اسرائیل کی دہشت گردی پر اقوام متحدہ کی خاموشی تشویشناک:دارالعلوم دیوبند

 

نہتے فلسطینیوںکی شہادت پر انصاف پسند بالخصوص مسلم ممالک سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ

 

دیوبند18؍ مئی(سمیر چودھری)عالم اسلام کی ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند نے اپنی مذمتی بیان کہا کہ مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے والے معصوم فلسطینیوں پر اسرائیل نے جس وحشیانہ تشدد کا مظاہرہ کیا ہے وہ حد درجہ انسانیت سوز اور کھلی دہشت گردی ہے ۔اسرائیلی فوجیوں کے ذریعہ خواتین کی آبرو ریزی ،معصوم بچوں کا قتل عام اورمسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر اقوام متحدہ کا خاموش رہنا واضح ناانصافی ہے ۔دارالعلوم دیوبند ان تمام انسانیت سوز واقعات کی پر زور مذمت کرتا ہے ۔دارالعلوم دیوبند کے قائم مقام مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی نے جاری اپنے بیان میں کہاکہ دنیا میں حقوق انسانی کا ڈنکا پیٹنے والی نام نہاد تنظیمیں اور با اثر ممالک کی خاموشی حد درجہ باعث تشویش ہے ۔انہوں نے کہاکہ اسرائیل کے جارحانہ اقدامات میں روز بروز اضافہ ہو تا جا رہا ہے اور معصوم و نہتے فلسطینی ظلم و تشدد کا شکار بنائے جا رہے ہیں ۔ اسرائیلی افواج فلسطینی بستیوں پر بمباری کرنے سے دریغ نہیں کر رہی ہیں ۔ مولانا عبدالخالق مدراسی نے کہا کہ بے شمار گوشوں سے اسرائیل کی اس دہشتگردانہ کارروائی کے خلاف آوازیں اٹھنے کے باوجود اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے ۔انہوںنے کہا کہ ہم حکومت ہند اور دنیا کے تمام انصاف پسند بالخصوص مسلم ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیل کی اس وحشیانہ اور دہشتگردانہ کارروائیوں سے معصوم فلسطینیوں کو نجات دلانے کیلئے حق و انصاف اور انسانیت کے نام پر اجتماعی آواز بلند کریں اور اسرائیل کے جبر و تشدد کے سد باب کے لئے مؤثر اقدامات کریں ۔انہوں نے کہ ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی ہمیشہ فلسطین کی حامی رہی ہے اس لئے فلسطینی عوام ہندوستان اور اس کے عوام کو اپنا محسن و دوست مانتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران ہندوستان نے ایک مرتبہ پھر فلسطین دوستی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کی جارحیت اور اس کے دہشتگردانہ عمل کی سخت مذمت اور فلسطینی قوم سے اظہار یکجہتی کیا ہے ،اس نے تمام انصاف پسند لوگوں کے دل جیت لئے ہیں ۔مہتمم دارالعلوم نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند دنیا کی تمام فلاح انسانی کیلئے کام کرنے والی تنظیموں اور با اثر شہریوں سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اپنے ممالک میں سفارت خانوں اور حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں کے دفاتر کے سامنے بھی اسرائیل کے ظلم کے خلاف پر امن احتجاج کریں اور ان سربراہان مملکت کو میمورنڈم بھیجیں جو اسرائیل کی سفاکیت پر ابھی تک خاموش ہیں ۔