عشق و سوز کی بانسری: شکیل اختر دیناج پوری ـ ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

آر ایل ایس وائی کالج، بتیاـ مغربی چمپارن
ایک سیدھا سادہ لڑکا، قد نکلتا ہوا، رنگ سانولا،آنکھوں پہ چشمہ، جسم پہ معمولی لباس و پوشاک، سر پہ گول ٹوپی، بغل میں کتاب دبائے، کبھی تیزی سے مدرسہ ثانویہ کی طرف جارہا ہے تو کبھی مسجدِ رشید کی طرف ڈگ بھر رہا تو کبھی صدر دروازے اور کبھی درسگاہ کی جانب بھاگتا دکھائی دے رہا، اس کا سراپا کسی کو نظر آئے یا نہ آئے لیکن بھڑ میں بھی اس کی خلوص بھری اور اجلی مسکراہٹ ہر کسی کو نظر آجاتی،اس کے تبسّم کی یہ چاندنی ہر نظر کو خیرہ کیے دیتی تھی.یوں تو وہ مستند عالم دین اور فاضل دیوبند تھے،فن قرأت میں حذاقت اور اس فن سے خاص شغف رکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں وہ قاری شکیل سے جانے جاتے تھے لیکن بطور مداح رسول ان کی اصل شناخت تھی. ان کی آواز کا جادو سر چڑھ کر کر بولتا تھا. ویسے تو بہت سے لوگ نغمہ سرائی اور نعت خوانی سے اشتغال رکھتے ہیں لیکن حقیقی معنوں میں عشقِ نبی سے سرشار دل و دماغ اور پرسوز آواز کی بانسری مل جائے ایسا کم دیکھنے کو ملتا ہے. شکیل دیناج پوری مرحوم کا سینہ عشقِ نبی سے معمور تھا اور آواز میں غضب کا سوز، سوز و ساز کے اس آمیزے سے جب کوئی نعت یا نظم صوتی پیکر اختیار کرتی تو کئی سننے والوں کے دل موم ہوجاتے، کئی آنکھیں بہہ پڑتیں اور کئی لوگ اپنے گریباں چاک کر لیتےـ
شکیل مجھ سے ایک سال جونیئر تھے، ان سے کبھی میری قربت رہی نہ بے تکلفی تاہم وہ بڑے احترام سے پیش آتے اور میں بھی اپنے دل میں ان کی قدر و محبت پاتا.ان کے ساتھ شب و روز گزارنے والوں سے معلوم ہوا کہ قاری شکیل انتہائی متقی، عبادت گزار، ایثار کرنے والے آدمی تھے، انھوں نے نعت نبی یا تعمیری نظم کو آواز دینے کی ٹھانی تو عشقیہ غزل اور گانوں کو ہاتھ تک نہیں لگایا. استاذ محترم حضرت مولانا ریاست علی بجنوری علیہ الرحمہ کا خلق کردہ ترانۂ دار العلوم دیوبند جسے مولانا احمد سجاد قاسمی اور ان کی ٹیم(مولانا محمد اسلام قاسمی، مولانا سعید فیض آبادی)نے 1978میں دھن اور آواز دی تھی جو آج تک جاری ہے.بلا مبالغہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اکیسویں صدی کے گزشتہ بیس برسوں میں ترانۂ دار العلوم دیوبند اور شکیل دیناج پوری دونوں ایک دوسرے کا لازمہ تھے. کسی ایک کا تصور دوسرے کے بغیر محال تھاـ
شکیل مرحوم بڑے خوددار، غیرت مند، شاکر و صابر اور تقویٰ و طہارت والے ایک خوبصورت انسان تھے. وہ لوگوں کو ہنسانا تو جانتے تھے لیکن کسی کی دل آزاری سے وہ ناواقف تھے. مولیٰ! مرحوم کی بال بال مغفرت فرما ،درجات بلند فرما اور ان کے بچوں کی کفالت کی بہتر سبیل پیدا فرماـ