اسلام کے سیلِ رواں کو روک پانا ممکن نہیں! ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

اسلام سے حکم راں طبقہ کی دہشت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب ان لوگوں کو گرفتار کیا جانے لگا ہے جو امن کے سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں ، جنھوں نے کبھی انسانوں کے درمیان تفریق روا نہیں رکھی اور ہمیشہ اخوّت و محبت ، بھائی چارہ اور ہم دردی و غم خواری کی تلقین کرتے رہےـ چند ماہ قبل ڈاکٹر عمر گوتم اور ان کے معاون و رفیق مفتی جہاں گیر قاسمی کو گرفتار کیا گیا تھا اور اب مشہور داعی مولانا محمد کلیم صدیقی اور ان کے کچھ ساتھیوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہےـ باوجود اس کے کہ دونوں ملک کے معزّز شہری ہیں اور انہیں مسلمانوں کے درمیان عزّت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ، لیکن انھیں اس طرح گرفتار کیا گیا ہے جیسے بہت بڑے دہشت گرد ہوں ، جنھیں کافی جدّوجہد کے بعد دھر دبوچا گیا ہےـ ان پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ بڑے مضحکہ خیز ہیں ، مثلاً یہ کہ وہ ڈرا دھمکا کر یا لالچ کے ذریعے ہندو نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا دھرم بدلواتے اور ان کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرتے تھے ، خاص طور سے لڑکیوں کو مسلمان بناکر ان کا نکاح مسلم نوجوانوں سے کروادیتے تھےـ زیبِ داستان کے لیے یہ الزام بھی لگانا ضروری سمجھا گیا کہ ان لوگوں کو بیرونی ممالک سے فنڈنگ ہوتی تھی اور انھوں نے مختلف ممالک سے غیر قانونی طور سے کروڑوں روپے حاصل کرکے بڑی جائیدادیں بنائی ہیں ـ

دوسرے مذاہب میں چاہے ڈرا دھمکاکر یا لالچ دے کر سابقہ مذہب بدلوانے اور نیا مذہب قبول کروانے کی تاریخ اور روایت ہو ، لیکن اسلام تو اس کا سخت مخالف ہےـ قرآن مجید میں ہے : لَا اِکرَاہَ فِی الدِّینِ ( البقرۃ : 256) ” دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہےـ” اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو مخاطب کرکے فرمایا ہے :
وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنۡ فِى الۡاَرۡضِ كُلُّهُمۡ جَمِيۡعًا‌ ؕ اَفَاَنۡتَ تُكۡرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ( یونس : 99)
” اگر تیرے ربّ کی مشیّت یہ ہوتی ( کہ زمین میں سب مومن و فرماں بردار ہی ہوں) تو سارے اہلِ زمین ایمان لے آئے ہوتے ۔ پھر کیا تُو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں؟ ”

کسی بھی فکر ، نظریہ ، مسلک ، عقیدہ یا مذہب کو اختیار کرنے کا تعلق دل کی آمادگی سے ہوتا ہےـ بغیر اس کے کسی پر جبر کرکے یا اسے مالی منفعت کا لالچ دے کر کوئی نظریہ یا مذہب نہیں قبول کروایا جاسکتاـ اگر کچھ لوگ جبر و اکراہ یا لالچ سے کوئی مذہب قبول کرلیں تو وہ اس کے سچّے پیروکار (Followers) نہیں ہوسکتےـ اسلام ایسے لوگوں کو ‘منافقین’ قرار دیتا ہے جو محض زبان سے ایمان لے آئے ہوں ، لیکن وہ ان کے دلوں میں داخل نہ ہوا ہوـ وہ انہیں مذہب قبول کرنے کے معاملے میں ناقابلِ اعتبار سمجھتا ہے ، پھر وہ اپنے ماننے والوں کو جبر یا لالچ کے ذریعے دوسروں کا مذہب تبدیل کروانے اور انہیں دائرۂ اسلام میں داخل کرنے کی ترغیب کیوں دے گا؟

اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہمیشہ اسے ان لوگوں نے قبول کیا ہے جو اپنے سابقہ مذاہب میں ستائے ہوئے تھے اور اسلام میں انہیں اپنے درد کا درماں نظر آیاـ اور موجودہ دور میں بھی جو لوگ اسے قبول کررہے ہیں وہ وہی ہیں جو اپنے مذہب کے عقائد ، تصورات اور معاشرتی اقدار وغیرہ سے غیر مطمئن تھےـ انہیں جب اسلام کی فطرتِ انسانی سے قریب تر تعلیمات اور اعلیٰ معاشرتی قدروں کا علم ہوا تو وہ دیوانہ وار اس کی طرف لپکے اور اس کے سایے میں انہیں سکون و اطمینان کی دولت نصیب ہوئی ـ

اسلام ایک تبلیغی مذہب ہےـ وہ توحید ، رسالت اور آخرت کے عقائد پر مبنی ہےـ توحید کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسانوں اور کائنات کو پیدا کرنے اور ان کا انتظام چلانے والی بس ایک ہی ذات ہےـ آخرت کا تصور یہ ہے کہ ہر انسان کو موت کا مزا چکھنا ہے ، اس کے بعد اسے دوبارہ پیدا کیا جائے گا ، جہاں اسے دنیا میں کیے گئے اپنے تمام کاموں کا حساب دینا ہےـ اگر اس نے دنیا میں اچھے کام کیے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اسے بہ طور انعام جنّت سے نوازے گا ، جس میں ہر طرح کی نعمتیں ہوں گی اور اگر اس نے دنیا میں غلط کام کیے ہوں گے اور دوسرے انسانوں کو ستایا ہوگا تو اسے بہ طور سزا جہنم میں جھونک دیا جائے گا ، جہاں اسے ہر طرح کی اذیّتوں سے دوچار ہونا پڑے گاـ ان تعلیمات سے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنے چند برگزیدہ بندوں کے ذریعے آگاہ کیا ، جنہیں ‘رسول’ کہا جاتا ہےـ سب سے آخری رسول حضرت محمد ﷺ ہیں ـ ان پر ایمان لانا رسالت کہلاتا ہےـ اسلام کہتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں ، ان کے درمیان کوئی اونچ نیچ اور بھید بھاؤ نہیں ہےـ اسلام نے تمام انسانوں کے حقوق متعیّن کیے اور معاشرتی تعلیمات دی ہیں اور ان پر عمل اپنے تمام ماننے والوں کے لیے لازم قرار دیا ہےـ اسلام اپنے پیروکاروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان عقائد اور تعلیمات پر خود عمل کریں اور دوسرے انسانوں کو بھی ان کی طرف دعوت دیں ـ ان میں فطرتِ سلیمہ رکھنے والے ضرور ان کی طرف مائل ہوں گے اور اپنی آزاد مرضی سے انہیں قبول کرکے دائرۂ اسلام میں داخل ہوں گےـ

ملک کے دستور نے اپنے تمام شہریوں کو اپنی پسند کا عقیدہ رکھنے ، اپنی مرضی کا مذہب اختیار کرنے اور اپنے مذہب کا پرچار کرنے کی آزادی دی ہے _ اگر اس آزادی سے مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں تو ملک کے حکم راں اس میں کیوں رکاوٹ ڈالتے ہیں؟ اور کیوں ان کی داروگیر کرتے ہیں؟ انہیں اسلام اور مسلمانوں پر نشانہ سادھنے کے بجائے ان حق تلفیوں ، زیادتیوں ، غیر فطری تصورات و عقائد اور معاشرتی مظالم کا ازالہ کرنے پر توجہ کرنی چاہیے جن کی وجہ سے وہ لوگ اسلام کو اپنا نجات دہندہ سمجھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں ـ جن انسانوں کو اپنے مذہب میں حیوانات سے بھی بدتر حیثیت دی جاتی ہو وہ ضرور اسلام کے تصورِ مساوات میں کشش محسوس کریں گے _ جو خواتین اپنے مذہب کی تعلیماتِ نسواں اور اپنے ساتھ مردوں کے رویّوں میں اپنے لیے ذلّت محسوس کریں گی اور وہ مسلم سماج میں خواتین کو بہ حیثیت ماں ، بہ حیثیت بہن ، بہ حیثیت بیوی اور بہ حیثیت بیٹی دیے جانے والے اعزاز و اکرام کا مشاہدہ کریں گی وہ ضرور اسلام کے دامنِ رحمت میں پناہ لینے کے لیے بے چین ہوں گی ـ

مولانا کلیم صدیقی کی چارج شیٹ میں لکھا گیا ہے کہ وہ اپنی گفتگوؤں ، تقریروں اور تحریروں میں جنت کا لالچ اور جہنّم کا خوف دلایا کرتے تھے ، جو قابلِ تعزیر جرم ہے _ اگر یہ جرم ہے تو ہر مسلمان اس کا اقراری مجرم ہے ، اس لیے کہ جنت اور جہنم پر ایمان اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہےـ جو شخص اس کا اقرار نہ کرے وہ مسلمان نہیں ـ پھر کیا مسلمانوں کو ان کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھنے سے محروم کر دیا جائے گا؟

حالات کا واضح اشارہ ہے کہ اب ملکِ عزیز میں اسلام کے سیلِ رواں کو روک پانا کسی کے لیے ممکن نہیں ہے ، چاہے قید خانوں کو کتنا بھی آباد کیا جائے اور دار و رسن کی کتنی ہی بساطیں بچھائی جائیں ، بس اس کے لیے دو شرطیں ہیں :
اوّل یہ کہ جن علماء ، دانش وروں اور مسلم سربرآوردہ شخصیات کو گرفتار کیا جائے وہ ذرا بھی گھبراہٹ اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کریں ، بلکہ استقامت کا ثبوت دیں ، پامردی دکھائیں اور اپنے موقف پر ڈٹے رہیں ـ اپنے مذہب کا تعارف کرانا اور اس کی خوبیاں بیان کرنا جرم نہیں ہےـ ان شاء جھوٹے الزامات بے بنیاد ثابت ہوں گے اور وہ باعزّت بری ہوں گےـ
دوم یہ کہ مسلمانوں میں سے دوسرے لوگ ان کی جگہ لیں اور ان کا مشن سنبھالیں _ ملک میں زیادہ سے زیادہ تعارفِ اسلام کے ادارے قائم کیے جائیں ـ مختلف مقامی زبانوں میں ترجمۂ قرآن مجید ، کتبِ سیرت اور اسلامی لٹریچر فراہم کیا جائے اور بہت بڑے پیمانے پر اسے تقسیم کیا جائے _ سوشل میڈیا کو بھی منصوبہ بند طریقے سے بہت بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے اور اس کے ذریعے اسلام کی تعلیمات کی اشاعت و تبلیغ اور اس کے بارے میں پھیلائی جانے والے غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی جائے ، تاکہ ملک کے کسی شہری کے لیے یہ کہنے کا عذر باقی نہ رہے کہ مجھ تک اسلام کی تعلیمات نہیں پہنچ پائی تھیں ، اس لیے مجھے اس پر غور کرنے اور اسے قبول کرنے کا موقع نہیں مل سکا _ قرآن کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل کردیا ہے ، اب کفر کے سرغنہ لوگوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے :
اَلۡيَوۡمَ يَئِسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ دِيۡـنِكُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَاخۡشَوۡنِ‌ ؕ اَ لۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا‌ ( المائدۃ : 3)
” آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پُوری مایوسی ہوچکی ہےـ لہٰذا تم اُن سے نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو ۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہےـ”

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*