اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری مولانا امین احمد عثمانی کا انتقال بڑا ملی خسارہ: مولانا ولی رحمانی

پٹنہ: ملک کی مشہور و معروف فقہی تنظیم اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے سکریٹری مولانا امین کے انتقال پر اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی نے کہا کہ مولانا امین عثمانی صاحب تنظیمی صلاحیتوں میں ممتازاور منصوبہ بندی کی باریکیوں سے واقف عالم دین تھے ، اسلامک فقہ اکیڈمی کی نشو و نما اور اس کوعالمی سطح پر متعارف کرانے میں ان کا نمایاں کردار رہا ہے ، ان کے انتقال سے فقہ اکیڈمی انڈیا کابڑا نقصان ہوا ہے ، ان کی خدمات لمبے وقت تک یاد کی جاتی رہیں گی۔امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مولاناعثمانی اسلامک فقہ اکیڈمی کے روح رواں اور اس کا اہم ترین دماغ تھے ، اعلیٰ درجے کے منتظم ، نام ونمود سے دور، کام سے کام رکھنے والے انسان تھے ۔فقہی موضوعات پر انہیں خصوصی عبور حاصل تھا، وہ پہلے درس و تدریس سے جڑے ہوئے تھے، بعد میںفقہ اکیڈمی سے وابستہ ہوئے اور آخری دم تک اس کوپروان چڑھانے میں اپنی بھرپور علمی،فکری، عملی اور انتظامی صلاحیتوں کو خرچ کرتے رہے ، فقہ اکیڈمی کے نظم و انتظام اور اس کے فقہی سمیناروں کے انعقاد میں ان کا کلیدی رول ہوتا تھا، وہ بڑی خوبیوں کے مالک تھے،امارت شرعیہ سے ان کی گہری اور قدیم وابستگی تھی۔ ان کی کمی طویل مدت تک محسوس کی جاتی رہے گی۔امارت شرعیہ کے دیگر ذمہ داران و کارکنان نے بھی امارت شرعیہ میں منعقد تعزیتی نشست میں ان کے انتقال پر اپنے رنج و غم کا اظہار کیا ۔