دہلی:اسرائیلی سفارتخانہ کے باہر دھماکہ کے مقام پر مبینہ’ خط‘ دستیاب

نئی دہلی:ہندوستانی دارالحکومت دہلی میں واقع اسرائیلی سفارت خانہ کے باہر دھماکہ گرچہ چھوٹا تھا ، لیکن اس کے پیچھے کسی بڑی سازش کا مبینہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ مبینہ طورپر ایک نامعلوم دہشت گرد تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے ، لیکن سکیورٹی ایجنسیاں ابھی بھی اس کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ تاہم اسی دوران دھماکے کی جگہ سے ملنے والے خط میں لکھی گئی چیزوں سے بھی کچھ اشارے مل رہے ہیں۔ اس خط میں اس چھوٹے دھماکے کو’ ٹریلر ‘کے طور پرذکر کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 2012 میں اسرائیلی سفارت خانہ کی گاڑی کو دہلی میں نشانہ بنایا گیا تھا ، اس وقت تحقیقات میں ایرانی ایجنسیوں کی شمولیت کا پتہ چلا تھا۔ٹائمز آف انڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تفتیش کاروں کو دھماکے کی جگہ سے ایک لفافہ اور خط موصول ہوا ہے۔ دہلی پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ خط میں دھماکہ کو’ ٹریلر‘ بتایا گیا ہے۔ خط میں پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ حکام جنرل قاسم سلیمانی اور ایرانی جوہری سائنسدان محسن فخری زادے کے قتل کا ذکربھی ہے۔خیال رہے کہ قاسم سلیمانی جنوری 2020 میں امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہوا تھا جبکہ نومبر 2020 میں تہران کے نواح میں جوہری سائنسداں محسن فخرزادے کا قتل کا الزام اسرائیل پر عائدکیا جاتا ہے ۔اسرائیلی سفارتخانہ کے باہر ملے خط میں لکھا گیا ہے ،یہ ایک ٹریلر ہے ، ہم آپ کی زندگی کو ، کبھی بھی ، کہیں بھی ختم کرسکتے ہیں۔موقع پر موجود سی سی ٹی وی فوٹیج سے ظاہر ہوتا کہ ایک ٹیکسی میں دو افراد سفارت خانے کے قریب موجود تھے۔ تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان افراد کا دھماکے میں کوئی کردار ہے یا نہیں۔ دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے متعلقہ ٹیکسی ڈرائیور سے رابطہ کیا اور دونوں افراد کے بارے میں دریافت کیا۔ پولیس ٹیکسی ڈرائیور سے ان پٹ کی بنیاد پر دونوں افراد کی تصاویر نکال رہی ہے۔