اسلام مخالف طاقتوں سے کنارہ کش رہنے کی ضرورت-مولانا سید جلال الدین عمری

صدر شریعہ کونسل جماعت اسلامی ہند

آج دنیا میں یہ بات تسلیم کرلی گئی ہے کہ مذہب انسان کا نجی یا پرائیوٹ معاملہ ہے۔ کسی کا جی چاہے تو مذہب کو مانے اور نہ چاہے تو نہ مانے۔ کوئی اس پر عمل کرنا چاہے، عمل کرے اور کوئی عمل نہ کرنا چاہے، نہ کرے۔ اسی طرح جو شخص کسی مذہب کو مان رہا ہے اس کے جن طور طریقوں پر عمل کرنا چاہے، عمل کرے اور جن پر عمل نہ کرنا چاہے، نہ کرے۔ کسی کا جی چاہتا ہے کہ مسجد، مندر ،گردوارہ یا چرچ جائے تو چلا جائے ،جی نہ چاہتا ہوتو نہ جائے۔ ان سب معاملات میں وہ آزاد ہے۔اگر کوئی سمجھتا ہے کہ مذہب کو ماننے سے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے تو اختیار کرلے اور اگر کوئی شخص سمجھتاہے کہ یہ محض ایک رسم و رواج ہے تو اسے نہ اختیار کرے۔ مذہب کے بارے میں اس رویہ پر کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگوں کا مذہب سے اسی حد تک تعلق ہے کہ ان کے باپ دادا، اور خاندان کے لوگ ایک خاص مذہب کو مانتے تھے ۔ایک شخص ہندو ہے تو اس لیے ہندو ہے کہ اس کے باپ دادا ہندو تھے۔ ایک شخص عیسائی ہے، اس لیے کہ اس کے باپ دادا عیسائی تھے۔ ایک شخص سکھ دھرم کو مانتا ہے، اس لیے کہ اس کے باپ دادا اور بڑے لوگ سکھ دھرم کو مانتے تھے۔ اسی طرح بہت سے مسلمان بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہم اس لیے مسلمان ہیں کہ ہمارے ماں باپ کا اور ہمارے بزرگوں کا مذہب اسلام تھا۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ آدمی کسی مذہب کو ماننے کے باوجود،اس کے لازمی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ اس کی جن باتوں پر عمل کرنا چاہیے ان سے بے نیاز ہوتاہے۔ موجودہ دور میں زندگی کے اجتماعی معاملات میں مذہب کے عمل دخل کو درست نہیں سمجھاجاتا۔ اگر کوئی شخص کہے کہ ہمارے خاندانی مسائل ، ہمارے معاملات، ہماری تہذیب، ہماری سیاست اور ہماری معیشت و معاشرت کو بھی مذہب کے تابع ہونا چاہیے تو اس کی مخالفت کی جاتی ہے۔ اس طرح مذہب زندگی کے ایک چھوٹے سے دائرے میں سکڑ کر رہ گیاہے۔ اسلام کا اپنے ماننے والوں سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ اسلام میں پورے کے پورے آجائیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اور رسول پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی اسلام کے تابع ہوجائے۔ یہ بے معنی بات ہے کہ اسلام کو ماننے کے بعد آدمی اس کی کچھ چیزوں پر عمل کرے اور کچھ چیزوں پر عمل نہ کرے۔ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نماز روزے یا اوراد و وظائف کی حد تک اسلام کو مانتاہوں اس سے آگے نہیں تسلیم کرتا۔ یہ ایمان کے منافی بات ہے۔ اسلام کا مطالبہ ہے : یا ایھا الذین آمنو اادخلو ا فی السلم کافۃ ولا تتبعوا خطوات الشیطان انہ لکم عدو مبین وان زللتم من بعد ماجاء تکم البینت فاعلموا ان اللہ عزیز حکیم(البقرۃ:۲۸۔۲۹)’’اے ایمان لانے والو!تم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجائو اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آچکی ہیں اگر ان کو پالینے کے بعد پھر تم نے لغزش کھائی تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور دانا و حکیم ہے۔ اسلام کی حیثیت ایک محفوظ اور وسیع عمارت کی ہے۔ آدمی اس کے اندر آجائے، اس سے باہر نہ رہے۔ یہ بات غیر معقول ہوگی کہ آدمی کسی اصول و ضابطہ کو تسلیم کرے اور اس کے لازمی تقاضوں میں سے بعض پر عمل کرے اور بعض پر اس کا عمل نہ ہو۔ زندگی میں دوہی راستے ہیں۔ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے اور دوسرا وہ راستہ ہے جس پر شیاطین جن وانس چلانا چاہتے ہیں۔اس سے مراد خداکی باغی اور نافرمان طاقتیں ہیں۔ہر وہ طریقہ جو انسان کو اللہ کی ہدایت سے دور کردے وہ شیطان کا راستہ ہے۔ لیکن یہ بات ہمیں فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ شیطان دوست نہیں، دشمن ہے۔تمہارا خیر خواہ تو اللہ ہے۔ اللہ کے رسول ہیں۔ آگے ارشاد ہوا ہے کہ اس واضح ہدایت کے بعد بھی تم سیدھے راستے سے بھٹک گئے، یعنی دین میں پوری طرح نہیں آئے، بلکہ جن چیزوں کو پسند کیا ان پر عمل کرلیا اور جن چیزوں کو پسند نہیں کیاان پر عمل نہیں کیا۔ تو یاد رکھو کہ اللہ بڑا طاقت ور ہے۔ وہ چاہے تو تمہیں پیس کر رکھ دے گا۔ یہ اس کی حکمت ہے کہ تمہیں موقع دے رہا ہے اور تم آزادی سے کام کررہے ہو۔ ادخلوا فی السلم کافۃ، میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اسلام میں سب کے سب آجائیں۔ اس طرح آیت میں دو باتیں کہی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ ہر فرد اسلام پر پوری طرح عمل کرے دوسرے یہ کہ سب مل کر اسلام کو اختیار کریں اور اس کی ہدایات پر کاربند ہوں۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اسلام پر اپنی بساط کی حد تک عمل کرنے والے کل بھی رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔ کوئی دور اس طرح کے نیک افراد سے خالی نہیں رہا، لیکن اسلام معاشرے میںجو تبدیلی چاہتا ہے وہ اسی وقت آسکتی ہے، جب سب مل کر اسلام پر کاربند ہوں اور ہمارا پورا اجتماعی نظام اسلام کے تابع ہو۔ اس کے برخلاف جو بھی اجتماعی رویہ اختیار کیا جائے گا وہ غلط ہوگا۔ ہمارے درمیان ان لوگوں کی کمی نہیں ہے جن کا خیال ہے کہ آج کے ملکی اور بین الاقوامی حالات میں اسلام پر پوری طرح عمل کرنے میں بڑی دشواریاں ہیں۔ دنیا اسے قبول نہیں کرے گی۔ بعض لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں اسلام پر عمل ہوہی نہیں سکتا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ اسلام پر عمل کرو گے تو آسانیاں ہی آسانیاں ہوںگی ،مشکلات کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا ۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ ایک کٹھن راہ ہے ۔ یہ پھولوں کی سیج نہیں ہے، بلکہ یہ خاردار وادی ہے۔ یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھناہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا ان امتحانات میں کامیاب ہونے کے لیے دوباتوں کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہمیں یقین کامل ہو( اس طرح کا یقین جیسے سورج نکلا ہواہے، اور اس کی روشنی میں ہر چیز نظر آرہی ہے) کہ اللہ کا دین ، دین حق ہے، ہر وہ راستہ جو اس سے ہٹا ہوا ہے غلط اور نقصان دہ ہے، یہی یقین آپ کو آگے بڑھائے گا۔ایک جگہ قرآن نے کہا کہ ایمان والے تو بس وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں اور پھر کبھی انہیں شک نہیں ہوتا کہ معلوم نہیں اللہ ہے یا نہیں؟ اللہ کا رسول سچا ہے یا نہیں؟ ہم سے جو وعدے کیے گئے ہیں وہ پورے ہوں گے یا نہیں؟ یہ آزمائشیں ختم ہوں گی یا نہیں؟ کہا گیا کہ اللہ کے بندوں کاایمان شک کی ہربیماری سے پاک ہوتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کے لیے جان و مال لٹانا آسان ہوجاتاہے۔ یہی سچے لوگ ہیں یہی راست باز ہیں۔ یہ ہیں اللہ کے دین پر عمل کرنے والے(الحجرات:۱۵)۔ اگر آپ کو یقین نہ ہو کہ ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی اللہ کے دین ہی پر عمل کرنے میں ہے تو آپ دائیں بائیں دیکھیںگے لیکن اگر آپ کو یقین ہوکہ اس کے علاوہ کوئی راستہ ہمارے لیے نہیں ہے اس کے علاوہ ہر راستہ تباہ کن ہے تو آپ اسی راستے پر چلیں گے، چاہے کتنی ہی آزمائشیں کیوں نہ ہوں۔ کوئی چیز آپ کی پیش قدمی کو روک نہیں سکتی۔ دوسری چیز جس کا ذکر اس وقت مناسب ہوگا وہ یہ کہ ہماری زندگی اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کا دین ہی سچاہے۔ یہ ہمارا دعوی نہ ہو، ہمارا ہر عمل اس کی گواہی دے رہاہو، ہماری عبادات،ہمارے معاملات، ہماری دعوت وتبلیغ اور ہماری وعظ ونصیحت ،ہر چیز گواہی دے کہ یہی راستہ سچاہے، اس کے علاوہ کوئی راستہ صحیح نہیں ہے۔ اسلام کے ذریعہ دنیا میںجو تبدیلی آئی اس میں اسلام کی خوبیوں کے ساتھ اسلام کے ماننے والوں کا نمونۂ عمل بھی شامل تھا،واقعہ یہ ہے کہ اگر ہم اپنی زندگی کو اسلام کے مطابق گزاریں تو دنیا میںبہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ اگر ہماری اجتماعی زندگی اسلام کے مطابق ہوجائے تو قسم خدا کی دنیا کہے گی کہ ہمیں یہی چاہیے۔ اس کے علاوہ ہم کچھ نہیں چاہتے۔ ایسے ہی افراد چاہیے ،ایسی سیرت چاہیے، ایسا ہی خاندان چاہیے، ایسا ہی معاشرہ چاہیے۔ آپ ان کے تلاش میں نہیں بلکہ وہ آپ کی تلاش میں نکلیں گے۔ وہ اپنی نجات کا سامان آپ کے اندر دیکھیں گے۔ ان دو باتوں کو اگر ہم یادرکھیں تو ہماری زندگی کا رخ بدل جائے گا اور دنیا کو ہم بتا سکیں گے کہ ہم کیوں اسلام کو اللہ کا دین مانتے ہیں؟کیسے اس کے ذریعہ تبدیلی آتی ہے ہم اپنے مسائل کے حل کے لیے بہت سی تدبیریں کررہے ہیں لیکن وہ تدبیر جو مشکل ترین تدبیر ہے اسے آزمانے کا نہ مجھ میں حوصلہ ہے اور نہ آپ میں اور جب تک یہ حوصلہ ہم سب کے اندر پیدا نہ ہو اس وقت تک دنیا اسی طرح مصائب میں گرفتار رہے گی۔ اس میں کوئی بڑی اور خوش گوارتبدیلی نہیں دیکھی جائے گی ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*