کیا عدم تشدد اسلامی فلسفہ ہوسکتا ہے؟-یاسر ندیم الواجدی

ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں جمعیت علمائے ہند کے ایک سینئر ذمہ دار ان عناصر اربعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں جنہوں نے جمعیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ وہ اپنی بات کو مؤکّد کرنے کے لیے حضرت مولانا سید محمد میاں رحمہ اللہ کا نام لیتے ہیں کہ حضرت نے اپنے بڑوں کے ساتھ کام کرکے جو کچھ سیکھا وہ اپنی کتابوں میں بیان کردیا۔ مقرر موصوف کے مطابق جمعیت کی تشکیل کا پہلا عنصر عدم تشدد کا فلسفہ ہے۔ ان کی تقریر میں مذکور چوتھے عنصر پر بھی نفع یا نقصان کے حوالے سے بات ہوسکتی ہے، لیکن وہ کوئی دینی مسئلہ نہیں ہے، اس لیے اُس موضوع پر گفتگو کسی اور موقع کے لیے اٹھا رکھی جاتی ہے۔

1915 سے پہلے دنیا سیاسی جد وجہد میں عم تشدد کے فلسفے سے واقف نہیں تھی، بلکہ گاندھی کی کانگریس میں شمولیت کے بعد یہ فلسفہ دنیا کے سامنے آیا۔ گاندھیائی تعلیمات کے ماہرین اس نظریے کو ملک کی آزادی کا کریڈٹ دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ جنگ عظیم دوم میں برطانیہ کی شمولیت نے اس کو اس لائق نہیں چھوڑا تھا کہ وہ اپنے نوآبادیاتی نظام کو عالمی سطح پر برقرار رکھ سکے۔ اگر گاندھی کے عدم تشدد کا فلسفہ بھارت کو آزادی دلانے کا محرک بنا، تو ملیشیا، انڈونیشیا، افغانستان وغیرہ اور ان تمام ممالک سے پہلے امریکہ میں کس گاندھی نے جنم لیا تھا۔ برطانوی استعمار امریکہ اور افغانستان سے بری طرح شکست کھا کر نکلا تھا، جبکہ دیگر ممالک سے یہ اسی مجبوری کی بنا پر نکلا تھا جس کی وجہ سے اس کو بھارت چھوڑنا پڑا تھا۔

لہذا تاریخی اعتبار سے سے عدم تشدد کا فلسفہ ایک ناکام نظریہ ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قومی و ملکی معاملات صرف اور صرف تشدد سے حل ہوں۔ عدم تشدد کے فلسفے کو تنظیم کا عقیدہ اور عنصر بنانے کا مطلب یہ ہے کہ قوت کے استعمال کا ناجائز ہونا جماعت کی پالیسی بن جائے۔ یہ فرق کرنا بہت ضروری ہے کہ جن تنظیموں نے اس غیر فطری فلسفے کو نہیں اپنایا، وہ تشدد کو ہوا دیتی نہیں پھر رہی ہیں، بلکہ وہ اور اس کے افراد ایک نیوٹرل موقف رکھتے ہیں کہ ملک کے قانون کے تحت اگر اپنی عزت و آبرو اور جان و مال کا دفاع کرنا پڑے تو اس سے پیچھے نہیں ہٹنا ہے۔ آئی پی سی کی دفعہ 96 یہ کہتی ہے کہ اپنے دفاع میں اٹھایا گیا کوئی بھی قدم جرم شمار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ غور کرنے کا مقام ہے کہ بھارت کا قانون ہی اگر اپنے مہاتما کے فلسفے کو نہ اپنا سکا ہو، تو ملک میں قائم کسی بھی تنظیم کو یہ غیر فطری فلسفہ اختیار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

حکمت ولی اللہی کے شناور اور حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے دست راست، مولانا عبید اللہ سندھی لکھتے ہیں کہ: "زمانے حال کا یہ سب سے افسوسناک حادثہ ہے کہ عدم تشدد کو جو انقلاب کی تیاری کے لیے بہترین ذریعہ ہے سیاست کا لازمی اور دائمی جزو قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ انسانی سیاست کی قطعی غیر طبعی ترجمانی ہے۔ قرآن حکیم اور اس کی بنیاد پر حکمت امام ولی اللہ اس سے قطعا انکار کرتے ہیں اور قرار دیتے ہیں کہ چونکہ انسان بہیمیت اور ملَکیت سے مرکب ہے، یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ انسان اجتماعی حیثیت سے اپنی ارتقائی زندگی کے کسی دور میں بھی بہیت سے علیحدہ ہو جائے گا۔ اس لیے جنگ جس کے ذریعے سے ملکیت، بہیمیت پر غالب آتی رہے گی، انسانی معاشرے کا لازمی جزو رہے گی۔ انسانیت فقط عدم تشدد یا مصالحت سے کبھی ترقی نہیں کرسکتی، بلکہ ہمیشہ انقلاب سے آگے بڑھتی ہے جس کے لیے تشدد اور عدمِ تشدد دونوں ضروری ہیں”۔ (قرآنی شعور انقلاب، مولانا سندھی، ص625) کتاب کے مرتب مولانا بشیر لدھیانوی اسی صفحہ پر حاشیے میں مولانا سندھی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ: "گاندھی جی کا مستقل عدم تشدد کا نظریہ تباہ کن ہے”۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی دور میں عدم تشدد کی راہ اختیار فرمائی تھی، لیکن بقول مولانا سندھی یہ راہ، انقلاب کی تیاری کے لیے بہترین ذریعہ تھی۔ پھر وہ انقلاب جس کو خلافت کی صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں برپا کیا خود مقصد نہیں تھا، بلکہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے بقول دین کے غلبہ کا ایک ذریعہ تھا۔ تو وقتی طور پر اختیار کردہ عدم تشدد کی پالیسی کو ذریعہ کا ذریعہ تو قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن اس کو مستقل طور پر پالیسی مان لینا یا تشکیل کا عنصر قرار دینا قلب موضوع اور اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔

جمیعت علمائے ہند کے مؤقر ذمہ دار کی تقریر کے اس جزو پر تنقید کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جمعیت کو تشدد کی راہ اپنانے کا مشورہ دیا جارہا ہے، بلکہ اس مخلصانہ نقد کو ایک خلاف عقیدہ نظریے سے دستبردار ہونے کے مشورے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ہمارے اکابر میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حضرت نانوتوی، حضرت شیخ الہند اور جہانِ دیدہ متکلم اسلام مولانا سندھی کی تحریریں اور ان کی عملی زندگی اسی اسوہ نبوی کا تسلسل نظر آتی ہیں جو ہر زمان ومکان میں انسانیت کی کامیابی کا ضامن ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*