Home بین الاقوامی خبریں روس-یوکرین جنگ کے تناظر میں اسرائیلی مذاکرات،چار عرب ممالک کی شرکت متوقع

روس-یوکرین جنگ کے تناظر میں اسرائیلی مذاکرات،چار عرب ممالک کی شرکت متوقع

by قندیل

دبئی:یوکرین پر روسی حملے کے تناظر میں مشرق وسطی میں بھی سکیورٹی کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ایسے میں اسرائیل کی میزبانی میں مذاکرات منعقد ہو رہے ہیں، جن میں عرب ملکوں کے نمائندگان کی شرکت بھی متوقع ہے۔ایک اسرائیلی اہلکار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ستائیس مارچ سے شروع ہونے والے دو روزہ مذاکرات میں امریکا اور مصر کے علاوہ تین عرب ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کر رہے ہیں۔ اسرائیلی اہلکار کے مطابق مصری وزیر خارجہ سامع شکری اور ان کے امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سمیت متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔یہ دو روزہ مذاکرات یوکرین پر روس کے حملے کے پس منظر میں منعقد ہو رہے ہیں، جس کے سبب سکیورٹی کے وسیع تر خدشات سامنے آئے ہیں اور تیل اور خوراک کی قیمتوں میں بے انتہا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت ایران کے ساتھ مغربی ممالک کی مکالمت بھی جاری ہے اور سن 2015 کا جوہری معاہدہ بحالی کے قریب ہے، جس کے بدلے میں تہران حکومت کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کیا جانا ہے۔اسرائیل میں یہ دو روزہ مذاکرات اتوار سے شروع ہو ں گے۔ اسرائیل نے جمعے کو اعلان کیا کہ اس تاریخی اجلاس میں پہلی بار امارات اور مراکش کے وزرائے خارجہ اسرائیل کا عوامی سطح پر دورہ کریں گے۔ بعد ازاں منگل کو بحیرہ احمر کے تفریحی مقام شرم الشیخ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی، اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد ابو ظہبی کے شہزادہ محمد بن زید النہیان ایک سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔مصر پہلا عرب ملک تھا جس نے کئی دہائیوں کی دشمنی اور تنازعات کے بعد 1979 ء￿ میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا۔ اردن نے 1994 میں اس کی پیروی کی۔ متحدہ عرب امارات نے سن 2020 میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے ،جسے ’معاہدۂ ابراہیم‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ امریکی ثالثی کے نتیجے میں ہوا۔ بحرین اور مراکش نے اس کی پیروی کی، جب کہ سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر رضامندی ظاہر کی، حالانکہ اس نے ابھی تک کسی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی ہے۔

 

You may also like

Leave a Comment