اسلام اور مذہبی رواداری-عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

انسانی فطرت میں قدرت نے غیرمعمولی تنوع رکھا ہے،ہر انسان کا مزاج و مذاق مختلف ہے،ہر ایک کا رہن سہن جداگانہ ہے،ہر ایک میں سوچنے،سمجھنے اور واقعات سے نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت الگ الگ ہے۔انسانوں میں جہاں محبت کرنے والے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے والے افراد موجود ہیں،وہیں نفرت کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں جب کبھی فکر و نظر،رنگ و نسل اور تہذیب و تمدن کے اس اختلاف کو انگیز کیاگیا معاشرہ امن و امان اور سلامتی و خوش حالی کا گہوارہ رہا اور جب ان کے حوالے سے تنگ نظری و تعصب کا ثبوت پیش کیا گیا تو پھر بستیاں ویراں ہوگئیں،محلے اجڑگئے اور شہر کے شہر فرقہ واریت کی شعلہ زن آگ میں جھونک دیے گئے۔
لوگ کہتے ہیں کہ ماضی میں علم و ٹیکنالوجی اور محبت و فراخ دلی کی کمی تھی۔آج علم بھی ہے اور فراخ دل لوگوں کی کثرت بھی؛مگر اس کے باوجود ہر سمت منافرت و عداوت کا بول بالا ہے،بالخصوص وطن عزیز بھارت میں جہاںکے حالات آئے دن سنگین ہوتے جارہے ہیں،مذہب کے نام پر ملک بھر میں جو خطرناک کھیل کھیلا جارہا ہے، اس سے سماجی طور پر نفرت کی خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی ہے اور ایک بار پھر خوف و دہشت،بے چینی و سراسیمگی کا ماحول تیار ہو رہا ہے۔ہر بار کی طرح اس بار بھی الیکشن کے قریب آتے ہی شرانگیزی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے،ہجومی تشدد کے افسوس ناک واقعات ختم یا کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی جارہے ہیں اور عدم تحفظ کی اس زہرآلود فضا میں جمہوریت کے ساتھ ساتھ رہی سہی انسانیت بھی دم توڑتی نظر آرہی ہے۔مزید بر آں اس پورے منظرنامے میں دین اسلام کو بدنام کرنے،اس کی روشن تعلیمات کو مسخ کرنے اور اس کی مقدس شخصیات کو نشانہ بنانے کا کام بھی میڈیا کے سہارے تیزی کے ساتھ نہ صرف جاری ہے؛بل کہ اس پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد دین اسلام اور اس کے آفاقی نظام کے حوالے سے شکوک و شبہات میں مبتلا ہوتی جارہی ہے ؎بے عمل تھے ہی جواں، دِین سے بدظن بھی ہوئے
یہ کس درجہ حیرت کی بات ہے کہ جس اسلام نے عدل و قسط،احسان و رواداری اور محبت و کرم گستری کے دیپ جلائے،جس نے ظلم و عدوان، نفرت و تعصب اور جارحیت و سرکشی کے خلاف بغاوت کے علم بلند کیے،جس نے مظلوم طبقات اور برسوں سے کراہ رہی انسانیت کے دُکھوں کا مداوا کیا،آج اسی دین کو ملک و وطن کے لیے خطرہ بتایا جارہا ہے،مساجد و مدارس جیسے مراکز امن کو نشانہ بنایا جارہاہے اور مسلم حکم رانوں کو ظالم و جابر بناکر پیش کیا جارہا ہے؛مگرسنجیدہ لوگوں کے لیے غور و فکر کا مقام ہے کہ اگر ہندوستان کے مسلم سلاطین اپنے آٹھ سو سالہ عہد حکومت میں ملک کی ہندو اکثریت کو بہ زور تلوار اسلام قبول کرنے پرمجبور کرتے،ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے،ان کی عورتوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتے تو سارا بھارت مسلم اکثریت میں تبدیل ہوجاتا اور ایک غیر مسلم بھی اپنے مذہب پر باقی نہیں بچ پاتا؛مگرقربان جائیں کتاب ہدایت کی منصفانہ ہدایات اور نبی پاکﷺ کی رحمت بھری تعلیمات پرکہ صدیوں تک غیرمنقسم ہندوستان پر بلاشرکت غیر حکم رانی کے باوجود غیرمسلم برادران وطن ہمیشہ اکثریت میں رہے اور ہیں۔
حالات کا تقاضا اور وقت کی اہم ضرورت ہے کہ غیرمسلم برادران وطن تک اسلام کی سچی تعلیمات پہنچائی جائے،انہیں اسلام کا نظام حکومت سمجھایا جائے،اسلامی حکومت میں مسلم حکم رانوں کی ر واداری کی ان گنت مثالوں کو پیش کیا جائے اور فرقہ پرست،متعصب طاقتوں کی جانب سے پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات کا دلائل کی روشنی میں بھرپور جواب دیاجائے؛تاکہ انہیں اسلام کی انسانیت نوازی،ہم دردی اور خیرخواہی کا اندازہ ہوسکے۔
رواداری اور قرآن مجید:
قرآن مجید کی متعدد آیتوں کے مطابق غیرمسلم رعایا کو نہ صرف اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دی گئی؛ بلکہ انہیں روزگار،تعلیم اور حصولِ انصاف میں برابر کے مواقع فراہم کیے گئے، اُن کے ساتھ حسن ِ سلوک کی تلقین کی گئی اور ان کی دل آزاری سے مکمل پرہیز کرنے کا حکم دیاگیا۔ ارشاد باری ہے :‘‘اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی، اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، ان کے ساتھ تم کوئی نیکی کا یا انصاف کا معاملہ کرو۔ یقینا اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے’’۔(الممتحنہ:8)ایک اور موقع پر حق تعالی کا فرمان ہے:‘‘ دین میں کوئی زبردستی نہیں، بے شک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے’’۔ (البقرہ: 256)اسی طرح نبی پاکﷺکو خطاب کرکے فرمایا:’’ اے محمدؐ! ان سے کہہ دو کہ اے کافرو! نہ میں ان معبودوں کو پوجتا ہوں جن کو تم پوجتے ہو اور نہ تم اس معبود کو پوجنے والے ہو جس کو میں پوجتا ہوں۔ اور آیندہ بھی نہ میں ان معبودوں کو پوجنے والا ہوں جن کو تم نے پوجا ہے اور نہ تم اس معبود کو پوجنے والے ہو جس کو میں پوجتا ہوں۔ تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین‘‘۔(الکافرون:1-4)رواداری کی اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتی ہے کہ حق تعالی نے ان معبودان باطلہ کو برابھلا کہنے سے منع کیا جن کی غیرمسلم پرستش کرتے ہیں اور صاف لفظوں میں ارشاد فرمایا:’’یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر جن دوسرے معبودوں کو پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہو؛ کیونکہ اس کے جواب میں نادانی کے ساتھ ناحق یہ خدا کو گالیاں دیں گے۔ ہم نے تو اسی طرح ہر قوم کے لیے اس کے اپنے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے پھر ان سب کو اپنے پروردگار کی طرف واپس جانا ہے۔ وہاں ان کا پروردگار انھیں بتا دے گا کہ انھوں نے کیسے عمل کیے ہیں‘‘۔(الانعام:108)
رواداری اور احادیث مبارکہ:
نبی پاک ﷺجو دونوں جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجے گئے،آپ کی روشن تعلیمات میں جگہ جگہ نرمی و رواداری کا ذکر ملتا ہے۔غیر مسلموں کے جان و مال کے احترام کو آپ ﷺنے وہی درجہ عطا فرمایا، جو مسلمانوں کی جان و مال کا ہے، آپ نے اس سلسلہ میں اُصول بیان فرمادیا کہ ان کے خون ہمارے خون کی طرح ہیں اور ان کے مال ہمارے مال کی طرح۔(نصب الرایہ) ایک موقع پر آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: جس نے کسی معاہد (وہ غیر مسلم جس سے پر اُمن زندگی گزارنے کا معاہدہ ہو) کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا؛ حالاںکہ اس کی بُو چالیس سال کے فاصلہ سے محسوس کی جاسکتی ہے۔آپﷺ جنگ کے موقع پر بھی اس کا لحاظ رکھتے تھے کہ جب دشمن ہتھیار ڈال دیں یاصلح پر راضی ہوجائیں تو ان کی املاک کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے، فتح خیبر کے موقع سے بعض مسلمان فوجیوں نے یہودیوں کے جانور ذبح کردیئے اور کچھ پھل کھا لیے، رسول اللہ ﷺکو اطلاع ہوئی تو آپ ﷺنے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس عمل پر ناگواری ظاہر فرمائی۔(ابو داؤد)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک موقع پر ارشاد فرمایا:جو شخص رحم نہیں کرے گا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔(بخاری)شارح بخاری محدث ابن بطال مالکیؒ فرماتے ہیں:”اس حدیث میں تمام مخلوقات کے ساتھ رحمت و شفقت کا معاملہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، اس میں مومن و کافر،مملوک وغیر مملوک،انسان و جانور سب داخل ہیں، جناب رسولﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور آپﷺ نے یہی رحمت کا پیغام پورے عالم کے لئے سنایا۔ دین اسلام میں غیر مسلم اقوام کے حقوق کا تحفظ بدرجہ اتم موجود ہے اور تمام اقوام عالم کی بھلائی اسی میں ہے؛کیونکہ ہر کسی کے ساتھ عدل و انصاف ،قیام امن اور حقوق کا تحفظ دین اسلام کے اصول میں داخل ہے۔
رواداری اور عہد نبویﷺ:
اس سلسلہ میں ہم عہد نبوی کا مطالعہ کرتے ہیں تو آپ کی زندگی اغیار کے ساتھ رواداری اور محبت والفت سے بھرپور نظر آتی ہے،خواہ وہ مکی زندگی کے مصائب و مشقتیں ہوں یا مدنی زندگی کی فتوحات و وسعتیں۔اجتماعی زندگی میںایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار تعلق کا تقاضا ہے کہ خوشی و غم میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوں،رسول اللہ ﷺاس کابہت زیادہ خیال رکھتے تھے، اگر کوئی غیر مسلم بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت کیا کرتے تھے۔ ایک یہودی نوجوان جو آپ کے ساتھ آمد و رفت رکھتا تھا اور محبت کے ساتھ آپ کی خدمت بھی کیا کرتا تھا، بیمار پڑ گیا تو آپ نے اس کی عیادت فرمائی (بخاری)اسی طرح انسانیت کی بنیاد پر آپ نے غیرمسلموں کو وہ تمام حقوق عطا کیے جن کا جاہلیت کے زمانے میں تصور بھی محال تھا۔یہی وجہ ہے کہ محض آ پ ﷺکے اوصا ف حمیدہ اور حسن سلوک سے متاثر ہو کرغیر مسلم افراد اسلام قبول کرلیا کرتے تھے،چناں چہ مشکوۃ شریف میں امام بیہقی کی دلائل النبوۃ کے حوالہ سے ذکرکردہ روایت میں ایک یہودی کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق کا واقعہ نقل کیا گیا ہے،حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی تھا، جس کو’’فلاں عالم‘‘کہا جاتا تھا (یعنی وہ یہود کے بڑے علماء میں سے تھا)اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چند دینار قرض تھے،اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:اے یہودی! میرے پاس کچھ نہیں کہ تجھے دوں۔اس نے کہا:محمد!میں اس وقت تک آپ سے جدا نہ ہوں گا جب تک آپ میرا قرض ادا نہ کریں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اچھا! میں تیرے پاس بیٹھ جاتا ہوں،چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سامنے بیٹھ گئے،(اور اسی مقام پر)ظہر،عصر، مغرب،عشا اور پھر صبح کی نماز پڑھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اس یہودی کو دھمکاتے تھے اور نکال دینے کا خوف دلاتے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کو محسوس کیا تو آپ نے صحابہ کو اس سے منع فرمایا،صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ! کیا ایک یہودی آپ کو روک سکتا ہے؟آپ نے فرمایا:میرے رب نے مجھے منع کیا ہے کہ میں اس شخص پر ظلم کروں جو ہماری پناہ میں ہے،یا جو ہماری پناہ میں نہیں۔
پھر جب دن چڑھا،یہودی نے کہا:میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں،میرے مال کا آدھا حصہ اللہ کی راہ میں صدقہ ہے،خدا کی قسم! میں نے آپ کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ محض اس لیے کیا، تاکہ میں دیکھو ں کہ آپ کی جو صفات تورات میں مذکور ہیں وہ آپ میں پائی جاتی ہیں یا نہیں۔تورات میں لکھا ہے:محمد بن عبد اللہ مکہ میں پیدا ہوگا، طیبہ کی طرف ہجرت کرے گا اور اس کی حکومت شام میں ہوگی،وہ بد زبان و سنگ دل نہ ہوگا اور نہ بازاروں میں شور مچانے والا، نہ فحش گوئی اس میں ہو گی اور نہ وہ بیہودہ بات کہنے والا ہوگا،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں،یہ میرا مال موجود ہے، خدا کے حکم سے جہاں اس کو چاہیں خرچ فرمائیے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رواداری کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ نے فتوحات کے بعد غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو اسی طرح برقرار رکھا۔علامہ ابن قیم ’’احکام اہل الذمۃ‘‘ میں فتح خیبر کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول مبارک نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح خیبر کے بعد وہاں کے غیر مسلموں کو ان کی عبادت گاہوں پر برقرار رکھا اور ان کی عبادت گاہوں کو مسمار نہیں فرمایا۔بعد ازاں جب دیگر علاقے سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے تو خلفاے راشدین اور صحابہ کرام نے بھی اِتباعِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے ہوئے ان ملکوں میں موجود غیر مسلموں کی کسی عبادت گاہ کو مسمار نہیں کیا۔(أحکام أہل الذمۃ)
رواداری اور خلافت راشدہ:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا زمانۂ خلافت اگرچہ مختصر رہا؛مگر آپ نے مختلف فتنوں کے تعاقب و استیصال کے ساتھ ساتھ اسلامی حکومت کے استحکام سے بے توجہی نہیں برتی:بل کہ مسلم و غیر مسلم رعایا کے ساتھ عدل پروری کا غیرمعمولی ثبوت دیا۔ آپ کے دور خلافت میں حضرت خالد بن ولید نے اہل حیرہ کے لیے جو عہدنامہ لکھا وہ حقوق معاشرت میں مسلم اور غیرمسلم کی ہمسری کی روشن مثال ہے؛جس کا ترجمہ یہ ہے:
’’اورمیں یہ طے کرتاہوں کہ اگر ذمیوں میں سے کوئی ضعف پیری کی وجہ سے ناکارہ ہوجائے، یا آفت ارضی و سماوی میں سے کسی آفت میں مبتلا ہوجائے، یا ان میں سے کوئی مالدار محتاج ہوجائے اوراس کے اہل مذہب اس کو خیرات دینے لگیں، تو ایسے تمام اشخاص سے جزیہ معاف ہے۔ اور بیت المال ان کی اور ان کی اہل وعیال کی معاش کا کفیل ہے۔ جب تک وہ دارالاسلام میں مقیم رہیں۔‘‘ (اسلام کا اقتصادی نظام)
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دس سالہ دور خلافت کو عدل و انصاف اور رواداری و مساوات کے حوالے سے بہترین نمونے کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔آپ ہی کے عہد حکومت میں بیت المقدس فتح ہوا تو خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی موجودگی میں وہاں کے لوگوں سے درج ذیل معاہدہ ہوا:
’’یہ وہ فرمان ہے جو خدا کے غلام امیرالمومنین نے ایلیاء کے لوگوں کو دیا کہ ان کا مال، گرجا، صلیب، تن درست، بیمار اور ان کے تمام مذہب والوں کے لیے ہیں۔ اس طرح کہ ان کے کلیساؤں میں نہ سکونت کی جائے گی اور نہ وہ ڈھائے جائیں گے۔نہ ان کو اور نہ ان کے احاطے کو نقصان پہنچایا جائے گا، اور نہ ہی ان کی صلیبوں اور ان کے مال میں کچھ کمی کی جائے گی، مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہ کیا جائے گا، ایلیا والوں میں سے جو شخص اپنی جان و مال لے کر یونانیوں کے ساتھ منتقل ہونا چاہے تو ان کو اور ان کے گرجاؤں اور صلیبوں کو امن ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی جائے پناہ تک پہنچ جائے اور جو کچھ اس تحریر میں ہے اس پر خدا کا، رسولؐ کا، خلفاء کا اور مسلمانوں کا ذمہ ہے بہ شرطے کہ وہ لوگ جزیہ مقررہ ادا کرتے رہیں۔‘‘ (الفاروق)
خلیفۂ ثالث حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا عہد حکومت اسلامی فتوحات اور مال و دولت کی فراوانی کے حوالے سے امتیازی شان کا حامل رہا۔اور آپ نے اپنے پیش رو خلفاء کی پیروی کرتے ہوئے ان تمام معاہدوں کو اسی طرح باقی رکھا جس طرح عہدِ رسالت،حضرت ابو بکراور حضرت عمر کے عہد میں تھے۔
ایک مرتبہ غیر مسلموں کی شکایت پر آپؓ نے اپنے گورنرولید بن عتبہ کوایک تادیبی خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا:
’’عراق میں مقیم نجران کے باشندوں کے سردار نے آکر میرے پاس شکایت کی ہے اور مجھے وہ شرط دکھائی ہے جو عمرؓ نے ان کے ساتھ طے کی تھی، میں نے ان کے جزیہ میں سے تیس جوڑوں کی تخفیف کر دی ہے،انھیں میں نے اللہ جَلَّ شَانُہ کی راہ میں بخش دیا ہے،اور وہ ساری زمین دے دی جو عمرؓ نے انھیں یمنی زمین کے عوض صدقہ کی تھی،اب تم ان کے ساتھ بھلائی کرو؛ کیوں کہ یہ ایسے لوگ ہیں جنھیں ذمہ حاصل ہے،عمرؓ نے ان کے لیے جو صحیفہ تیار کیا تھا، اسے غور سے دیکھ لو،اور اس میں جو کچھ درج ہے وہ پورا کرو!‘‘(کتاب الخراج، اردو ترجمہ، بہ حوالہ ماہ نامہ دارالعلوم ستمبر/ اکتوبر2013)
خلیفۂ رابع حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زمانۂ خلافت میں بہت سے فتنے اٹھے اور طرح طرح کی شورشیں برپا ہوئیں؛مگر آپ حکومت کی باگ ڈور سنبھالے رہے اور آپ نے اسلامی حدود کی توسیع کے علاوہ غیرمسلم رعایا کے ساتھ ہم دردی و رواداری کا مظاہرہ کیا۔آپؓ کے عہد میں ایک گورنر کی سخت مزاجی کی بعض شکایات آپؓ کو ملیں تو آپؓ نے فوراً اس کے ازالے کی طرف توجہ فرمائی۔ اسی طرح غیرمسلموں کی آب پاشی کی ایک نہر پَٹ گئی تھی، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے وہاں کے گورنر طرفہ بن کعب کو لکھا کہ: اس نہر کو آباد کرنا مسلمانوں کا فرض ہے۔ میری عمر کی قسم! مجھے اس کا آباد رہنا زیادہ پسند ہے۔ (تاریخ اسلام)
المختصر :خلفائے راشدین کے بابرکت زمانے کے علاوہ بنو امیہ، بنو عباس، بنو عثمان ، اندلس کی مسلم حکومت اور دیگرمسلم بادشاہوں کی حکومتوں میں غیر مسلم جس امن و آزادی کے ساتھ اسلامی ریاست میں زندگی بسر کرتے رہے،اس حوالے سے مسلم حکم رانوں کی رعایا پروری، روا داری اوربرداشت کی سیکڑوں مثالیں نمونے کے طور پر پیش کی جاسکتی ہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*