اسلامی (غیر سودی )بینکنگ:مختصر تعارف اور ضرورتیں-محمد رضی الرحمن قاسمی

اسلام ایک مکمل دین اور کامل نظام حیات ہے، اس کی تعلیمات زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے، جس طرح اس نے اعتقاد، عبادت اور اخلاقی مسائل میں ہماری رہنمائی کی ہے، اسی طرح اقتصادی اور معاشی مسائل میں بھی ہماری رہنمائی کی ہے اور ایسے اصول و ضوابط دیے ہیں، جو تیز رفتار ترقی کے دور میں بھی نت نئے پیدا ہونے والے اقتصادی اور معاشی مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک عرصے سے مغربی استعمار نے عالم اسلام اور مسلمانوں پر اپنا معاشی نظام مسلط کر رکھا ہے، جس نظام کی بنیاد ہی ربا(سود)، قمار(جوا) اور غرر(دھوکہ) اور ان جیسی دوسری خرابیوں پر ہے، جو اسلام کی اقتصادی اور معاشی تعلیمات اور ضوابط کے سراسر منافی اور عمومی تقاضۂ عدل کے سراسر مخالف ہے۔
عرصۂ دراز تک اسی غیر عادلانہ نظام کے تحت زندگی گزارنے کے بعد ادھر چند دہائیوں سے عالم اسلام اور مسلمانوں میں اس تعلق سے بیداری آئی ہے اور باضابطہ کوششیں شروع ہوئی ہیں کہ معاشی و اقتصادی سرگرمیاں بھی اسلامی تعلیمات اور عدل کے تقاضوں کے مطابق انجام دی جائیں اور معاشی نظام کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے۔
اس سلسلے میں جو سب سے زیادہ نمایاں کام ہوا ہے، وہ اسلامی بینکوں کا قیام ہے، محدود ذمے داریوں اور صلاحیتوں کے ساتھ بعض مقامات پر 1976ء سے پہلے بھی غیر سودی سوسائیٹیاں قائم کی گئی تھیں، مگر سب سے پہلے وسیع اور منظم طور پر اسلامک بینکنگ کا تجربہ 1976ء میں کیا گیااور اب تو ماشاءاللہ ان بینکوں کی ایک بڑی تعداد ہو گئی ہے، جن میں اسلامی بینکاری کا نظام نافذ ہے؛ البتہ ایسے بینکوں کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ بینک، جن کی بنیاد ہی اسلامی اقتصادی قانون کے مطابق ان کے پورے نظام اور سسٹم کو چلانے کے لئے پڑی ہے۔ دوسرے وہ مغربی اور بعض مشرقی ملکوں کے بینک ہیں، جو اصلاً سودی نظام کے مطابق چلانے کے لئے قائم کئے گئے تھے؛ لیکن بعد میں ان کو اسلامک بینکنگ نظام کے تحت کلی یا جزوی طور پر کر دیا گیا ہے، کلی طور پر کئے جانے کا مفہوم تو واضح ہے کہ پورے سسٹم کو اسلامی اقتصادی نظام کے مطابق بدل دیا گیا؛ البتہ جزوی تبدیلی کا مفہوم یہ ہے کہ ایک ہی بینک سودی نظام (جس پر اس کی بنیاد رکھی گئی ہے) کے ساتھ، متوازی طور پر غیر سودی (اسلامی اقتصادی ) نظام کے مطابق بھی کام کر کر رہا ہے، اور اس نے اپنے عمومی نظام میں "اسلامک بینکنگ کے ونڈوز” کھول لئے ہیں۔
اسلامی بینکنگ کا تجربہ اب تک کس حد تک مفید ثابت ہوا ہے؟ اسلامی بینکوں کی کمزوریاں کیا ہیں؟ ان کی مجبوریاں اور ضرورتیں کیا ہیں؟ ان سوالوں کے جواب سے پہلے مناسب ہے کہ اسلامی (غیر سودی)بینکوں اور مروجہ سودی بینکوں کے کام میں جو سب سے بنیادی فرق ہے، اسے ہم جان لیں۔ اس کی تھوڑی سی تفصیل یہ ہے کہ کہ بینکوں کے لئے سرمایہ کاری ایک ناگزیر ضرورت ہے، اسی پر اس کی بقاء اور ترقی کا مدار ہے؛ لیکن اسلامی شریعت میں خود (اصل) کرنسی کی سرمایہ کاری کے لئے کوئی مخصوص عقد نہیں ہے۔ یعنی اسلام نے کرنسی اور پیسوں ہی کو اصل مال تجارت بنا کر دیگر اموال کی طرح نفع نقصان کے ساتھ خرید و فروخت سے سے منع کیا ہے؛ اس لئے کہ یہی ربا (سود) ہے، ادھار، بیع، سلم، اجارہ، شرکت وغیرہ وہ عقود و معاملات ہیں، جن کے ضمن میں حقیقی مبادلہ کے تابع ہو کر کر نسی کی سرمایہ کاری ہوتی ہے، چنانچہ یہ ممکن نہیں ہے کہ اسلامی بینکوں میں جمع کی جانے والی رقم سے (بذات خود) اس کے مالک کو نفع حاصل ہو، جب کہ اس رقم کو مذکورہ عقود و معاملات میں استعمال نہ کیا جائے، اس کے برعکس سودی بینکوں میں کرنسی کی کرنسی سے سے نفع و نقصان کے ساتھ خرید و فروخت ہوتی ہے؛ بلکہ وہی بینک کا بنیادی بزنس ہوتا ہے، چنانچہ ان بینکوں میں جمع کی جانے والی اصل رقم سے اس کے مالک کو نفع ہوتا رہتا ہے، اس سے قطع نظر کہ وہ رقم بذات خود مذکورہ عقود و معاملات میں استعمال ہورہی ہے یا نہیں؟
اسلامی بینکنگ کے تجربے کو تقریبا پینتالیس سال ہونے کو ہیں، اس جیسے کاموں کے لئے اس عرصہ کو ایک طویل مدت نہیں کہا جا سکتا ہے؛ لیکن یہ تجربہ کس حد تک مفید رہا اور مفید ہو سکتا ہے، اسے جاننے کے لئے یہ کوئی مختصر مدت بھی نہیں ہے، بعض خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ دینی اور اقتصادی دونوں اعتبار سے یہ تجربہ نہایت ہی مفید رہا ہے، چنانچہ اس نے سودی نظام کا ایک بدل پیش کیا ہے، اور مسلمانوں کے لئے سود کی لعنت سے بچنے کی راہ فراہم کی ہے، اور معاشی نظام کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کے سلسلے میں بیداری پیدا کی ہے، یہ تو دینی اعتبار سے اس کی افادیت ہے۔
اسلامی بینکنگ نے کسی حد تک زکوۃ کے نظام کو بحال کیا ہے، جس سے سوسائٹی کو بڑا نفع پہنچ رہا ہے، اس نے زراعت وغیرہ جیسے مفید میدان میں سرمایہ کاری کی ہے ، اور اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری اور نفع و نقصان کے واضح حساب کتاب کے ذریعے دنیا کے سامنے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اسلامی بینکوں میں رقم جمع کرنے والے سودی بینکوں میں رقم جمع کرنے والے لوگوں سے زیادہ سالانہ نفع پا رہے ہیں، یہ مذکورہ تفصیلات انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس نظام کی معاشی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے بقول اتنے عرصے میں اس نظام نے جس حد تک کامیابی حاصل کی ہے، اتنی کامیابی سودی بینکوں نے اپنی شروعات میں اتنے عرصے میں نہیں حاصل کی تھی؛ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلامی بینکنگ میں اب تک کچھ کمزوریوں اور خامیوں پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے، جن پر قابو پا لیا جائے، تو یہ نظام مزید مفید اور بہتر ہو جائے گا، مثلا ً ایک بنیادی بات یہ طے کرنی ہوتی ہے کہ سرمایہ کاری کن میدانوں میں کی جائے؟ اور کس طرح کی جائے؟ اس بابت ایک ٹھوس اور عمدہ لائحہ عمل اب تک تیار نہیں ہو سکا ہے۔ چنانچہ زراعتی سیکٹر اور صنعتی شعبوں میں جتنی سرمایہ کاری کی صلاحیت اسلامی بینکوں میں ہے، اتنی سرمایہ کاری ان شعبوں میں نہیں ہو پا رہی ہے، جس کی وجہ سے سے عالم اسلام اور مسلم ممالک اب بھی ان اہم شعبوں میں دوسروں کی مدد کے محتاج رہتے ہیں۔
تعلیم اور صحت جیسے انسانی ترقی کے شعبوں میں بھی کوئی بہت زیادہ نمایاں کردار اسلامی بینکوں کی طرف سے ادا نہیں ہو رہا ہے، یہ بھی صحیح ہے کہ بعض بہت زیادہ حساس اور نفع بخش سیکٹروں میں سیاسی اغراض و مقاصد کی خاطر اسے سرمایہ کاری کی اجازت نہیں مل رہی ہے۔
ان خامیوں، کمزوریوں اور مجبوریوں کے اسباب پر غور کرنے سے دو بنیادی باتیں سامنے آتی ہیں: ایک تو یہ کہ اسلامی بینکاری؛ بلکہ پورا اسلامی اور عادلانہ اقتصادی نظام فرد، سماج اور حکومتوں سے جس توجہ اور دلچسپی کا طالب ہے، وہ توجہ اسے نہیں مل پا رہی ہے۔
دوسرے یہ کہ اس نظام کے پاس صحیح افراد کار کی کمی اور قلت ہے اس لئے کہ جو افراد بینکنگ کے ماہرین ہیں، انہیں اسلامی معاشی تعلیمات سے مکمل آگہی نہیں ہے اور اس موضوع پر گہری بصیرت نہیں رکھتےہیں، اور جو اسلامی اقتصادیات کے ماہرین ہیں، ان کو مروجہ بینکنگ اور فائنانشیل سسٹم کے سلسلے میں مکمل اور صحیح واقفیت نہیں ہے، ایسے افراد بہت ہی کم ہیں، جنہیں مروجہ بینکنگ اور فائنانشیل سسٹم اور اسلام کے معاشی اصول و ضوابط دونوں سے خوب آگہی ہو اور دونوں میں اچھی بصیرت حاصل ہو ۔
نتیجہ کے طور پر بہت سارے اہم شعبوں میں ناقص سرمایہ کاری ہورہی ہے، اور بہت سارے اہم شعبوں میں اب تک سرمایہ کاری اس وجہ سے نہیں ہو سکی ہے کہ یہ طے نہیں ہوسکا کہ کس طرح سرمایہ کاری کی جائے؟ جو اسلامی معاشی اصول کے مطابق بھی ہو اور اقتصادی اعتبار سے مفید بھی۔ اس لئے اسلامی بینکوں کی اس وقت سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ ایسے ادارے قائم کئے جائیں، جو بینکنگ سسٹم اور اسلامی معاشی اصول و ضوابط دونوں کی تعلیم دیتے ہوں اور اس میں ایسے شعبے بھی ہوں کہ ایک کے ماہرین کو دوسرے موضوع کی تعلیم دی جا سکے۔
اس ضرورت کی تکمیل کے لئے ملیشیا، سوڈان اور بعض عرب ممالک نے پیش رفت کی ہے اور ہندو پاک میں بھی محدود پیمانے پر اس میدان میں کچھ ہو رہا ہے؛ لیکن ہنوز اس پر مزید خصوصی توجہ کی، بالخصوص مسلم تنظیموں، بڑے اداروں اور مسلم ملکوں کی حکومتوں کی طرف سے توجہ کی ضرورت ہے۔
ابتدا میں یہ بات ذکر کی گئی تھی کہ کئی مغربی ملکوں میں اور بعض مشرقی ملکوں میں آج کل یہ ہو رہا ہے کہ بینکوں کے مالکان اپنے مروّجہ سودی بینکوں میں اسلامک بینکنگ کے ونڈوز قائم کر رہے ہیں۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے ہے کہ غیر مسلم ممالک کا یہ عمل اس مقصد کے لئے تو یقینا نہیں ہے کہ وہ بینکنگ اور اقتصادی نظام کو اسلامی اصول و ضوابط کے مطابق فروغ دینا چاہ رہے ہیں۔
پھر ان کا مقصد کیا ہے ؟ مسلم ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ بنیادی طور پر ایسے بینک تین مقاصد میں سے کسی ایک، دو یا تینوں مقاصد کے لئے اسلامی بینکاری اور اقتصادی سسٹم کو اپنے بینکوں میں نافذ کر رہے ہیں، وہ مقاصد یہ ہیں:
١. عالم اسلام، مسلم ملکوں اور مسلمانوں کے سرمائے کو اپنے دامن میں سمیٹ کر اور پنے پاس مرتکز کر کے اس کی مادی قوت کو استعمال کرنا اور اس ذریعہ سے معاشی فائدہ حاصل کرنا اور بس۔ جیسا کہ بعض بینکوں کے طرز عمل سے محسوس ہوتا ہے۔
٢. وہ لوگ بینکنگ نظام کو زیادہ بہتر طور پر جانتے اور سمجھتے ہیں، اور اسلامی بینکنگ سسٹم اور فائنانشیل سسٹم معاشی اعتبار سے بھی زیادہ نفع بخش اور مالی مصلحتوں کو دوسرے نظام کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے پر پورا کرنے والا ہے؛ اسی لئے انہوں نے اپنے بینکوں میں اس نظام کو بھی نافذ کیا ہے۔
٣. اسلامی اقتصادی نظام -جس کو پھر سے فروغ دینے کی کوشش شروع کی گئی ہے- میں خلل پیدا کرنا اور اس میں الجھاؤ اور پیچیدگی پیدا کر کے دوبارہ سودی معاشی نظام کو مسلط کرنا ہے ۔
بہرحال مقصد خواہ کچھ بھی ہو، غیر مسلم ملکوں کے بینکوں میں اور مسلم ملکوں میں قائم شدہ غیر مسلم ممالک کے بینکوں میں اسلامی بینکنگ کے ونڈوز قائم ہو رہے ہیں اور بڑی تیزی سے ہو رہے ہیں، ہم یہ تو کر نہیں سکتے ہیں کہ انہیں روک دیں یا روکنے کی کوشش کریں، کہ یہ ایک نامناسب کاوش اور حرکت ہوگی؛ کیوں کہ اسلامی اصول و قوانین عالمگیر ہیں اور ساری دنیا کے لئے ہیں، جو بھی اس سے استفادہ کرنا چاہے۔
لیکن قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ جن کا مقصد اچھا نہیں ہے، ان کے ضرر سے اپنی حفاظت کس طرح کی جائے؟ اور ایسے احوال میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ان بینکوں کے کام پر گہری نگاہ رکھیں کہ وہ اسلامی معاشی اصول و قوانین کی رعایت کر رہے ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں کریں تو ہم اعلانیہ لوگوں کو بتائیں کہ فلاں بینک اپنے کو اسلامی بینکنگ نظام کے موافق چلنے والا بینک کہتا ہے، مگر یہ بات غلط ہے، اور اس کے اسباب بھی بیان کردیں۔
یہ حقیقت ہے کہ جن کا مقصد صحیح نہیں ہے، ان کے ضرر اور نقصان سے بچنے کی یہی صورت ہے؛ اس لئے کہ وہ کسی بھی طرح کا نقصان ہمیں اسی صورت میں پہنچا سکتے ہیں، جب کہ ظاہری لبادہ اسلامی بینکنگ کا ہو اور بباطن ایسا نہ ہو۔
معاشی اصلاح کے لئے اسلامی بینکنگ کے سلسلے میں جو کوششیں ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں، وہ قابل قدر ہیں۔ اور اگر اسلامی معاشی قوانین کے مطابق ہی یہ کام جاری رہے، تو ان شاءاللہ بہت جلد ہی یہ نظام پورے عالم میں پھیل جائے گا، اس لئے کہ اس نظام میں اعتدال و توازن ہے، اور عدل و انصاف ہے، اور یہ حقیقی سرمایہ کی بنیاد پر مبنی نظام ہے؛ لیکن پورے معاشی نظام کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لئے تنہا ان بینکوں ہی کا قیام کافی نہیں ہے؛ بلکہ ضرورت اور دوسرے اداروں کی ہے: جیسے زکوۃ اور وقف کے ادارے، انشورنس یعنی تکافل کے ادارے، شیئر مارکیٹ اور موچول فنڈ کے ادارے۔ اس طرح کے ادارے قائم ہوجائیں اور صحیح اسلامی اقتصادی نظام کے مطابق کام کریں، تو ان اداروں کے باہمی تعاون سے پورے معاشی نظام کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جاسکتا ہے، جس سے پوری انسانیت کو فائدہ پہنچے گا، اور عدل کے ساتھ معاشی نظام متوازن طور پر چلے گا اور چلتا رہے گا۔ بعض مسلم اور بعض سیکولر ملکوں میں ان اداروں کے قیام کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے، جو یقینا ایک خوش آئند بات ہے؛ لیکن اس کی طرف مزید خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ۔ ہر مسلمان کی شخصی اور سماجی طور پر ذمہ داری ہے کہ اس بات کی فکر کریں اور مسلم ملکوں کی حکومتوں کے لئے تو یہ فریضہ ہے کہ وہ اس پہلو سے خصوصی توجہ دیں اور پورے سسٹم کو اسلامی عادلانہ اقتصادی سسٹم میں ڈھالیں، اس کے لئے افراد اور ادارے تیار کریں؛ تاکہ اقتصادی اعتبار سے لوگوں کے درمیان عدل قائم ہو سکے اور ثروت و دولت منصفانہ انداز میں گردش میں رہے۔

( مضمون نگار اسلامیات و عربی زبان کے استاذ اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ مختلف علمی ،دینی و سماجی موضوعات پر ان کی تحریریں شائع ہوتی رہتی ہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*