اسلام کو موت آگئی کیا؟!

میم ضاد فضلی
نطشے نے کہا تھا’’خدا کی موت واقع ہو گئی‘‘۔ بظاہر لغو نظر آنے والے اس بیان کا وہ مطلب نہیں جو اس کے الفاظ بتا رہے ہیں۔ تمام فلسفی کچھ نہ کچھ’’کھسکے‘‘ ہوئے ضرور ہوتے ہیں، بزعم خود کوئی نقطہ ہاتھ لگ جائے تو اس کے اظہار میں ضرورت سے زیادہ دبنگ ہو جاتے ہیں۔
اس کی رائے میں انسان علمی اور شعوری میدان پر اس درجہ ترقی یافتہ ہو چکا کہ اب اسے اپنے اخلاقی وجود اور روزمرہ زندگی کے لیے خدا جیسے ماورائی تصور کی حاجت نہیں رہی تھی۔ اب کسی’’خدا‘‘ کے ’’ہونے‘‘ کی ضرورت باقی نہیں تھی؛کیونکہ اب تمام ’’جوابات‘‘ خود انسان کی دسترس میں تھے۔ تصورِ خدا کا کچھ عملی استعمال اب باقی نہیں رہ گیا تھا۔ کوئی بھی شے یا تصور اس وقت اپنی حیثیت کھو بیٹھتا ہے،جب اس کے استعمال کے مواقع مفقود ہو جائیں۔ گویا غیر متعلق ہو جانادرحقیقت معدوم ہو جانا ہے۔نطشے نے یہاں ٹھوکر کھائی۔اسے یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ خدا کسی تصور کا نام نہیں، وہ تو ایک ’’الحی‘‘ اور’’القیوم‘‘ ہستی ہے۔ ایک ایسی زندہ ہستی،جس کی وجہ سے باقی سب کچھ ممکن اور موجود ہے۔ نطشے جیسے کئی آئے اور گئے؛ لیکن وہ جوخلاقِ دوعالم ہے ،حیٌ قیومٌ لایموت ہے، اپنے تخت پر پورے جاہ و جلال سے متمکن ہے اور اپنے بندوں کو اپنی موجودگی اور اہمیت کا ہمہ وقت احساس دلاتا رہتا ہے۔قصہ مختصر یہ کہ ہر آخری’’کیوں‘‘ کا جواب وہی اور ہر ٹوٹتی امید کا آخری سہارا بھی وہی ہے۔
لیکن یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ اگر نطشے آج موجود ہوتا اور مسلمانوں کے اطوارکو دیکھ کریہ کہتا کہ اسلام کی ’’موت‘‘ واقع ہوگئی ہے، تو اس کا رد کرنا قریب قریب ناممکن ہوتا۔
جی ہاں! بالکل ویسے ہی، جیسے نطشے نے تصورِ خدا کے متعلق اپنا مقدمہ رکھا،جس کے ساتھ تعلق صرف نام کا رہ جائے اور حقیقت میں آپ اس سے الگ رہ کر زندگی بسر کرنے پر آمادہ نظر آئیں، اس کے ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اسلام ہمارے لیے بظاہر اب صرف ایک نام برائے نام ہے۔ اس کی تعلیم اور احکام بالخصوص معاشرتی و سماجی پہلو ہمارے لیے متروک ہو چکے ہیں، مکمل طور پر Non Operative۔
شناخت اور عمل کا بالکل الگ ایک نظام اس کی جگہ لے چکا ہے۔ اسے ہم نرم الفاظ میں مکاتب ہائے فکر یا مسالک کہہ لیتے ہیں اور ذرا زیادہ سخت/حقیقت پسندانہ الفاظ میں اسے فرقہ بندی کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس گروہ بندی کے مؤثر ہونے کا اندازہ صرف اس بات سے کر لیجیے کہ اگر آپ اسلام کے نام پر لوگوں کو جمع کرنے کی کوشش کریں، تو ہزارہا مشکلات راہ میں مزاحم ہو جائیں گی،بہت سے سوالات اٹھائے جائیں گے،جن کی اکثریت آپ کی نیت اور’’اصل اہداف‘‘ پر بھی چوٹ کردے گی،یہاں تک کہ آپ کاحوصلہ جاتا رہے گا۔ پھر بھی اگر مگر اور چونکہ، چنانچہ کا لامتناہی سلسلہ اور نتیجہ قریباً صفرپرجاکر ختم ہوجائے گا،یعنی آپ اسلام کے نام پر اس کے ماننے والوں کو کبھی بھی یکجاکرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے ۔ البتہ اگر معاملہ مسلک سے متعلق ہے، تو بلا رد و کد، ناقابل یقین سرعت کے ساتھ ایک جمعیت مرنے مارنے تک کو تیار ہو جائے گی۔
ہمارے ہاں افعال، برتاؤ اور ایک دوسرے سے قرب و بعد کے معاملات بھی اسی نئے نظام کے زیر اثر ترتیب پاتے ہیں۔ اسلام کی مطلوب سماجی ساخت سے تعلق بس اتنا ہے کہ رواداری اور حسن ظن کی سہولت جسے اسلام سب مسلمانوں؛بلکہ تمام انسانوں تک وسیع دیکھنا چاہتا ہے، اب صرف اپنے’’ہم مسلکوں‘‘ تک محدود ہے۔ اس حلقہ سے باہر کے سب لوگ اگر حریف نہیں بھی، تواجنبی ضرور ہیں۔
اس صورت حال کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم مسلک کے ساگر میں مکمل طور سے غوطہ زن ہونے کے بعد اسلام کی طرف سفر شروع کرتے ہیں۔ بذریعہ قرآن اسلامی احکامات تک براہ راست رسائی یا ہدایت کشید کرنے کی کوئی صورت نہیں؛بلکہ یہ ایک طے شدہ فکری نظام کے ماتحت ہوتا ہے، جس میں اللہ کی کتاب کے اوامر و نواہی گروہی تشریحات کے ساتھ مشروط ہو کر رہ جاتے ہیں اور اس کتاب کی اہمیت صرف اپنے نظام فکر کے دلائل کی فراہمی و دفاع تک سمٹ جاتی ہے۔ نیز سیاسی اور گروہی غلبہ کی خواہش سے مغلوب علمائے کرام اس بات کا خاص اہتمام کرتے ہیں کہ ان کے ہاں سے دین کی روح سمجھنے والے تیار ہوں نہ ہوں،البتہ مسلک کے کامریڈ ضرور جوق در جوق سامنے آئیں۔اب اس کیفیت کا لازمی نتیجہ وہی ہو سکتا ہے، جو مسجد، مدرسہ سے لے کر سوشل میڈیا تک ہم سب کے سامنے ہے۔
جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، یہ سب گروہ اپنی اپنی حد بندی اور رویہ میں شدید تر ہوتے چلے جاتے ہیں،تفریق کو قائم رکھنا؛ بلکہ بڑھانا اور بھی اہم ہو جاتا ہے؛تاکہ کوئی بھولا بھٹکا یہ نہ کہہ بیٹھے کہ اسلام کے مطلوب عقائد تو سب کے ہاں ایک سے ہیں، پھر یہ تفریق و عناد کیوں؟
اسی کیوں کا منہ بند کرنے کے لیے جو ایک آدھ بات دوسروں سے مختلف ہوتی ہے اور دین کے بجائے ذوق یا تاریخ کا مسئلہ ہوتی ہے، اس کے غبارے میں اس قدر ہوا بھری جاتی ہے کہ لگنے لگے کہ اصل اسلام تو بس یہی ہے۔ باقی سب فروعی معاملہ ہے، یعنی اصل دین فروع کہہ کر نظرانداز اور اپنی پسند یا اختراع ہی ایمان کا حقیقی معیارہوجاتا ہے ۔ ظاہر سی بات ہے دوسرا گروہ تو اس کسوٹی پر خود بخود ہی ڈس کوالیفائی ہو جائے گا؛لہٰذا حق و باطل کے اس نئے (خود ساختہ) پیمانے کے تحت وہ اسلام ہی سے فارغ قرار دیدیا جائے گا، یہی معاملہ دوسرے گروہ کے ہاں ان کے لیے ہوگا۔
لطف کی بات؛بلکہ ٹکڑیوں اور ٹولوں میں تقسیم ہوچکی ملت کے لیے شرمناک بات یہ ہے کہ کشمکش مسلک کی ہوتی ہے اور ہم ایک دوسرے کو اسلام سے ہی خارج کردیتے ہیں،گویا اسلام وایمان کو ہم نے خالص اپنے لیے پٹینٹ کرا لیا ہے اور اس پر کسی دوسرے کادعویٰ قطعی ناقابل قبول ہوگا۔
اس تاریک شدت پسندی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دین کا داعی اور نمائندہ بننے کے بجائے مسلک کامحافظ ہونے کو زیادہ بڑا مقصد سمجھ لیا جاتا ہے؛ کیونکہ’’حق‘‘ کی سند تو مسلکی شناخت کے ساتھ وابستہ ہے۔ کسی بھی دیگر عصری معاملہ میں اگر مبدی اور آئیڈیل کے مابین 1000 میل کا فاصلہ ہے اور وہ ایک میل آئیڈیل کی جانب آجاتا ہے تو کہا جاتا کہ وہ اپنی منزل سے ایک میل قریب تر ہو گیا، جبکہ فرقہ بازی کی سوچ میں اگر وہ ہزار میل میں محض ایک میل کی دوری پر بھی ہو تو وہ ایک میل کی دوری زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ چونکہ اس سسٹم میں پارسائی اپنے عمل سے زیادہ دوسرے کی گمراہی سے نمو پاتی ہے؛ اس لیے اختلافی معاملات بہت اہمیت اختیار کر لیتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالی کی واضح ہدایت مشترکات پر فوکس کرنے کی ہے۔ مذہب کے نام پر قائم مسالک کے ضمن میں تو ایک فٹ کی دوری کو بھی ملی میٹرز میں بتایا جاتا ہے؛تاکہ فاصلہ زیادہ سے زیادہ دکھائی دے۔
عوام کو طفل تسلی دینے کے لیے امت کے اتحاد کی باتیں تواتر سے کی تو جاتی ہیں؛ لیکن یہ اہتمام بھی ساتھ ہی رہتا ہے کہ تقسیم واضح رہے، یعنی مذہب پر اپنے مسلک کی چودھراہٹ باقی رہے۔ جہاں ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے یا ایک دوسرے کے جنازوں میں شرکت سے نکاح ٹوٹ جاتے ہوں، وہاں اتحاد کے امکان کا خود ہی اندازہ کر لیں۔سچ تو یہ ہے کہ یاتو مسالک کی منافرت افروز حد بندیاں قائم رہ سکتی ہیں یا پھر اسلام کے نام پر امت کی شیرازہ بندی،دونوں بیک وقت برقرار نہیں رہ سکتے ۔ اس صورت میں صرف منافقت ہی باقی بچتی ہے اور وہ ہمارے پاس وافر مقدار میں موجود ہے ۔اب آپ خود دیکھ لیجیے کیا اس منظرنامہ میں اسلام کو’’زندہ‘‘ کہا جا سکتا ہے؟
لیکن اللہ کا دین مر نہیں سکتا، ہم کچھ نہیں کریں گے، تو اللہ تعالی اوروں کو لے آئیں گے، جو یہ کام کر دیں گے، اگر یہ کام ہونا ہی ہے تو ہم اور آپ ہی اس کو کیوں نہ کر دیں؟
آپ اپنے مکتب فکر پر ہزار بار قائم رہیے، کوئی مسئلہ نہیں، بس اتنا سمجھ لیجیے کہ باقی سب بھی وہ بنیادی کام کر رہے ہیں، جو اللہ تعالی نے اپنی رضا کے باب میں اپنی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے توسط سے ہمیں بتلائے ہیں۔ نماز، روزہ، زکوۃ، حج، انفاق وغیرہ
جو کام وہ مختلف کر رہے ہیں، اس پر اللہ تعالی ان سے خود ہی پوچھ لیں گے، جیسا کہ اپنی کتاب میں اللہ نے بار بار ہمیں بتایا۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ اعمال کا حساب شروع ہونے سے قبل باہمی کینہ اور تفرقہ بازی کی وجہ سے ہم سب ہی ڈِس کوالیفائی نہ ہوجائیں۔
08076397613

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*