اسقاط حمل جائز یا ناجائز؟ ـ عبداللہ ممتاز

 

دنیا کو "تہذیب اور آئین” سکھانے والے ملک متحدہ امریکہ میں قرار حمل کے بعد 24-28 ہفتوں (چھ سے سات ماہ) تک اسقاط حمل کی اجازت ہےـ

اس وقت امریکی عدالت عظمی میں یہ مسئلہ زیر غور ہے، نو ججز کے بنچ میں سے اکثریت کی رائے یہ ہے کہ اسقاط حمل پر بندش لگنا چاہیےـ فیصلہ آنا ابھی باقی ہے؛ لیکن ججز کے رجحان کسی طرح لیک ہوگئے ہیں، اس لیے Pro-choice اور Pro-life دو قسم کے لوگوں کی طرف سے حمایت ومخالفت میں شدید قسم کا رد عمل سامنے آنے لگا ہے،Pro-life اسقاط حمل کے سخت خلاف ہے، جب کہ Pro-choice کا نظریہ "میرا جسم میری مرضی” ہے کہ خواتین چاہے تو اپنے پیٹ میں بچے کو پرورش پانے دے یا پھر اسے قبل از پیدائش مار ڈالےـ

مذہب اسلام نے ڈیڑھ ہزار سال قبل جس مسئلے کو بڑی خوش اسلوبی اور اعتدال کے ساتھ سلجھا دیا تھا، دنیا کا ترقی یافتہ اور تہذیب وآئین انفرادی آزادی کا علم بردار ملک آج بھی اس میں ٹھوکریں کھا رہا ہےـ بچہ پانی، خون، گوشت وغیرہ مراحل سے گزرتے ہوے چارہ ماہ (ایک سو بیس روز) بعد وہ مکمل انسانی ڈھانچہ کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور اس میں جان ڈال دی جاتی ہے، اس لیے چار ماہ کی تکمیل سے پہلے تک کسی عذر (مثلا عورت کی صحت، دو بچوں کی ولادت کے درمیان مناسب فاصلہ وغیرہ) کی وجہ سے اسقاط حمل کی اجازت ہے؛ لیکن عام حالات میں یا "رزق” کے خوف سے اسقاط حمل جائز نہیں ہےـ

کسی زمانے میں "رزق” کا مطلب کھانا پینا ہوتا تھا، آج مہنگا "ایجوکیشن” اور ناقابل برداشت "میڈیکل” کا بار بھی "رزق” میں شامل ہوچکا ہےـ

آج دنیا بھر میں جو بچے اپنی آنکھیں کھولنے سے قبل رحم مادر میں ہی قتل کر دیے جاتے ہیں وہ ان ہی دو وجہوں سے قتل کیے جاتے ہیں. یا تو "رزق” (یعنی تعلیم اور میڈیکل کا خرچہ) یا پھر "لڑکی” ہونے کی وجہ سےـ قرآن نے ڈیڑھ ہزار سال قبل اس کا ذکر کیا ہےـ

1. وَلَا تَقْتُلُوٓاْ أَوْلَٰدَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَٰقٍۢ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ۚ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْـًٔا كَبِيرًا. (الإسراء/31)

کہ اپنے بچوں کہ "تنگ دستی” کے خوف سے قتل نہ کرق، ہم انھیں بھی رزق دیں گے جیسے تمھیں رزق دیتے ہیں ـ یقینا ان کا قتل سنگین گناہ ہے.

2. وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ، بِأيّ ذَنْبٍ قُتلَت. (التكوير/8-9) جب زندہ درگور کی جانے والی لڑکیوں سے (روز قیامت) پوچھا جائے گا کہ کس جرم میں تمھیں قتل کردیا گیاـ

 

امریکی عدالت عظمی کے فیصلے کا گو انتظار ہے؛ لیکن اکثر ججز کا رجحان سامنے آچکا ہے کہ وہ اسقاط حمل پر بندش لگائیں گےـ اس کی بظاہر ایک وجہ مجھے یہ سمجھ میں آتی ہے کہ پاپولیشن کنٹرول کرنے کے لیے ایجوکیشن سسٹم کے ذریعہ پوری نسل کا ذہن جس طرح خراب کردیا گیا ہے کہ "ترقی یافتہ” ممالک اپنی گرتی ہوئی پاپولیشن کی وجہ سے سخت بے چین ہیں، وہ اپنی پاپولیشن بڑھانے کے لیے اب سارے ممکنہ تدابیر کرنے لگے ہیں؛ لیکن "ترقی پذیر” ممالک کی سمجھ میں اب تک یہ بات نہیں آرہی ہے، انھیں لگتا ہے کہ ان کی اکونومی بڑھتی پوپولیشن کی وجہ سے grow نہیں کر رہی ہے، جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، پڑوسی ملک بنگلہ دیش کو وجود میں آئے صرف نصف صدی کا عرصہ گزرا ہے، رقبے کے اعتبار سے ان کی پاپولیشن بہت زیادہ سمجھی جاتی ہے، ہندو پاک کی طرح وہ بہت زیادہ قدرتی وسائل سے مالامال بھی نہیں ہے؛ لیکن یہی "پاپولیشن” ان کی اتنی بڑی طاقت ہے کہ آج وہ اپنے Main power کی وجہ سے ان کی اکونومی پاکستان کو پیچھے چھوڑ کر اب ہندوستان کا منہ چڑا رہا ہےـ بنگلہ دیش کی per capita income ہندوستان سے آگے نکل چکی ہےـ خدا کرے انفرادی سطح پر بھی ہمیں بات سمجھ آئےـ