اسلامی غیرت اور دینی حمیت کی حدود ـ مسعود جاوید

اسلامی ممالک ہوں یا جمہوری،دونوں میں ریاست (ملک اور اس کے، مقننہ، عدلیہ اور تنفیذی ادارے یعنی حکومت) اور فرد یعنی شہری اور مقیم عارضی ہو یا مستقل، ہر ایک کے حقوق ، ذمے داریاں اور دائرۂ اختیار طے ہوتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو ملک میں ہر طرف افرا تفری، انتشار اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس جیسی حالت ہوگی۔
پچھلے کئی سالوں سے ہمارے یہاں ماب لنچنگ کے افسوسناک واقعات ہوئے جن میں ملزم کو ہجوم نے مجرم قرار دے کر قتل کر دیا،بالفاظ دگر ہجوم خود عدالت بنا اور ملزم کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزاے موت کا فیصلہ سنایا اور خود ہی اس فیصلے کو نافذ کرتے ہوئے قتل کر دیا۔ ان واقعات کی نہ صرف ہم متاثرین بلکہ مہذب دنیا کے بیشتر انصاف پسند لوگوں نے مذمت کی۔ اس مذمت کی وجہ یہی ہے کہ جو کام ریاست کا ہے اسے ریاست نے نہیں فرد یا افراد نے انجام دیا۔ کبھی ماب جسٹس، آن دی اسپاٹ جسٹس اور ماب لنچنگ کے نام پر۔ جذباتی دنیا میں رابن ہڈ کے کردار کی ستائش اور بعض رشوت خور پولیس اور ججز افسران سے تنگ آکر فلموں کے ہیرو اس طرح کے انصاف اور سزا کے کردار ادا کرتے ہیں سینما گھروں میں تالیوں کی گونج رکتی نہیں ہے۔ مگر بالآخر ہم سینما کے کردار نہیں ہیں انتظامیہ پولیس اور عدلیہ کی بعض خامیوں کے باوجود بحیثیت ذمہ دار شہری ہم سسٹم سے الگ نہیں رہ سکتے۔
قرآن مجید وحی کے ذریعے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ کلام الٰہی کتاب کی شکل میں بغیر کمی یا زیادتی کے ہم خوش نصیبوں تک پہنچا ہے اور پوری دنیا میں اسی ترتیب کے ساتھ پچھلے چودہ سو سال سے موجود ہے۔ وہ مقدس کتاب ہم مسلمانان عالم کے لئے جان سے زیادہ عزیز ہے۔ اس کی اہانت اس پر فتنہ انگیز اعتراض کسی بھی صورت میں ناقابل برداشت ہے۔ جہاں تک علمی نوعیت کے اعتراضات کا تعلق ہے ان کے کافی و شافی جوابات دیے جاتے رہے ہیں اور مختلف زبانوں میں کتابچوں کی شکل میں مہیا ہیں۔
تاہم کچھ فتنہ پرور ہر دور میں بعض آیات پر اعتراض کرتے ہیں ان میں سے ہی ایک وسیم رضوی ہے لیکن دوسروں کے مقابل اس کی خباثت زیادہ اس لیے ہے کہ اس نے شیعہ سنی کے مابین انتشار پیدا کرنے کے لیے خلفاے راشدین میں سے پہلے تین خلفا ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمان غنی رضوان اللہ علیہم اجمعین پر الزام بھی لگایا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے ان ٢٤ آیتوں کا اضافہ کرایا اور عثمان رضی اللہ عنہ نے اسی کو مصحف کی شکل میں ترتیب دیا۔ اس خبیث کو اس پر بھی اعتراض ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کو ان تینوں نے جامع قرآن کا اہل کیوں نہیں سمجھا۔ اس سے اس کی فتنہ پرور ذہنیت اور شیعہ سنی انتشار کا مقصد واضح ہوتا ہے۔
لیکن ان تینوں خلفاے راشدین کے بعد علی رضی اللہ عنہ کا دور آتا ہے اگر قرآن مجید میں انسانی کلام ابوبکر اور عمر رض نے(نعوذباللہ) اضافہ کرایا تو علی رض اپنے دور خلافت میں تصحیح کیوں نہیں کی ؟ اس کے بعد سے آج تک مصحف اسی شکل اور ترتیب میں ہے کسی بھی دور میں کسی کو اس کی تصحیح کی ضرورت سمجھ میں نہیں آئی سوائے اس ملعون کے !
جہاں تک اس ملعون یا کسی اور دریدہ دہن خبیث صفت انسان کا قرآن مجید کے بارے میں گستاخی یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں اہانت کا تعلق ہے تو اقل درجہ کا مسلمان بھی اسے برداشت نہیں کرتا ہے اور یہ قابل ستائش دینی غیرت و حمیت کا مظہر ہے۔
تاہم ذاتی طور پر غیض وغضب اور رنج وغم کے باوجود ایسی صورتحال میں ہمارے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں اس لیے کہ بحیثیت مہذب سماج کے فرد اور ملک کے ذمے دار شہری ہم ملک کے قوانین کے پابند ہیں۔ اس لیے ماضی کا ملعون سلمان رشدی ہو حال کا ملعون وسیم رضوی ہو یا مستقبل میں کوئی اور، ملک کے قوانین اور مہذب دنیا کے آداب ہم سے متقاضی ہے کہ ہم کسی کے خلاف تشدد کا استعمال نہ کریں کسی کے سرقلم کرنے کے لیے،انعام کے عوض یا دینی حمیت کے نام پر ، لوگوں کو نہ اکسائیں۔ یہ اسلامی شریعت اور ملک کے قانون کے خلاف ہے۔
پاکستان میں ناموس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دفاع کرنے والوں اور صحابۂ کرام کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے درمیان خونی تصادم ہوتا رہتا ہے اور متعدد معصوم لوگ موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں۔ یہ سب اسی لیے ہوتا ہے کہ قانون کا دبدبہ باقی نہیں رہا ہر فرقہ کے متعصب فتنہ پرور افراد قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور خود ہی داروغہ، منصف اور جلاد کا کردار ادا کرتے ہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)