقوام عالم کو باخبرکرنے میں ہم بری طرح ناکام رہے ہیں۔ ہمارے پڑھے لکھے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد عرب ممالک میں آباد ہے، اسی طرح برطانیہ، امریکہ، جرمنی، کینیڈا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بر سر روزگار افراد کی تعداد بھی کم نہیں ہے لیکن ان کی جانب سے بھی اس حوالہ سے کام شاذ ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

جہاں تک ہماری ملی تنظیموں کی بات ہے، جن سے کچھ امیدیں تھیں؛ لیکن ان کی ترجیحات میں بھی میڈیا دکھائی نہیں دیتا۔ جو چند ادارے یا تنظیمیں میڈیا کی بانسری بجاتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں یا اپنے پاس میڈیا ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، ان کے یہاں پروفیشنلزم اور معیار کا اس قدر فقدان ہے کہ اسے کسی کیٹیگری میں رکھا ہی نہیں جا سکتا۔

کسی دورمیں اردو اخبارات کے صفحات ‘ملی صحافت’ کے لیے وقف ہوا کرتے تھے، اب اردو اخبارات کے گرتے ہوئے معیار کا نتیجہ یہ ہے کہ یہی صفحات چند ایک ملی شخصیتوں کی شخصیت سازی کے کام آ رہے ہیں۔ چند کو چھوڑ کر ان کے ادارتی صفحات پر آپ کو مدارس کے نئے مگر باصلاحیت اور کچھ کرنے کی خواہش رکھنے والے نوجوان طبع آزمائی کرتے نظر آئیں گے۔ مگران بیچاروں کا نہ تو اتنا تجربہ ہوتا ہے، نہ مطالعہ اور نہ صحافتی تربیت۔ ان حالات میں جیسے مضامین وہ لکھتے ہیں، ان کا پست معیار سب کے سامنے ہے۔
خبروں کے معاملے میں اردو اخبارات کی رپورٹنگ بھی مایوس کن ثابت ہو رہی ہے یا پھر وہ دوسروں کے چبائے ہوئے نوالے اگلتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ اردو اخبارات ‘جذباتی صحافت’ کے ذریعہ ملت کے غم خوار بننے کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن ان کے یہاں معروضی صحافت پوری طرح غائب ہے۔ بہ حیثیت عمومی خبروں اور رپورٹنگ کی جانب تو ان اخبارات کی کوئی توجہ ہے ہی نہیں۔

ملی صحافت کا جو کردار کسی دور میں اردو اخبارات ادا کیا کرتے تھے، وہ اب مسلمانوں کے انگریزی ویب پورٹلز نبھا رہے ہیں جن میں مسلم مرر اور کلیریئن انڈیا وغیرہ ہیں۔ دونوں پورٹلز سخت مشکلات کا شکار ہیں یہاں تک کہ پچھلے دنوں کلیریئن نے تو ایک واٹس ایپ گروپ پر مدد کی عام اپیل تک کر ڈالی اور بتایا کہ کئی ماہ سے وہ اپنے عملے کو تنخواہ بھی ادا نہیں کر پائے ہیں۔ ہمارے کئی اخبارات اور نیوز پورٹلز پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔ اب ملت کو غورکرنا پڑے گا کہ وہ ایسے پورٹلز کو بچانا چاہتے ہیں یا اسے بھی بند ہونے پر مجبورکر دیا جائے گا۔

فی الحال ہندوستان میں مسلمانوں کی جو صورتحال ہے، اس سے مستقبل قریب میں اس بات کا امکان نظر نہیں آتا کہ یہاں کے مسلمان کوئی مضبوط میڈیا قائم کر سکیں گے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو مسلمانوں میں اس کا مناسب و متناسب شعور نہیں ہے، دوم اگر کچھ لوگ اپنا میڈیا قائم کر بھی لیتے ہیں تو انہیں مستقل کریک ڈاؤن کیے جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم کچھ سیکولر کہے جانے والے طبقوں کی جانب سے کچھ میڈیا ہاوسز؛ این ڈی ٹی وی، کونٹ، دی وائر، پرنٹ وغیرہ پر حکومت کی م جانب سے ان کی مستقل گرفت، کئی مقامات پر صحافیوں پر حملے اور مختلف الزامات لگا کر انھیں جیل بھیجنے جیسے واقعات ہوتے دیکھ رہے ہیں۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں مسلمان کیا کریں؟ کیا ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے رہیں یا پھر کسی غیبی مدد کا انتظار کریں؟

مجھ سمیت اس میدان سے وابستہ دیگر صحافیوں و قلمکاروں کے ذہنوں میں جو چند لائحہ عمل واضح ہوئے ہیں اور جن پر مناسب عمل آوری کی جا سکتی ہے وہ سلسلہ وار کچھ یوں ہیں:

سب سے پہلے تو کمیونٹی کی جانب سے جو بھی اخبارات، نیوز پورٹل یا چھوٹے موٹے چینلس وغیرہ چل رہے ہیں ان کا تعاون کیا جائے۔ یہ تعاون جائز دولت (وہائٹ منی) کے علاوہ مسلم تجارتی ادارے اپنی سی ایس آر کی رقم دے کر بھی ایسے میڈیا اداروں کو مضبوط کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہمارے میڈیا ہاوسیز کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے اداروں میں پروفیشنلز افراد کو ہائر کرنے کی کوشش کریں اور محض کام چلاؤ رویے سے اجتناب کریں۔

دوسرا کام یہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے جو لوگ بیرون ملک میں رہ رہے ہیں وہ اپنے دیگر کاموں میں سے تھوڑا وقت نکال کر مسلم مسائل پر توجہ دیں۔ اس سلسلے میں لندن میں مقیم محمد غزالی خان نے بڑا اچھا سلسلہ شروع کیا تھا۔ ‘اردو میڈیا مانیٹر’ کے نام سے انھوں نے ایک انگریزی پورٹل بنایا اور اردو میں شائع اقلیتوں کی بہت سی خبریں انھوں نے انگریزی میں منتقل کرکے ایک بڑے طبقے کو ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل اور پریشانیوں سے واقف کرایا۔ اس طرز پر دیگر زبانوں مثلاً عربی، ترکی،جرمنی، فرانسیسی وغیرہ میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ مدارس سے فارغ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد عرب ممالک میں مقیم ہے۔ بہت سے بڑے مدارس کے فارغ التحصیل علماء کی باضابطہ انجمنیں ہیں جو کئی امور میں اچھا کام کر رہی ہیں۔ چند احباب مل کر اگر اس جانب توجہ دیں تو عربی میں کئی عمدہ ویب پورٹلس جاری کئے جا سکتے ہیں۔

تیسرا کام جو ہماری بڑی تنظیمیں اور این جی اوز وغیرہ کر سکتی ہیں، وہ یہ کہ ہندوستان کے بڑے میڈیا اداروں سے ٹائی اپ کرکے میڈیا میں ان سے اسپیس خریدیں اور مسلم مسائل سے متعلق خبروں کی اشاعت کیلئے ان سے درخواست کریں۔

چوتھا ہماری تنظیمیں اور ادارے کچھ سینئر اور اچھے صحافیوں کو، جن میں سلجھے ہوئے غیرمسلم افراد بھی ہو سکتے ہیں، کو وظیفہ دیں اور ان سے کہیں کہ وہ مسلم مسائل سے متعلق بھی کالم لکھیں۔ ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویہ اور سرکاری و غیر سرکاری بھید بھاؤ کو بےنقاب کریں۔

پانچواں یہ ادارے مسلم مسائل سے متعلق متعدد موضوعات پر صحافیوں سے سناپسس (خاکہ) طلب کریں اور اس کی روشنی میں ہر ریاست سے جتنی استطاعت ہو صحافیوں کو ایک متعینہ رقم دے کر ان موضوعات پر ‘ریسرچ ورک’ کرائیں، اس کی اشاعت کا انتظام کریں اور بڑے پیمانے پر پوری دنیا میں اس کو پھیلائیں۔ اس سلسلے میں ‘نیشنل فاؤنڈیشن فار انڈیا’ کے ماڈل سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ‘چرخہ ڈیولپمینٹ کمیونکیشن نیٹ ورک’ کی کوششیں بھی ہمارے کام آ سکتی ہیں جو شہری آبادی سے دور دیہی علاقوں میں رہنے والے صحافیوں میں سماجی ایشوزکی سمجھ پیدا کرتے ہیں اور اس کی رپورٹنگ کیلئے انہیں ایوارڈ دیتے ہیں۔

چھٹا کام یہ کیا جا سکتا ہے کہ مختلف اخبارات میں مسلمانوں پر نا انصافی، ظلم و زیادتی اور بے جا سختیوں وغیرہ کی جو خبریں چھپتی ہیں، ان کو بہتر اور مناسب طریقہ سے جمع (compile) کیا جائے اور پابندی کے ساتھ دنیا بھر کے سفارت خانوں، تھنک ٹینکس، تنظیموں، قائدین، دانشوروں، علماء اور ریسرچ اسکالر وغیرہ تک پہنچایا جائے۔

ساتواں کام جو بہت آسان ہے وہ یہ کہ ہمارے نوجوان دوسرے مین اسٹریم میڈیا میں شائع خبروں کا لنک، ویڈیو کا لنک اور تراشے وغیرہ پر چھوٹے موٹے تبصرے یا اسی میں سے چند فقرے لے کر سوشل میڈیا میں وائرل کریں، سوشل میڈیا چلانا سیکھیں، کیسے ٹیگ کیا جاتا ہے، کیسے ہیش ٹیگ چلایا جاتا ہے، کیسے کسی مسئلے کو ٹرینڈ کرایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے کچھ لوگ اچھا کام کر رہے ہیں لیکن یہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں، اس معاملے میں مسلم نوجوانوں کو مزید فعال ہونے کی ضرورت ہے۔

آٹھواں کام یہ ہے کہ میڈیا کے تئیں عوام کو بیدار کرنے کی کوشش کی جائے، پڑھنے لکھنے اور حالات حاضرہ کو سمجھنے کا رجحان پیدا کیا جائے۔ مدارس میں بھی اس جانب توجہ دی جائے۔ ہمارے ملی قائدین اور سربراہان بھی اس جانب دلچسپی لیں، اپنے حجروں اور محفلوں سے نکل کر سوشل میڈیا اور اس قسم کے دوسرے ذرائع ابلاغ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک جڑنے کی کوشش کریں اور صرف اپنا رونا رونے کے بجائے دیگر استحصال زدہ قوموں اور افراد کے خلاف بھی آواز اٹھائیں ؎ ، ان کے دکھ درد میں شریک ہوں ، ساتھ ہی ساتھ اسلام کیا ہے ، مسلمان ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، ان تمام باتوں سے انھیں واقف کرائیں ۔ تبلیغی جماعت کی طرح اپنے ہی لوگوں کو محض اپنا ہم خیال بنانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ دیگر مذاہب اور افکار سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی اپنا ہم نوا بنانے کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ کئی مرتبہ ہم سوشل ورک بھی محض اپنے ہی لوگوں کے درمیان کرتے ہیں جس سے دیگر پچھڑے اور پسماندہ طبقات کے درمیان حسد اور جلن کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ، ایسا نہ ہونے پائے اس جانب بھی دھیان دینا ہوگا۔

نواں کام میڈیا میں جو لوگ پہلے سے کام کر رہے ہیں، ان کی ہمت افزائی کی جائے، آپ کے مسائل کی ترجمانی کرنے والے افراد کی تالیف قلب کے لئے ان کا تعاون کیا جائے ، کسی وجہ سے اگر وہ حکومت یا ایجنسیوں کے عتاب کا شکار بنتے ہیں تو ان کی اخلاقی، قانونی اور مالی مدد کی جائے۔

دسواں کام یہ تنظیمیں اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کریں کہ ہمارے پاس ایسے ادارے اور افراد ہوں جو ان میدانوں میں کام کرنے والے افراد کو بین الاقوامی قانون اور جدید ٹرمنا لوجی کو جانیں اور اسے سمجھانے کا ملکہ رکھتے ہوں کہ جدید سائنٹفک اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیسے کام کیا جائے جس سے آپ کا پیش کردہ مواد انسانی نفسیات پر اثر انداز ہو سکے۔
اوپر جن نکات کا ذکر کیا گیا ہے، اس میں بہت گنجائش ہے۔ عام افراد سے لے کر ملی اور ادارہ جاتی سطح تک ہر فرد اپنی اپنی سطح اور لیاقت سے اپنی راہ منتخب کرسکتاہے۔یاد رکھیں میڈیا کو سستے جذبات کی بجائے سائنسی اصولوں کے مطابق استعمال کیا جائے تو ہی اس سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس میں سمجھ بوجھ اور منظم لائحہ عمل اور منصوبہ بندی سے ہی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے کہ دنیا میں اثر انداز ہونے کایہ سب سے بڑا ٹول ہے۔
صہیونیوں نے نازیوں سے ایک چیز سیکھی تھی اور وہ تھی پروپیگنڈے سے رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کا گر۔ انہوں نے اس کا خوب فائدہ اٹھایا اور پروپیگنڈے کے ذریعے ہی یہودیوں کے قتل عام پر اپنے شہریوں کو قائل کیا اور اپنے مقاصد کے حصول کیلئے عالمی رائے عامہ پر توجہ دی۔ کیا ہم ایسا کرنے کیلئے تیار ہیں؟ یقین کرنا چاہیے کہ ابھی بھی کافی وقت ہے۔ اگر ہم نے اس جانب توجہ نہیں دی تو ہمارا حال بھی روہنگیا اور فلسطین جیسا ہوگا جس کے مدھم آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔ اگر اس پر پل باندھنے کیلئے ابھی سے ہم نے کچھ نہیں کیا تو عین موقع پر مگرمچھ کے آنسو بہانے سے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔