اسلامک فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام خواتین کے حقوق اور ذمے داریوں پر دو روزہ ورکشاپ

 

نئی دہلی: اسلام سے پہلے خواتین کو کسی قسم کا کوئی حق حاصل نہیں تھا، مردوں کی خدمت کرنا اور ان کی ہوس پورا کرنا ہی عورت کا کام تھا، اسے منحوس اور گناہ کا دروازہ سمجھا جاتا تھا، اسلام نے عورتوں کو قریب قریب مردوں کے برابر حقوق دئیے، حقوق زیادہ عورتوں کے رکھے اور ذمہ داریاں زیادہ مردوں کی مقرر کیں؛ البتہ یہ بات افسوسناک ہے کہ شریعت میں خواتین کو جو حقوق دئیے گئے ہیں، مسلم سماج میں بھی دین سے دوری اور خدا ناترسی کی بناء پر بہت سی دفعہ وہ ان حقوق سے محروم کر دی جاتی ہیں، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے کانفرنس ہال میں ’’ خواتین کے حقوق پر‘‘ دو روزہ ورکشاپ ہوا، جس میں اسلامی تعلیمات اور موجودہ عالمی حقوق سے متعلق منشور کا جائزہ لیتے ہوئے مقررین نے ان خیالات کا اظہار کیا ، یہ ورکشاپ ۲۸؍۲۹؍ نومبر۲۰۲۰ء روزہ ہفتہ اتوار کو منعقد ہوا، پہلی نشست کی صدارات ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی اور دوسری نشست کی صدارت ڈاکٹر محمد مشتاق تجاروی (استاذ شعبہ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے کی، اور اکیڈمی کے شعبۂ علمی کے رفیق مفتی احمد نادر قاسمی نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔
اس موقع پر آن لائن خطاب کرتے ہوئے اکیڈمی کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ معاشرہ میں بنیادی طور پر عورت کے تین روپ ہوتے ہیں، ماں، بیوی اور بہن، اور تینوں حیثیتوں سے اسلام میں عورت کو عزت دی گئی ہے؛ بلکہ ان کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا گیا ہے، مغرب نے عورتوں کی آزادی کے نام پر عورت پر کسبِ معاش اور محنت مزدوری کی ذمہ داری رکھ دی، جس کی وجہ سے خاندانی نظام بکھر گیا اور عورتوں کو اس سے سخت نقصان پہنچا، مولانا رحمانی نے کہا کہ اکیڈمی نے ہمیشہ خواتین کے حقوق اور مسائل پر خصوصی توجہ دی ہے ، اس نے متعدد سیمینار اسی سے مربوط مسائل پر منعقد کئے ہیں، اور موجودہ دور میں خواتین کو درپیش مسائل کو حل کرنے پر توجہ دی ہے۔
ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے اپنے مقالہ میں دنیا کی دیگر تہذیبوں اور مذاہب میں خواتین کو دیے جانے والے حقوق اور شریعت اسلامی نے انہیں جو حقوق دئیے ہیں، اس کا تقابلی جائزہ لیا، اور بتایا کہ موجودہ دور میں مرتب ہونے والے قوانین، عورتوں کے حقوق کے معاملہ میں ابھی بھی اسلام سے پیچھے ہیں، ڈاکٹر مشتاق احمد تجاروی نے کہا کہ اسلام نے نہ صرف خواتین کے بنیادی حقوق کی پاسداری کی ہے؛ بلکہ معاشرہ میں انہیں باوقار مقام عطا کیا ہے، زمانۂ جاہلیت ہی میں نہیں؛ بلکہ اب بھی کئی جگہوں پر لڑکیوں کو بعض لوگ زندہ درگور کر دیتے ہیں، ڈاکٹر صفدر زبیر ندوی انچارج شعبہ علمی امور اکیڈمی نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق منشور کی دفعہ ۱۶؍ پر تفصیل سے گفتگو کی، جو شادی سے متعلق ہے، اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا، مفتی احمد نادر قاسمی رفیق شعبۂ علمی نے ملازمت اور کسبِ معاش کی جدوجہد میں خواتین کی شرکت سے متعلق اسلامی نقطۂ نظر کو پیش کیا، اور شرعی حدود کی وضاحت کی، نیز مختلف مقاصد کے تحت خواتین کے سفر کے سلسلہ میں شرعی ہدایات کو واضح کیا، مفتی امتیاز احمد قاسمی رفیق شعبۂ علمی نے اکیڈمی اور بالخصوص اکیڈمی کے سکریٹری برائے سیمینار مولانا عبیدا اللہ اسعدی صاحب کی طرف سے شکریہ ادا کیا، اس دو روزہ پروگرام میں شرکاء کے درمیان تین اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کا موقع بھی فراہم کیا گیا، اور وہ ہے، ’’ مہر کی حیثیت، حق زوجیت اخلاقی حق ہے یا قانونی؟ اور چہرہ پردہ میں شامل ہے یا نہیں؟ ‘‘ اس دو روزہ تربیتی پروگرام میں دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ ، مظاہر علوم سہارنپور، جامعہ اسلامیہ سنابل دہلی، جامعہ ابن تیمیہ جمپارن( بہار) المعہد العالی پٹنہ، مدرسہ سبیل السلام دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، دہلی یونیورسیٹی اور معہد التخصص فی اللغۃ العربیہ کے فضلاء اور اسکالرس نے شرکت کی، پروگرام کے اخیر میں مولانا عدنان ندوی، مولانا سعد مذکر ندوی، ڈاکٹر جسیم الدین قاسمی اور مولانا فیروز اختر قاسمی نے تأثرات پیش کئے، مولانا انیس اسلم مفتاحی انچارج انتظامی امور نے انتظام کی نگرانی کی۔